021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی اور کے بچے کو اپنی ولدیت کا نام دینے کا حکم(ربیب/زیرپرورش بچے کی ولدیت میں اپنانام لکھنا)
75155جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق یافتہ سے نکاح کرے اور اس عورت کا بچہ بھی ہوتویہ مرد جونکاح کرے گا،اس بچے کو اپنا بیٹا ظاہرکرسکتا ہے یا نہیں؟

o

دوسرے کی اولاد کو اپنی اولاد ظاہر کرناشرعا جائز نہیں،بلکہ بہت بڑا گناہ ہے۔البتہ شناختی کارڈ میں سرپرست لکھا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

فقال تعالى: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] وكما حرم الله تعالى أن يتبنى من ليس بولد له، حرم على المرء أن ينتسب لغير  أبيه.
روى واثلة بن الأسقع -رضي الله تعالى عنه-: أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "إن أفرى الفرى من قولني ما لم أقل، ومن أرى عينيه ما لم تر، ومن ادعى إلى غير أبيه" (تیسیر البیان لاحکام القرآن لابن نور الدین الشافعی:4/106)
وعن سعد بن أبي وقاص، وأبي بكرة، قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من ادعى إلي غير أبيه وهو يعلم [أنه غير أبيه] ‌فالجنة ‌عليه ‌حرام)). متفق عليه(مشکوۃ المصابیح،باب اللعان رقم الحدیث:3314)
وعن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه فقد كفر)). متفق عليه(مشکوۃ المصابیح،باب اللعان رقم الحدیث:3315)

محمد انس جمال

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

20جمادی الاولی1443ھ

n

مجیب

انس جمال بن جمال الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔