021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرنا
75107ذبح اور ذبیحہ کے احکام ذبائح کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ   کیا عورت اپنے ہاتھ سے جانور  کو ذبح کر سکتی ہے؟

o

عورت اگر ذبح کے شرعی طریقہ کو اچھی طرح جانتی ہے، اور عملی طور پر کر سکتی ہے تو اس کے لیے ذبح کرنا جائز ہے۔ اگر عملی طور پر ذبح کرنے میں مشکل ہو جس کی وجہ سے ذبح کا عمل طویل اور تکلیف دہ  بن جائے، تو ایسا کرنا مکروہ ہوگا۔ بہر صورت ذبیحہ حلال ہوگا۔

حوالہ جات

عن ‌نافع عن ‌ابن كعب بن مالك، عن ‌أبيه «أن امرأة ذبحت شاة بحجر فسئل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فأمر بأكلها»     (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 5504)
قال العلامۃ الحصکفی  رحمہ  اللہ تعالی : 
فتحل ذبيحتهما، ولو الذابح  مجنونا أو امرأة أوصبيا يعقل التسمية والذبح  ويقدر  .   (الدر المختار: 6/ 297)
قال العلامۃ ابن نجیم   رحمہ  اللہ تعالی :
(وصبي وامرأة وأخرس وأقلف) يعني تحل ذبيحة هؤلاء والمراد بالصبي الذي يعقل التسمية ويضبط، وإن لم يكن كذلك لا يحل لأن التسمية على الذبيحة شرط بالنص وذلك بالعقد وصحة العقد بالمعرفة والضبط هو أن يعلم شرائط الذبح من فري الأوداج والتسمية.   (البحر الرائق: 8/191)

عبدالعظیم

دارالافتاء، جامعۃالرشید ،کراچی

23/جمادی الاولی   1443 ھ                

n

مجیب

عبدالعظیم بن راحب خشک

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔