021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یوٹیوب کی کمائی کاحکم
74807جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیاتمام شرائط(آپ نےجویوٹیوب کی  کمائی کی تفصیل لکھی ہے)کا لحاظ کرکے یوٹیوب کی کمائی مشتبہ سےنکل کربالکل حلال ہوجاتی ہے؟

o

یوٹیوب چینل سے حاصل ہونےوالی کمائی درج ذیل شرائط کے ساتھ جائزہے:

  1. چینل کسی جائز مقصد کےلیےبنایاگیاہو۔
  2. چینل میں کسی قسم کی خلاف شرع ویڈیوزاور مواد اپلوڈ نہ کیا جاتاہو۔
  3. اپنے چینل میں ایسےاشتہارات کوفلٹرزکردیاجائےجوخلاف شرع ہو(یعنی خلاف شرع اشتہارات نہ چلتے ہوں) ۔
  4. کسی جائز کاروباریاپروڈکٹ سےمتعلق اشتہارات چلتےہوں۔
  5. اشتہارات کی فلٹریشن کےباوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کےبغیراگرخلاف شرع یاناجائز کاروباراور پروڈکٹ کےاشتہارات چلائی گئی ہوں،توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کرناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔

مذکورہ شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے یوٹیوب سے حاصل ہونےوالی انکم اور کمائی حلال ہے،مشتبہ مال  میں داخل نہیں ہے۔

حوالہ جات

(فی القرآن الکریم)
احل اللہ البیع وحرم الربو(الآیۃ)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (الآیۃ)
(فقہ البیوع1/325)
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعی ، وعامة المشترين
يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة ، وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك . فبما أن استعماله في مباح ممكن ، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقاً ، إلا إذا تعين بيعه لمحظور ، ولكن نظراً إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا ، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة ، إلا إذا هيأ الله سبحانه جواً يتمخض أويكثر فيه استعماله المباح ، والله سبحانه وتعالى أعلم .

محمدعمربن حسین احمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

5ربیع الثانی 1443ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔