021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میقات سے بغیر احرام کے گزرنا
75369حج کے احکام ومسائلمیقات کابیان

سوال

حدودِحرم سے بغیر احرام کے جانا کیسا ہے ؟اگر کوئی بندہ کمانے کی نیت سے سعودیہ جارہا ہے ،اگر وہ حرم کراس کرے تو کوئی گناہ یا دم وغیرہ ہے یا نہیں ؟

o

جب بھی کوئی شخص حدودِ حرم میں داخل ہونے کی نیت سے میقات سے گزرتا  ہے تو اس پر حج یا عمرہ  کا  احرام  واجب ہوجاتا ہے ،صرف بکثرت حرم میں آنے جانے والوں کے لیے گنجائش ہوتی ہے ۔ یہ شخص کیونکہ  کبھی کبھی  جاتا ہے ،لہذا اس کے لیے احرام  ضروری ہوگا  ۔البتہ اگر اسے میقات  اور حدودِ حرم کے درمیان  کسی علاقے میں کسی کام  سے رکنا  ہو تو کیونکہ یہ میقات سے براہِ راست حرم جانے کی نیت سے نہیں گزرا لہذا ایسی صورت میں اس پر احرام باندھنا ضروری نہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفي رحمۃ اللہ علیہ:(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة. (ردالمحتار:2/476)
أنه ‌لا ‌يجوز تأخير الإحرام لمريد النسك عن ذلك الموضع إلا لضرورة ولا خلاف في ذلك لمن أراد النسك وأما من لم يرده وأراد دخول مكة فإنه على ضربين:
أحدهما: أن يكون دخوله مكة يتكرر كالأكرياء والحطابين فهؤلاء لا بأس بدخولهم مكة بغير إحرام ولا خلاف في ذلك؛ لأن المشقة تلحقهم بتكرر الإحرام والإتيان بجميع النسك.
(المنتقی شرح المؤطا:2/205)

محمد طلحہ شیخوپوری

دار الافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی

 جمادی الاولی /1443ھ

n

مجیب

محمد طلحہ بن محمد اسلم شیخوپوری

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔