021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیعانہ کی حقیقت کیا ہے؟
74952خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بیعانہ کی حقیقت کیا ہے؟

o

بیعانہ اس رقم کو کہتے ہیں جو خرید و فروخت کے معاملے کی ابتدا میں دی جاتی ہیں۔ تاجروں کے ہاں اس کی مختلف صورتیں رائج ہیں، ذیل میں ہر صورت اور اس کا حکم لکھا جاتا ہے۔

(1)۔۔۔ کبھی ایک شخص دوسرے شخص سے وعدہ کرتا ہے کہ میں فلاں چیز آپ سے خریدوں گا، اس وعدہ کے بعد اور بیع سے پہلے وہ اسے پیشگی کچھ رقم دیتا ہے۔  اس صورت میں بیعانہ کی رقم، لینے والے کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہے، البتہ اگر رقم دینے والا اسے استعمال کی اجازت بھی دیدے تو پھر وہ رقم قرض بن جائے گی۔ اس صورت میں وعدہ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور بلا عذرِ معتبر بیع سے پیچھے نہ ہٹے، لہٰذا اگر وعدہ کے مطابق بیع ہوگی تو بیعانہ قیمت کا حصہ بن جائے گا، لیکن اگر کسی وجہ سے خرید و فروخت کا معاملہ نہ ہو تو بیعانہ واپس کرنا لازم ہوگا، بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جائز نہیں ۔

(2)۔۔۔ کبھی بیع مکمل ہوجانے کے بعد بائع (فروخت کنندہ)، مشتری (خریدار) کو قیمت کا کچھ حصہ ابتدا ہی میں دیدیتا ہے۔ بیعانہ اس صورت میں قیمت کا حصہ ہوتا ہے؛ کیونکہ بیع ہوچکی ہے۔ اس صورت میں بیع مکمل ہوجانے کے بعد جانبین میں سے کوئی بھی اسے یک طرفہ طور پر فسخ نہیں کرسکتا، اور خریدار کے ذمے بقیہ قیمت کی بر وقت ادائیگی لازم ہوتی ہے۔ اگر وہ ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو فروخت کنندہ اسے ہر جائز طریقے سے قیمت کی ادائیگی پر مجبور کرسکتا ہے اور اس سے اپنا حق وصول کرسکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ ختم کرنے کی نوبت آئے تو پھر بائع (فروخت کنندہ) کے ذمے بیعانہ مشتری (خریدار) کو واپس کرنا لازم ہوگا، بائع کے لیے بیعانہ ضبط کرنا جائز نہیں۔  

(3)۔۔۔ بعض صورتوں میں بیع ہوجاتی ہے اور مشتری خریدار کو کچھ رقم بطورِ بیعانہ یہ کہہ کر دیدیتا ہے کہ اگر میں نے بقیہ رقم ادا کردی تو بیعانہ کی یہ رقم قیمت کا حصہ بن جائے گی، اور اگر میں بقیہ قیمت ادا نہ کرسکا تو تو یہ پیسے آپ کے ہوجائیں گے۔ اس طرح بیع کرنا، اور بائع کا بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کے نزدیک جائز نہیں، یہی حضراتِ احناف رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 95):
 إن دفع المشتري إلى البائع درهما ، وقال : لا تبع هذه السلعة لغيري ، وإن لم أشترها منك فهذا الدرهم لك :
أ- فإن اشتراها بعد ذلك بعقد مبتدأ ، واحتسب الدرهم من الثمن صح ؛ لأن البيع خلا عن الشرط المفسد . ….. الخ
ب - وإن لم يشتر السلعة، لم يستحق البائع الدرهم ، لأنه يأخذه بغير عوض ، ولصاحبه الرجوع فيه . ولا يصح جعله عوضا عن انتظاره ، وتأخر بيعه من أجله ، لأنه لو كان عوضا عن ذلك ، لما جاز جعله من الثمن في حال الشراء ، ولأن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه ، ولو جازت لوجب أن يكون معلوم المقدار ، كما في الإجارة.
 الموسوعة الفقهية الكويتية (9/ 93):
 بيع العربون.... أن يشتري السلعة ، ويدفع إلى البائع درهما أو أكثر ، على أنه إن أخذ السلعة،
احتسب به من الثمن ، وإن لم يأخذها فهو للبائع.  والفقهاء مختلفون في حكم هذا البيع :
 ( أ ) فجمهورهم ، من الحنفية والمالكية والشافعية ، وأبو الخطاب من الحنابلة ، يرون أنه لا يصح ، وهو المروي عن ابن عباس رضي الله عنهما والحسن كما يقول ابن قدامة ، وذلك : للنهي
عنه في حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده ، قال : نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان؛ ولأنه من أكل أموال الناس بالباطل ، وفيه غرر، ولأن فيه شرطين مفسدين : شرط الهبة للعربون ، وشرط رد المبيع بتقدير أن لا يرضى  ، ولأنه شرط للبائع شيئا بغير عوض ، فلم يصح ، كما لو شرطه لأجنبي ، ولأنه بمنزلة الخيار المجهول ، فإنه اشترط أن له رد المبيع من غير ذكر مدة ، فلم يصح ، كما لو قال : ولي الخيار ، متى شئت رددت السلعة ، ومعها درهم  .
 ( ب ) ومذهب الحنابلة جواز هذه الصورة من البيوع . وصرحوا بأن ما ذهب إليه الأئمة من عدم الجواز ، هو القياس ، لكن قالوا : وإنما صار أحمد فيه إلى ما روي عن نافع بن الحارث ، أنه اشترى لعمر دار السجن من صفوان بن أمية ، فإن رضي عمر ، وإلا فله كذا وكذا ، قال الأثرم : قلت لأحمد : تذهب إليه ؟ قال : أي شيء أقول ؟ هذا عمر رضي الله عنه . وضعف الحديث المروی  عن عمرو بن شعيب في النهي عنه .
لكن قرر الشوكاني أرجحية مذهب الجمهور ؛ لأن حديث عمرو بن شعيب قد ورد من طرق يقوي بعضها بعضا ، ولأنه يتضمن الحظر ، و هو أرجح من الإباحة ، كما تقرر في الأصول .
النتف في الفتاوى، ط: مؤسسة الرسالة (1/ 473-461):
واما البيوع الفاسدة فهي على ثلاثين وجها………………: الثاني والعشرون: بيع العربان، ويقال الأربان، وهو أن يشتري الرجل السلعة فيدفع إلى البائع دراهم على أنه إن أخذ السلعة كانت تلك الدراهم من الثمن وإن لم يأخذ فيسترد  (1) الدراهم.
(1)علق محقق النتف فی الفتاوی علی قوله "فیسترد الدراهم" و قال: کذا، و لعله "لا یسترد"؛ فإن کتب الحدیث لا تجعل لدافع العربون استرداده عند ترکه السلعة، کما فی نیل الأوطار.
فقه البیوع (1/113):
 العربون و العربان بیع فسره ابن منظور بقوله: هو أن یشتری السلعة و یدفع إلی صاحبها شیئا علی أنه إن أمضی البیع حسب من الثمن، و إن لم یمض البیع کان لصاحب السلعة و لم یرتجعه المشتری. و هو مصدر لعقد مثل هذا البیع، و قد یطلق العربون علی المبلغ المدفوع إلی البائع تسمیة للمفعول باسم المصدر…………….. و اختلف الفقهاء فی جواز العربون، فقال الحنفیة و المالکیة و الشافعیة و أبو الخطاب من الحنابلة: إنه غیر جائز، و روی المنع عن ابن عباس رضی الله عنهما و الحسن البصری رحمه الله تعالی. و قال الإمام أحمد: إنه جائز، و روی الجواز عن عمر و ابن عمر رضی الله عنهما و جماعة من التابعین، منهم مجاهد و ابن سیرین و نافع بن عبد الحارث و زید بن أسلم رحمهم الله تعالی جمیعا.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/جمادی الاولی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔