021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم
72271جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم رحمۃ اللہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں :

مفتی صاحب میں دبئی میں کام کرتاہوں ،مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ موبائیل پلے سٹور (Play store) پر ایک Appموجو دہے  جس کا نام (binance)بائیننس  ہے ۔اس میں مختلف ورچوئیل کرنسیاں ہوتی ہیں جس کو لوگ خریدتے بیچتے ہیں اور  اس سے نفع کماتے ہیں ،یعنی اس میں آن لائن ٹریڈنگ ہوتی ہے۔

اس میں ٹریڈنگ کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ پہلے اپنا اکاؤنٹ بنانا پڑتاہے اور پھر اس میں ڈالر ڈال دیے جاتے ہیں، اور اس کے ذریعے سے  مختلف کرنسیاں  مثلاً  بٹ کوائن ،کرپٹوکرنسی ،اے ڈی اے،ڈاش،این ایکس ٹی اور فیتھر کوائن  خریدی جاسکتی ہے۔

ایک کرپٹو کرنسی کی قیمت کم از کم پچاس ڈالر سے شروع ہوتی ہے اورپھر جو جتنے ڈالر کے خریدنا چاہےخرید سکتا ہے ۔جب  کرنسی کی طلب بڑھ  جاتی ہے  تو اس کےساتھ قیمت بھی بڑھ جاتی ہے تو  لوگ اس کو بیچنے لگتے ہیں جس سے  ان کو نفع ہوجاتا ہے اور جب طلب کم ہوجاتی ہے  تو اس کی قیمت میں بھی کمی آجاتی ہے،جس سے لوگوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔

لیکن اس کی ایک حد مقرر ہوتی ہے کہ اگر اس سے بھی قیمت کم ہوجائے تو اس کو اسٹیبل(stable) کرنے کے لیے اکاؤنٹ میں مزید ڈالر ڈالنا ضروری ہوتاہے ورنہ سارے ڈالر ڈوب جاتے  ہیں۔

اب اس ایپ میں  آن لائن ان کرنسیوں کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟


                                                  

o

کرپٹوکرنسیاں مثلاًبٹ کوئین،ایتھریم، اے ڈی اے،ڈاش،این ایکس ٹی اور ون کوئین وغیرہ  جتنی بھی اس وقت وجودمیں آچکی ہیں، اور ایک مخصوص طبقہ نے اس کی خرید و فروخت بھی شروع کردی ہے، ان سے متعلق علمائےکرام کا فنی اور فقہی لحاظ سے غور وفکر جاری اور یہ  معاملہ تاحال مشتبہ اور زیرِِتحقیق ہے، لہذاان کرنسیوں کے جواز و عدم جواز کا حتمی فیصلہ آنے تک اس سے پرہیز کیا جائے ، اسی میں بہتری ہوگی۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1219)
 سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ( وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه ) ( إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه.
البناية شرح الهداية (4/ 106)
عن ابن عمر - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عن النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: «الحلال بين والحرام بين، ودع ما يريبك إلى ما لا يريبك» . انتهى قوله ما يريبك من رابه ريباً شككه، والريبة الشك والتهمة أي دع ما يشكك ويحصل فيك الريبة وهي في الأصل قلق النفس [......] سكنت واطمأنت.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 198)
الخلو من شبهة الربا لأن الشبهة ملحقة بالحقيقة في باب الحرمات احتياطا، وأصله ما روي عن رسول الله  صلى الله عليه وسلم  أنه قال لوابصة بن معبد - رضي الله عنه -: «الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات، فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك» ، وعلى هذا يخرج ما إذا باع رجل شيئا نقدا أو نسيئة، وقبضه المشتري ولم ينقد ثمنه - أنه لا يجوز لبائعه أن يشتريه من مشتريه بأقل من ثمنه الذي باعه منه عندنا۔
 

وقاراحمد بن اجبرخان

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

۱۹رجب المرجب۱۴۴۲

n

مجیب

وقار احمد بن محمد اشرف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔