021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آیت "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی” کی تفسیر اور ایصالِ ثواب کا حکم
75121قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

خلاصۂ سوال:

بعض علماء قرآنی آیت "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی" سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میت کو قرآن خوانی کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ یہ مردہ کا عمل نہیں، عبادات اور قربات کے لیے نص ہونا ضروری ہے، اس میں رائے اور قیاس نہیں چل سکتا، قرآن خوانی کی طرف نہ نص یا اشارۃ النص سے راہنمائی ملتی ہے، نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی ترغیب دی ہے، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ منقول ہے، اگر یہ عملِ خیر ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ضرور اختیار کرتے۔ البتہ دعا، صدقہ، اور خیرات کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے، اس پر تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے؛ کیونکہ یہ شارع کی طرف سے منصوص ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قرآن خوانی کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یا نہیں؟ "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی" کا تعلق دنیا سے ہے یا آخرت سے؟ کیونکہ اگر قرآن سے عملِ خیر ہونے کی نفی کردی جائے تو پھر دعا، صدقہ اور خیرات کی کیا حیثیت ہے؟  پھر تو انسان کو کسی چیز کا بھی نفع نہیں پہنچ سکتا، سوائے دنیا میں خود کیے ہوئے کاموں کے۔  حالانکہ دعا، اور صدقہ و خیرات کا ثواب میت کو پہنچنا حدیث سے ثابت ہے، ہر ہر چیز کا بیان کرنا ضروری تو نہیں، ورنہ پھر قیاس کی کیا ضرورت تھی؟ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے امت کی طرف سے قربانی کی تھی، وہ بھی تو امت کا عمل نہیں تھا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عام مسلمانوں کی طرف سے کیوں فرمایا؟

اس بارے میں صحیح بات کی وضاحت کریں تاکہ لوگ شک و شبہہ میں نہ پڑیں۔

o

واضح رہے کہ نفسِ ایصالِ ثواب کے ثبوت اور جواز پر اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے۔ متعدد قرآنی آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن کے حق میں شفاعت مقبول ہے، اس کے لیے دعا درست ہے، اسی طرح اگر کوئی اس کی طرف سے صدقہ دے تو اسے اس کا ثواب پہنچتا ہے، یہ تمام امور اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص نیک عمل کر کے مسلمان میت کو اس کا ثواب بخش دے تو اس کا ثواب اسے پہنچتا ہے۔ خالص بدنی اعمال، مثلا نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر کے ایصالِ ثواب کے بارے میں حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے اختلاف فرمایا ہے، وہ اس کے قائل نہیں، لیکن حضراتِ حنفیہ کے نزدیک دیگر نیک اعمال کی طرح بدنی اعمال نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر وغیرہ کا ایصالِ ثواب بھی بلاشبہہ درست ہے، چنانچہ مسندِ احمد کی ایک روایت میں ہے کہ عاص بن وائل نے سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، اس کے ایک بیٹے ہشام نے اس کی طرف سے پچاس اونٹ ذبح کیے، دوسرے بیٹے عمرو بن العاص نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر آپ کے والد ایمان لاتے تو آپ کا ان کی طرف سے روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا ان کو فائدہ پہنچاتا۔ اس حدیث میں صدقہ کے ساتھ روزے کا بیان بھی ہے جو خالص بدنی عبادت ہے۔ اسی طرح میت کو دعا کا نفع پہنچنا قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ کریمہ سے صراحتا ثابت ہے، جبکہ دعا خالص بدنی عبادت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔  

 لہٰذا انفرادی طور پر قرآن کریم کی تلاوت کے ایصالِ ثواب جائز ہونے میں کوئی شبہہ نہیں، اسی طرح اگر کسی قسم کے رسمی التزام کے بغیر چند افراد اکٹھے بیٹھ کر ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن پڑھیں تو یہ بھی درست ہے۔ البتہ اجتماعی قرآن خوانی ثابت نہیں، اور اس کا مروجہ طریقہ متعدد مفاسد پر مشتمل ہونے کی بنا پر درست نہیں، اس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔  

جہاں تک آیتِ کریمہ "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی" کا تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مومن کو دوسرے شخص کے عمل کا ثواب کسی صورت میں نہیں مل سکتا، یہ مطلب مراد نہ ہونے کی دلیل قرآن اور حدیث کے وہ نصوص ہیں جن سے ایصالِ ثواب ثابت ہوتا ہے۔

پھر اس آیت کا درست مفہوم کیا ہے؟ مفسرین نے اس کی متعدد تشریحات بیان کی ہیں، چند ایک یہاں نقل کی جاتی ہیں:

(1)۔۔۔ ایک آسان اور بے غبار تشریح یہ ہے کہ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ انسان کو اپنے عمل کے سوا کسی عمل سے نفع نہیں پہنچے گا ، بلکہ فرمایا ہے کہ انسان کا حق صرف وہی عمل ہے جو اس نے خود کیا ہو۔ اور یہ بات بلاشبہہ درست ہے کہ انسان کا حق وہی عمل ہے جو اس نے خود کیا ہو، کسی اور شخص کا عمل اس کا حق نہیں۔ لیکن حق دار نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسے کسی اور کے عمل کا ثواب پہنچ ہی نہیں سکتا، بلکہ اگر کوئی اور اسے اپنے عمل کا ثواب بخشے تو اسے ثواب پہنچے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے انسان صرف اپنے مال کا مالک اور حق دار ہوتا ہے، کسی دوسرے انسان کے مال کا مالک اور حق دار نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دوسرا آدمی خود اپنا مال اسے دیدے تو پھر وہ اس سے بلاشبہہ نفع اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح اعمال میں بھی ہر انسان صرف اپنے عمل کا مالک ہے، لیکن اگر کوئی اور اسے اپنا عمل بخش دے تو پھر اس کا فائدہ اور ثواب اسے ملے گا۔

خلاصہ یہ کہ اس آیت میں استحقاق کا بیان ہے، اور ایصالِ ثواب میت کا استحقاق نہیں ہوتا، بلکہ ایصالِ ثواب کرنے والے کی طرف سے تبرع اور احسان ہوتا ہے؛ لہٰذا اس آیتِ کریمہ سے ایصالِ ثواب کی نفی پر استدلال درست نہیں۔

(2)۔۔۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ آیت، سورۃ الطور کی مندرجہ ذیل آیت سے منسوخ ہوگئی ہے:

{وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ } الآیة [الطور: 21]

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہے، تو ان کی اولاد کو ہم انہی کے ساتھ شامل کردیں گے، اور ان کے عمل میں سے کسی چیز کی کمی نہیں کریں گے۔  

(3)۔۔۔ تیسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ آیت کفار کے ساتھ خاص ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو انہیں دوسرے مسلمانوں کے عمل سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے:

{وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ }{يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ}   {إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ}

[الشعراء: 89-88-87]

ترجمہ: اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا نہ کوئی اولاد۔ سوائے اس شخص کے جو اللہ کے پاس (شرک سے) پاک دل لے کر آجائے۔ 

اس تفسیر کے مطابق چونکہ مومن کا دل شرک سے پاک ہوتا ہے، اس لیے سورۃ الشعراء کی مندرجہ  بالا آیات کی روشنی میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمانوں کے عمل سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، اور  آیتِ کریمہ "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی"  کفار کے ساتھ خاص ہے۔

(4)۔۔۔ چوتھی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ انسان کو دوسرے کے عمل کا ثواب تب پہنچتا ہے جب عمل کرنے والا اسے ثواب بخشے، اگر عمل کرنے والا ثواب نہ بخشے تو اسے ثواب نہیں پہنچتا۔ اور جب عمل کرنے والا اسے ثواب بخشتا ہے تو وہ اس کے وکیل کے بمنزلہ ہوجاتا ہے، اور وکیل کا عمل حکماً مؤکل کا عمل شمار ہوتا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں میت کو حکما اپنے ہی عمل کا ثواب پہنچا۔ پس ایصالِ ثواب اس آیت کے منافی نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق اس آیتِ کریمہ میں "سعی" عام ہے، جس میں سعی حقیقی اور سعی حکمی دونوں داخل ہیں۔

(5)۔۔۔ ایک اور آسان تشریح حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے تفسیر معارف القرآن میں لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں:-

دوسرا حکم ہے "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی"، اس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی دوسرے کا عذاب اپنے سر نہیں لے سکتا، اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ کسی دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرلے اور وہ اس عمل سے سبکدوش ہوجائے، مثلا ایک شخص دوسرے کی طرف سے نمازِ فرض ادا کردے یا دوسرے کی طرف سے فرض روزہ رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض نماز و روزے سے سبکدوش ہوجائے، یا یہ کہ ایک شخص دوسرے کی طرف سے ایمان قبول کرلے اور اس سے اس کو مومن قرار دیا جائے۔

آیتِ مذکورہ کی اس تفسیر پر کوئی فقہی اشکال اور شبہہ عائد نہیں ہوتا………………. جبکہ اوپر یہ معلوم ہوچکا کہ آیتِ مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے فرائض، ایمان، نماز و روزہ کو ادا کر کے دوسرے کو سبکدوش نہیں کرسکتا، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شخص کے نفلی عمل کا کوئی فائدہ اور ثواب دوسرے کو نہ پہنچ سکے، ایک شخص کی دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے شخص کو پہنچنا نصوصِ شرعیہ سے ثابت اور تمام امت کے نزدیک اجماعی مسئلہ ہے۔ (ابنِ کثیر)

صرف اس مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے کہ تلاوتِ قرآن کا ثواب کسی دوسرے کو بخشا اور پہنچایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کا انکار کرتے ہیں اور آیتِ مذکورہ کا مفہوم عام لے کر اس سے استدلال فرماتے ہیں۔ جمہور ائمہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جس طرح دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے کو پہنچایا جاسکتا ہے، اسی طرح تلاوتِ قرآن اور ہر نفلی عبادت کا ثواب دوسرے شخص کو بخشا جاسکتا ہے اور وہ اس کو ملے گا۔ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ احادیثِ کثیرہ اس پر شاہد ہیں کہ مومن کو دوسرے شخص کی طرف سے عملِ صالح کا ثواب پہنچتا ہے۔ تفسیرِ مظہری میں اس جگہ ان احادیث کو جمع کردیا ہے جن سے ایصالِ ثواب کا فائدہ دوسرے کو پہنچنا ثابت ہوتا ہے۔ (معارف القرآن:8/219)

حوالہ جات

صحيح مسلم (3/ 1255-1245):
باب وصول ثواب الصدقات إلى الميت:
عن عائشة أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إن أمي افتلتت نفسها ولم توص، وأظنها لو تكلمت تصدقت، أفلها أجر إن تصدقت عنها؟ قال: نعم.
باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته: …..عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة، إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له.
مسند أحمد (11/ 307):
حدثنا هشيم أخبرنا حجاج حدثنا عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن العاص بن وائل نذر في الجاهلية أن ينحر مائة بدنة وأن هشام بن العاص نحر حصته خمسين بدنة، وأن عمرا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: أما أبوك فلو كان أقر بالتوحيد فصمت وتصدقت عنه نفعه ذلك.
شرح النووي على مسلم (1/ 89):
وأما قوله "ليس في الصدقة اختلاف" فمعناه أن هذا الحديث لا يحتج به، ولكن من أراد بر والديه فليتصدق عنهما؛ فإن الصدقة تصل إلى الميت وينتفع بها بلا خلاف بين المسلمين، وهذا هو الصواب. وأما ما حكاه أقضى القضاة أبو الحسن الماوردى البصرى الفقيه الشافعى فى كتابه الحاوى عن بعض أصحاب الكلام من أن الميت لا يلحقه بعد موته ثواب فهو مذهب باطل قطعا وخطأ بين مخالف لنصوص الكتاب والسنة وإجماع الأمة، فلا التفات إليه ولا تعريج عليه. وأما الصلاة والصوم فمذهب الشافعى وجماهير العلماء أنه لا يصل ثوابهما إلى الميت، إلا اذا كان الصوم واجبا على الميت فقضاه عنه وليه أو من أذن له الولي، فإن فيه قولين للشافعى، أشهرهما عنه أنه لا يصح، وأصحهما عند محققى متأخرى أصحابه أنه يصح، وستأتى المسألة فى كتاب الصيام ان شاء الله تعالى. وأما قراءة القرآن فالمشهور من مذهب الشافعى أنه لا يصل ثوابها إلى الميت، وقال بعض أصحابه يصل ثوابها إلى الميت.
وذهب جماعات من العلماء إلى أنه يصل إلى الميت ثواب جميع العبادات من الصلاة والصوم والقراءة وغير ذلك. وفى صحيح البخارى فى باب من مات وعليه نذر أن ابن عمر أمر من ماتت أمها وعليها صلاة أن تصلى عنها، وحكى صاحب الحاوى عن عطاء بن أبى رباح و إسحاق بن راهویه أنهما قالا بجواز الصلاة عن المیت، و قال الشیخ أبو سعید عبد الله بن محمد بن هبة الله بن أبى عصرون من أصحابنا المتأخرين فى كتابه الانتصار إلى اختيار هذا، وقال الإمام أبو محمد البغوى من أصحابنا فى كتابه "التهذيب" : لا يبعد أن يطعم عن كل صلاة مد من طعام
وكل هذه المذاهب ضعيفة، ودليلهم القياس على الدعاء والصدقة والحج، فإنها تصل بالاجماع، ودليل الشافعى وموافقيه قول الله تعالى "وأن ليس للانسان إلا ما سعى" وقول النبى صلى الله عليه و سلم "إذا مات ابن آدم انقطع عمله إلا من ثلاث، صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له".
فتح الملهم (5/70-68):
قوله "قال: نعم" الخ، فیه جواز الصدقة عن المیت، و أن ذلك ینفعه بوصول ثواب الصدقة إلیه، و لا سیما إن کان من الولد………………….. قال الشیخ ابن الهمام رحمه الله(فی بدایة شرح باب الحج عن الغیر:3/65): "وتمسكوا بقوله تعالى { وأن ليس للإنسان إلا ما سعى } وسعي لغيره ليس سعيه وهي وإن كانت مسوقة قصا لما في صحف إبراهيم وموسى عليهما السلام فحيث لم يتعقب بإنكار كان شريعة لنا على ما عرف. والجواب أنها وإن كانت ظاهرة فيما قالوه لكن يحتمل أنها نسخت أو مقيدة، وقد ثبت ما يوجب المصير إلى ذلك، وهو ما رواه المصنف، و ما في الصحيحين أنه صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته، والملحة بياض يشوبه شعرات سود.
 وفي سنن ابن ماجه بسنده عن عائشة وأبي هريرة رضي الله عنهما: أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يضحي يشتري كبشين عظيمين سمينين أقرنين أملحين موجوئين فذبح أحدهما عن أمته ممن شهد لله بالوحداينة وله بالبلاغ وذبح الآخر عن محمد وآل محمد، ورواه أحمد والحاكم والطبراني في الأوسط عن أبي هريرة رضي الله عنه.
وأخرج أبو نعيم في ترجمة ابن المبارك عنه عن يحيى بن عبد الله عن أبيه سمعت عن أبی هريرة يقول: ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبشين أقرنين أملحين موجوئين فلما وجههما قال: { إني وجهت وجهي} الآية، اللهم ! لك ومنك عن محمد وأمته باسم الله والله أكبر ثم ذبح. ورواه الحاكم وقال: صحيح على شرط مسلم بنقص في المتن.
ورواه ابن أبي شيبة عن جابر أنه صلى الله عليه وسلم أتى بكبشين أملحين عظيمين أقرنين موجوئين فأضجع أحدهما وقال: بسم الله والله أكبر اللهم عن محمد وآل محمد، ثم أضجعالآخر وقال: باسم الله والله أكبر اللهم عن محمد وأمته ممن شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ.
وكذا رواه إسحاق وأبو يعلى في مسنديهما، وروى هذا المعنى من حديث أبي رافع رواه أحمد وإسحاق والطبراني والبزار والحاكم، ومن حديث حذيفة بن أسيد الغفاري أخرجه الحاكم فی الفضائل، و من حدیث أبی طلحة الأنصاری رواه ابن أبی شیبة، و من طریقه رواه أبو يعلى والطبراني، ومن حديث أنس بن مالك رواه ابن أبي شيبة أيضا والدارقطني.
   فقد روى هذا عن عدة من الصحابة وانتشر مخرجوه، فلا يبعد أن يكون القدر المشترك وهو أنه ضحى عن أمته مشهورا يجوز تقييد الكتاب به بما لم يجعله صاحبهثم ننظر إليه وإلى حدیث الباب، و إلی ما رواه أحمد عن عبد الله بن عمرو: أن العاص بن وائل نذر فی الجاهلیة أن ینحر مئة بدنة، و أن هشام بن العاص نحر حصته خمسین، و أن عمرا سأل النبی صلی الله علیه و سلم عن ذلك، فقال: أما أبوك فلو أقر بالتوحید فصمت و تصدقت عنه نفعه ذلكو ما رواه البخاری و غیره عن ابن عباس: أن رجلا قال لرسول الله صلی الله علیه و سلم: إن أمی توفیت، أ ینفعها إن تصدقت عنها؟ قال: نعم، قال: إن لی مخرفا، فأنا أشهدك أنی قد تصدقت به عنها.
و ما رواه أحمد و النسائی عن الحسن عن سعد بن عبادة: أن أمه ماتت فقال: یا رسول الله! إن أمی ماتت، أ فأتصدق عنها؟ قال: نعم! قلت: فأی الصدقة أفضل؟ قال: سقی الماء، قال الحسن فتلك سقایة آل سعد بالمدینة.  و ما روی الدارقطني أن رجلا قال: یا رسول الله ! إنه كان لي أبوان، أبرهما حال حياتهما، فكيف لي ببرهما بعد موتهما؟ فقال صلى الله عليه وسلم: إن من البر بعد الموت أن تصلي لهما مع صلواتك وتصوم لهما مع صيامك"
فهذه الأثار وما قبلها وما في السنة أيضا من نحوها كثير قد تركناه لحال الطول، يبلغ القدر المشترك بين الكل، وهو أن من جعل شيئا من الصالحات لغيره نفعه الله به مبلغ التواتر.
 وكذا ما في كتاب الله تعالى من الأمر بالدعاء للوالدين في قوله تعالى" وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا "، ومن الإخبار باستغفار الملائكة للمؤمنين و استغفار المؤمنین لإخوانهم الذین سبقوهم بالإیمان، و کذا قوله تعالیٰ "و الذین آمنوا و اتبعتهم ذریتهم بإیمان ألحقنا بهم ذریتهم و ما ألتنٰهم من عملهم من شیئ" قطعی فی حصول الانتفاع بعمل الغیر، فیخالف ظاهر الآیة التی استدلو بها؛ إذ ظاهرها أنه لا ینفع استغفار أحد لأحد بوجه من الوجوه؛ لأنه لیس من سعیه، فلا یکون له منه شیئ، فقطعنا بانتفاء إرادة ظاهرها علی صرافته، فتتقید بما لم یهبه العامل، و هو أولی من النسخ.
قلت: و الذی یبعث المؤمن علی إهداء الثواب لأخیه المؤمن إما إحسان المهدی له إلی المهدی فی دینه أو دنیاه، و إما مجرد عظمته و محبته فی القلوب لما علم من اتصافه بمعالی الأمور و مکارم الأخلاق و کونه ذریعة للخیر و وسیلة للهدایة و الفلاح، و لا أقل من اتصافه بالإیمان و ما یتبعه من الأعمال حسب ما وفق له، فلیس منشأ إهداء الثواب فی جمیع هذه الصور إلا عمل من أعمال المهدی له القلبیة أو القالبیة؛ فإنه هو الباعث علیه و المحرك لدواعی الإهداء فی قلب المهدی، و لو لا إیمان المهدی له لما اجترأ مؤمن علی إیصال الثواب إلیه، فالإهداء إنما یتسبب من إیمانه و حسناته، و لا شبهة فی أن أعمال المهدی له کلها داخلة فی "ما سعی"، فلم یتجاوز ما وصل إلیه من الثواب عن سعیه فی آخر الأمر، بل کل ثواب یصل إلیه من برکات إیمانه و ثمرات حسناته بالحقیقة، و الکافر لما کان صفر الیدین من الإیمان و لم یکن له سعی فیه و فی ما یتبعه من الإیمانیات لم یبق مساغ لوصول الثواب إلیه و لو أهدی أحد إلیه بجهله و سفهه، کما تقدم فی حدیث عبد الله بن عمرو بن العاص، و الله أعلم.
وقد ثبت في ضمن إبطالنا لقول المعتزلة انتفاء قول الشافعي ومالك رحمهما الله في العبادات البدنية بما في الآثار، والله سبحانه هو الموفق.
تکملة فتح الملهم (2/115):
(قوله "قال نعم")……………….. ربما ینکر المعتزلة و من وافقهم فی عصر نا من الفرق الباطلۃ وصول الثواب إلی المیت علی أساس قوله تعالیٰ: "لیس للإنسان إلا ما سعی". و قد أجاب عنه شیخنا العثمانی رحمه الله فی کتاب الزکاة بأنه قیدته الأحادیث المشهورة أو خصصته بغیر إیصال الثواب، أو بأن إهداء الثواب إنما یکون لإیمان المهدی إلیه و عمله الصالح، فهو من جملة ما سعی فی حیاته، و عبره شیخ مشایخنا الگنگوهی قدس سره بأن المراد فی الآیة هو السعی الإیمانی، و کل من هذه الأجوبة صحیح سائغ.
و لکن الأحسن عندی ما أجاب به ابن الصلاح رحمه الله فی فتاواه ص 9، فقال: "لا حق له و لا جزاء إلا فی ما یسعی، و لا یدخل فیه ما یتبرع به الغیر من قراءة أو دعاء، و إنه لا حق له فی ذلك و لا مجازاة، و إنما أعطاه الغیر تبرعا، و أوضحه العلامة ابن تیمیة فی فتاواه :7/499 بقوله "لیس له إلا سعیه، و هذا حق؛ فإنه لا یملك و لا یستحق إلا سعی نفسه، و أما سعی غیره فلا یملکه و لا یستحقه، لکن هذا لا یمنع أن ینفعه الله و یرحمه به". و قال فی موضع آخر من فتاواه: 24/367 " لکن الجواب المحقق فی ذلك أن الله تعالی لم یقل: إن الإنسان لا ینتفع إلا بسعی نفسه، و إنما قال: لیس للإنسان إلا ما سعی، فهو لا یملك إلا سعیه و لا یستحق غیر ذلك. و أما سعی غیره فهو له، کما أن الإنسان لا یملك إلا مال نفسه و نفع نفسه، فمال غیره و نفع  غیره هو کذلك للغیر، لکن إذا تبرع له الغیر بذلك جاز. و هکذا إذا تبرع له الغیر بسعیه نفعه الله بذلك کما ینفعه بدعائه له و الصدقة عنه، و هو ینتفع بکل ما یصل إلیه من کل مسلم، سواء کان من أقاربه أو غیره، کما ینتفع بصلاة المصلین علیه و دعائهم له عند قبره".
و ذکر ابن تیمیۃ رحمه الله فی رسالته فی شرح حدیث أبی ذر أنه قد بین فی غیر موضع نحوا من ثلاثین دلیلا شرعیا یبین انتفاع الإنسان بسعی غیره؛ إذ الآیة إنما نفت استحقاق السعی و ملکه، و لیس کل ما لایستحقه الإنسان و لا یملکه لا یجوز أن یحسن إلیه مالکه و مستحقه بما ینتفع به منه. راجع له مجموعة الرسائل المنیریة:3/209. و هذا عندی أحسن ما قیل فی هذا الباب، و الله سبحانه أعلم.
فتاوی ابن الصلاح (149):
4- مسألة: فی قوله تعالیٰ "و أن لیس للإنسان إلا ما سعی". و قد ثبت أن أعمال البدل لا تنتقل، و قد ورد عن النبی صلی الله علیه و سلم: "إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاثة: صدقة جاریة، أو علم ینتفع به، أو ولد صالح یدعو له.
و قد اختلف فی القرآن هل یصل إلی المیت أم لا؟ کیف یکون الدعاء یصل إلیه و القرآن أفضل؟
أجاب –رضی الله عنه-: هذا قد اختلف فیه، و أهل الخیر وجدوا البرکة فی مواصلة الأموات بالقرآن، و لیس الاختلاف فی هذه المسألة کالاختلاف فی الأصول، بل هی من مسائل الفروع، و لیس نص الآیة المذکورة دالا علی بطلان قول من قال: أنه یصل؛ فإن المراد أنه لا حق له و لا جزاء إلا فیما سعی، فلا یدخل فیما یتبرع علیه الغیر من قراءة أو دعاء؛ فإنه لا حق له فی ذلك و لا مجازاة، و إنما أعطاه إیاه الغیر تبرع، و کذلك الحدیث لا یدل علی بطلان قوله؛ فإنه فی عمله، و هذا عمل غیره.
أحکام القرآن للتهانوی (5/7-6):
و احتج الإمام الشافعی رحمه الله بهذه الآیة أن ثواب القراءة لا یصل إلی الموتی، و ذهب الجمهور إلی القول بالوصول. قال الشیخ زاده –رزقه الله الحسنی و زیادة- فی حاشیة البیضاوی: قال الشیخ تقی الدین أبو العباس: من اعتقد أن الانسان لا ینتفع إلا بعمله فقد خرق الإجماع، و ذلك باطل؛ فإن الأمة قد أجمعوا علی أن الإنسان ینتفع بدعاء غیره، و هو انتفاع بعمل الغیر. و أیضا إنه علیه الصلاة و السلام یشفع لأهل الکبائر فی الإخراج من النار،
و هذا انتفاع بسعی الغیر. و أیضا الملائکة یدعون و یستغفرون لمن فی الأرض. و أیضا أولاد المؤمنین یدخلون الجنة بعمل آباءهم، و ذلك انتفاع بمحض عمل الغیر. و کذا المیت ینتفع بالصدقة عنه و بالعتق عنه بنص السنة و الإجماع. انتهی کلامه ملخصا.
و بالجملة قد ورد فی الکتاب و السنة ما هو قطعی فی حصول الانتفاع بعمل الغیر، و هو ینافی ظاهر هذه الآیة، فلا بد من توجیهها لئلا یخالف الکتاب و السنة و إجماع الأمة، فذکروا له وجوها:-
الأول: إن اللام فی قوله تعالی "للإنسان" لاختصاص الملك، و المعنی أن الإنسان لا یملك إلا عمله، و لیس للإنسان أن یقول "لی کذا" إلا لعمله و سعیه، و أما ما یکون من رحمة بشفاعة أو رعایة أب صالح أو ابن صالح أو تضعیف حسنات أو نحو ذلك، فلیس للإنسان و لا یسعه أن یقول "لی کذا و کذا" إلا علی تجوز. فحینئذ لیس فی الآیة ما ینافی إهداء الثواب؛ إذ لا إهداء حقیقة إلا من المهدی،  و أما ملك المهدی له فکأنه بإعطاء المهدی أو بقبوله الذی هو  عمله و عن الحسن أن هذا من باب العدل،و أما بطریق الفضل فیزید ما یشاء من فضله، فلعل اللام عنده لام الاستحقاق. و سأل والی خراسان عبد الله بن طاهر، الحسین بن الفضل عن هذه الآیة مع قوله تعالی: " و الله یضاعف لمن یشاء"، فقال: لیس له بالعدل إلا ما سعی، و له بالفضل ما شاء الله تعالی، فقبل عبد الله رأس الحسین.
و الوجه الثانی: قال عکرمة: کان هذا الحکم فی قوم إبراهیم و موسی علیهما السلام، و أما هذه الأمة فللإنسان عنها ما سعی غیره. و یدل علیه حدیث سعد بن عبادة "هل لأمی إذا تطوعت عنها"؟ قال صلی الله علیه و سلم: "نعم".
و الوجه الثالث: ما روی عن ابن عباس أن الآیة منسوخة بقوله تعالی "و الذین آمنوا و اتبعتهم ذریتهم بإیمان ألحقنا بهم ذریتهم".
و هذه الوجوه الثلاثة ذکرها الآلوسی رحمه الله فی تفسیره.
و الوجه الرابع: إنها مخصوصة بالکفار، و أما المؤمنون فهم ینتفعون بعمل الغیر؛ لقوله تعالیٰ "یوم لا ینفع مال و لا بنون. إلا من أتی الله بقلب سلیم أی سالم عن الشرك، فالمؤمن ینفع بعمل الغیر لسلامته عن الشرك.
و الوجه الخامس: إن الانتفاع بعمل الغیر إنما هو إذا نوی العامل أن یکون ثواب عمله لغیره، و أما إذا عمل عملا لنفسه و لم ینو إهداء الثواب فحینئذ لا ینتفع الغیر، و إذا عمل و نوی أن یکون ثواب عمله لغیره صار بمنزلة الوکیل عنه، و صار الغیر منتفعا بعمله حکما، فکأنه قیل: و أن لیس للإنسان إلا ما سعی بنفسه حقیقة أو حکما؛ فإن عمل الوکیل عمل للموکل حکما.   
شرح الفقه الأکبر للملا علی القاری (119-118):
قال القونوی رحمه الله: و الأصل فی ذلك عند أهل السنة أن للإنسان أن یجعل ثواب عمله لغیره صلاة أو صوما أو حجا أو صدقة أو غیرها، و الشافعی رحمه الله جوز هذا فی الصدقة و العبادۃ المالیة، و جوزه فی الحج، و إذا قرئ علی القبر فللمیت أجر المستمع و منع وصول ثواب القرآن إلی الموتی و ثواب الصلاة و الصوم و جمیع الطاعات و العبادات غیر المالیة. و عند أبی حنیفة رحمه الله و أصحابه یجوز ذلك و ثوابه (یصل) إلی المیت……. و اختلف فی العبادات البدنیة کالصوم و قراءة القرآن و الذکر، فذهب أبو حنیفة و أحمد و جمهور السلف رحمهم الله إلی وصولها، و المشهور من مذهب الشافعی و مالك رحمهما الله عدم وصولها. و ذهب بعض أهل البدع من أهل الکلام إلی عدم وصول شیئ البتة، لا الدعاء و لا غیره. و قوله مردود بالکتاب و السنة، و استدلاله بقوله سبحانه " و أن لیس للإنسان إلا ما سعی" مدفوع بأنه لم ینتف انتفاع الرجل بسعی غیره، و إنما نفی ملکه بغیر سعیه، و بین الأمرین فرق بین، فأخبر الله تعالیٰ أنه لا یملك إلا سعیه و ما سعی غیره فهو ملك لساعیه، فإن شاء أن یبذله لغیره، و إن شاء أن یبقیه لنفسه، و هو سبحانه لم یقل: لا ینتفع إلا بما سعی.
الهداية (1/ 183):
باب الحج عن الغير: الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة؛ لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته ممن أقر بوحدانية الله تعالى وشهد له بالبلاغ، جعل تضحية إحدى الشاتين لأمته.
رد المحتار (2/ 244-243):
مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له:
 تنبيه: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التاترخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات؛ لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء؛اه، هو مذهب أهل السنة والجماعة، لكن استثنى مالك والشافعي العبادات البدنية المحضة كالصلاة والتلاوة، فلا يصل ثوابها إلى الميت عندهما، بخلاف غيرها كالصدقة والحج، وخالف المعتزلة في الكل، وتمامه في فتح القدير. ………… قلت: وقول علمائنا "له أن يجعل ثواب عمله لغيره" يدخل فيه النبي صلی الله علیه و سلم؛ فإنه أحق بذلك حيث أنقذنا من الضلالة، ففي ذلك نوع شكر وإسداء جميل له، والكامل قابل لزيادة الكمال.
رد المحتار (2/ 240):
مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت:  وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة.  وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة، آه وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث، وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص.
والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا آه. وأطال في ذلك في المعراج، وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها؛ لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى اه. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه "أنه عليه الصلاة والسلام دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام".
أقول: وفيه نظر؛ فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جریر، علی أنه بحث فی المنقول فی مذهبنا و مذهب غیرنا، کالشافعیة و الحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي لا توجد في الأفراح وكدق الطبول والغناء بالأصوات الحسان واجتماع النساء والمردان وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

14/جمادی الاولی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔