021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیعانہ دینے کے بعد اور زمین پر قبضہ سے پہلے اسے آگے بیچنا
74950خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

زید زمین فروخت کر رہا تھا، عمر نے زید سے زمین باقاعدہ خرید لی، اس کا بیعانہ جمع کرادیا اور باقی پیسے ادا کرنے کے لیے پانچ مہینے کا وقت رکھا۔ بیعانہ دینے پر زید نے عمر کو زمین کا قبضہ نہیں دیا، زمین زید ہی کے پاس رہے گی جب تک عمر اسے بقیہ پیسے نہ دے۔ اسی دوران کہ یہ زمین زید کے پاس ہے، عمر زید کی رضامندی سے یہ زمین مہنگی کر کے کسی اور کو فروخت کردیتا ہے اور اس خریدار سے قیمت وصول کر کے اس میں سے زید کے باقی ماندہ پیسے ادا کردیتا ہے۔ اس کے بعد زید عمر کو زمین کا قبضہ دیدیتا ہے، پھر عمر  آگے اپنے خریدار کو قبضہ دیدیتا ہے۔

 اس صورت میں عمر زمین آگے زید کی رضامندی سے ہی بیچتا ہے؛ کیونکہ عمر، زید کی بقیہ ماندہ رقم کی ادائیگی نہیں کرسکتا تو وہ زید سے کہتا ہے کہ مجھے زمین بیچنے کی اجازت دیں، تاکہ آپ کی رقم ادا کرلوں، زید کہتا ہے ٹھیک ہے مجھے تو میرے پیسے چاہئیں، آپ زمین بیچ کر مجھے پیسے دیدیں۔ کیا یہ صورت جائز ہے؟

o

صورتِ مسئولہ میں زید اور عمر کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ فی نفسہ جائز ہے، لیکن جب زید بیعانہ کے علاوہ بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لیے عمر کو پانچ مہینے کا وقت دیتا ہے تو پھر اسے بقیہ ادھار قیمت کی وجہ سے زمین اپنے پاس روکنے کا حق نہیں ہے؛ کیونکہ ادھار خریدوفروخت میں قیمت کی وصولی کے لیے بائع مبیع کو اپنے پاس نہیں روک سکتا۔ البتہ اگر عمر خود اس سے کہے کہ زمین فی الحال آپ کے پاس ہی رہے گی، جب میں قیمت دیدوں گا تو قبضہ لے لوں گا تو یہ درست ہے۔ اسی طرح اگر زید ایک دفعہ عمر کو زمین کا قبضہ دیدے پھر اس کے بعد وہی زمین اس سے واپس بطورِ رہن لے لے تو یہ بھی جائز ہے، اس صورت میں اس زمین پر رہن کے احکام جاری ہوں گے۔  

پس اگر زید نے ادھار قیمت کی وجہ سے زمین اپنے پاس روک دی اور عمر کو قبضہ نہیں دیا تو عمر، زید کی رضامندی کے بغیر بھی یہ زمین آگے بیچ سکتا ہے؛ کیونکہ اس صورت میں زمین روکنا زید کا حق نہیں۔ لیکن اگر زید نے ایک دفعہ عمر کو قبضہ دینے کے بعد وہ زمین اس سے واپس بطورِ رہن لے لی تو اس صورت میں عمر وہ زمین زید کی رضامندی سے آگے بیچ سکتا ہے، اس کی رضامندی کے بغیر نہیں بیچ سکتا، الا یہ کہ پہلے قیمت ادا کردے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (5/ 250-237):
ومنها أن للبائع حق حبس المبيع حتى يقبض الثمن إذا كان الثمن حالا وليس للمشتري أن يمتنع من تسليم الثمن إلى البائع حتى يقبض المبيع إذا كان المبيع حاضرا؛ لأن البيع عقد معاوضة، والمساواة في المعاوضات مطلوبة المتعاوضين عادة، وحق المشتري في المبيع قد تعين بالتعيين في العقد، وحق البائع في الثمن لم يتعين بالعقد؛ لأن الثمن في الذمة، فلا يتعين بالتعيين إلا بالقبض، فيسلم الثمن أولا ليتعين فتتحقق المساواة……………… الخ
وأما بيان ما يبطل به حق الحبس بعد ثبوته وما لا يبطل فنقول وبالله التوفيق:
 إذا أخر الثمن بعد العقد بطل حق الحبس؛ لأنه أخر حق نفسه في قبض الثمن فلا يتأخر حق المشتري في قبض المبيع. وكذا المشتري إذا نقد الثمن كله أو أبرأه البائع عن كله بطل حق الحبس؛ لأن حق الحبس لاستيفاء الثمن، واستيفاء الثمن ولا ثمن محال. ولو نقد الثمن كله إلا درهما كان له حق حبس المبيع جميعه لاستيفاء الباقي لأن المبيع في استحقاق الحبس بالثمن لا يتجزأ فكان كل المبيع محبوسا بكل جزء من أجزاء الثمن…………….. حق الحبس في الشرع يدور مع حق المطالبة بالثمن لا مع قيام الثمن في ذاته، بدليل أن الثمن إذا كان مؤجلا لا يثبت حق الحبس والثمن في ذمة المشتري قائم وإنما سقطت المطالبة.
أیضا الفتاوى الهندية (3/ 15):
الدر المختار (6/ 497):
( وإن قال ) المشتري ( لبائعه ) وقد أعطاه شيئا غير مبيعه ( أمسك هذا حتى أعطيك الثمن فهو رهن ) لتلفظه بما يفيد الرهن والعبرة للمعاني خلافا للثاني والثلاثة، و ( لو كان ) ذلك الشيء الذي قال له المشتري أمسكه هو ( المبيع ) الذي اشتراه بعينه لو ( بعد قبضه )؛ لأنه حينئذ يصلح أن يكون رهنا بثمنه، ( ولو قبله لا ) يكون رهنا؛ لأنه محبوس بالثمن كما مر.
رد المحتار (6/ 497):
قوله ( ولو كان ) لو هذه وصيلة كما قدمناه وما بعدها شرطية.  قوله ( لأنه حينئذ يصلح الخ ) أي لتعين ملكه فيه حتى لو هلك يهلك على المشتري ولا ينفسخ العقد ط.  قوله ( لأنه محبوس بالثمن ) أي وضمانه يخالف ضمان الرهن فلا يكون مضمونا بضمانين مختلفين لاستحالة اجتماعهما، حتى لو قال أمسك المبيع حتى أعطيك الثمن قبل القبض، فهلك انفسخ البيع، زيلعي.
المبسوط للسرخسي (13/ 20):
لو كان العبد رهنا فباعه الراهن وأبى المرتهن أن يجيزه لم يجز البيع وهو موقوف؛ لأن الراهن عاجز عن التسليم، فإن حق المرتهن في الحبس لازم.  ثم في موضع يقول: بيع المرهون فاسد، وفي موضع يقول جائز. والصحيح ما ذكره هنا أنه موقوف، وتأويل قوله "فاسد" يفسده القاضي إذا خوصم فيه وطلب المشتري التسليم إليه ومنع المرتهن ذلك، و تأويل "قوله "جائز" إذا اجتازه المرتهن وسلمه إليه.
فقه البیوع (1/540-535):
حبس المبیع لاستیفاء الثمن:
و أما فی الفقه الإسلامی، فإن الوضع مختلف فی بیع العروض بالنقود، و فیه خلاف بین الفقهاء. فمذهب الحنفیة و المالکیة أنه یجب علی المشتری تسلیم الثمن أولا، و لذلك یحق للبائع أن یحبس المبیع لاستیفاء الثمن؛ وذلك لأن بمجرد العقد انتقلت ملکیة المبیع المتعین إلی المشتری، أما الثمن فهو دین فی ذمة المشتری، و لا یتعین النقد إلا بالقبض، فلا تتحقق المساواة إلا بتسلیم الثمن، حتی یتعین کونه مملوکا للبائع، کما تعین المبیع مملوکا للمشتری……… الخ
التأجیل حق للمشتری فی البیع المؤجل:
و من أحکام البیع المؤجل و المقسط أن التأجیل حق للمشتری، فلا یھق للبائع أن یطالب بالثمن قبل حلول الأجل، و لا یحق له أن یحبس المبیع من أجل استیفاء الثمن کما یجوز فی البیع الحال. نعم! یجوز أن یقبضه المشتری أولا، ثم یرهنه لدی البائع توثیقا للدین.
و الفرق بین الرهن و الحبس لاستیفاء الثمن أن المبیع المحبوس عند البائع مضمون علیه بالثمن لا بالقیمة، فلو هلك المبیع و هو محبوس عنده ینفسخ البیع و لا یکون مضمونا علیه بقیمته السوقیة. أما فی الرهن لو هلك عند البائع المرتهن بغیر تعد منه لا ینفسخ البیع، بل یضمنه المرتهن بالأقل من قیمته و من الدین عند الحنفیة…………….. الخ
توثیق الدیون علی المذاهب الفقهیة الأربعة (200-199):
إن کان البیع حالا، فللبائع أن یحبس المبیع إلی أن یستوفی الثمن، و المبیع فی هذه الحالة  لیس مرهونا، بل هو محبوس بالثمن، فإن هلك بید البائع هلك بالثمن، بمعنی أنه لا یجب علی المشتری أن یدفع الثمن.  
أما إن کان البیع مؤجلا، فیجوز أن یکون المبیع مرهونا، و لکن یشترط لجوازه عند الحنفیة أن یقبضه المشتری، ثم یرده إلی البائع لیکون رهنا لدیه لتوثیق الثمن المؤجل، و لا یجوز ذلك قبل قبض المشتری؛ لأنه فی معنی حبس المبیع لاستیفاء الثمن، و ذلك لا یجوز فی البیوع المؤجلة. أما إذا رهنه المشتری بعد قبضه، فإنه یأخذ حکم الرهن فی جمیع الأمور، فإن هلك بید البائع بدون تعد منه یضمن عند الحنفیة الأقل من قیمته و من الدین. و هذا هو الفرق بین حبس المبیع لاستیفاء الثمن فی البیوع الحالة و رهنه عند البائع فی البیوع المؤجلة.   
أیضابحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/17-16):
عنوان: إمساك المبیع لضمان التسدید.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/جمادی الاولی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔