021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری زمین میں وراثت منتقل کرنا
74915بنجر زمین کو آباد کرنے کے مسائلشاملات زمینوں کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ درج ذیل اوصاف کی حامل سرکاری زمین میں وراثت جاری ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ اس زمین کے کاغذات نہیں ہوتے، صرف قبضہ ہوتا ہے اور قابض کا نام اور صوبائی حکومت کا حوالہ لکھا ہوتا ہے۔

2۔ اس زمین کے فروخت کے وقت اسٹام ہوتا ہے اور قبضہ دیا جاتا ہے، اسٹام کے علاوہ کاغذات نہیں ہوتے۔

3۔ اس زمین کے درخت زمین کے قابض سمیت نہ کوئی فروخت کرسکتا ہے اور نہ کوئی خریدسکتا ہے، بلکہ اس کی مخالفت کرنے والے کے خلاف قانونی کاروائی ہوتی ہے۔ (اور باقاعدہ ان کی حفاظت کے لیے چوکیدار متعین ہیں)

4۔ اور اگر اس زمین میں کوئی اور طاقتور قابض ہوجائے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی نہیں ہوسکتی، صرف یہی کہا جاتا ہے کہ جس کا قبضہ ہے یہ اسی کی ہے۔

5۔ اگر قابض کا انتقال ہوجائے تو اس کا فوتگی نامہ بھی درج نہیں کرتے۔ اور پٹواری وراثت بھی نہیں کرتے وہ کہتے ہیں اس کی وراثت نہیں ہوتی جس کا قبضہ ہے اسی کی ہے۔

          اس زمین کے بارے میں پٹواریوں کی رائے یہ ہےکہ یہ سرکاری زمین حکومت کی ملکیت ہوتی، حکومت نے کسی کو بھی اس زمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جو لوگ اس  کو استعمال کر رہے ہیں وہ مجرم ہیں، حکومت اس زمین کو کسی بھی وقت لے سکتی ہے، بولی لگا کر بھی فروخت کرسکتی ہے۔ جو قابض ہیں وہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔

حکومت کے نمائندے بسا اوقات قبضہ ختم کرا کے اس زمین کو اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں،  اگر تحویل میں نہیں لیتے تو فصل وغیرہ ضائع کردیتے ہیں، جس کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کر سکتے۔

اگر ایک آدمی اپنا قبضہ چھوڑ کر کسی دوسرے آدمی کو دے دیتا ہے تو اس میں بسااوقات کوئی تیسرا آدمی آکر زبردستی قبضہ کرلیتا ہے،جس سے چھڑوانا مشکل ہوتا ہے۔

o

سوال میں ذکر کردہ معلومات کے مطابق یہ زمین سرکار کی ملکیت ہے، جب تک حکومت کسی شخص کو مالک نہیں بنادیتی، اس وقت تک یہ زمین سرکارکی ملکیت میں رہے گی،  جس میں  وراثت  منتقل نہیں ہوتی، البتہ سرکاری قوانین کی روشنی میں اسے استعمال کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

ثم من أحياه بإذن الإمام ملكه، وإن أحياه بغير إذنه لم يملكه عند أبي حنيفة رحمه الله، وقالا: يملكه؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: من أحيا أرضا ميتة فهي له. ولأنه مال مباح سبقت يده إليه فيملكه كما في الحطب والصيد. ولأبي حنيفة رحمه الله قوله عليه الصلاة والسلام: "ليس للمرء إلا ما طابت نفس إمامه به" ،وما روياه يحتمل أنه إذن لقوم لا نصب لشرع، ولأنه مغنوم لوصوله إلى يد المسلمين بإيجاف الخيل والركاب، فليس لأحد أن يختص به بدون إذن الإمام كما في سائر الغنائم.
(الھدایۃ: 4/383)
(وأما) بيان ما يملك الإمام من التصرف في الموات: فالإمام يملك إقطاع الموات من مصالح المسلمين لما يرجع ذلك إلى عمارة البلاد، التصرف فيما يتعلق بمصالح المسلمين للإمام ككري الأنهار العظام وإصلاح قناطرها ونحوه. ولو أقطع الإمام الموات إنسانا، فتركه ولم يعمره لا يتعرض له إلى ثلاث سنين فإذا مضى ثلاث سنين فقد ظل مواتا كما كان وله أن يقطعه غيره لقوله - عليه الصلاة والسلام - ليس لمحتجر بعد ثلاث سنين حق، ولأن الثلاث سنين مدة لإبلاء الأعذار، فإذا أمسكها ثلاث سنين ولم يعمرها دل على أنه لا يريد عمارتها، بل تعطيلها، فبطل حقه وتعود إلى حالها مواتا، وكان للإمام أن يعطيها غيره. (بدائع الصنائع: 6/194)

محمد ابراہیم شیخا

دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

17/جمادی الاولی/1443ھ

n

مجیب

محمد ابراہیم شیخا بن محمد فاروق شیخا

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔