021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا موجودہ زمانہ میں مدرسے یا ٹرسٹ وغیرہ کو بیت المال پر قیاس کیا جاسکتا ہے؟
75036زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیا موجودہ زمانہ میں مدرسے یا ٹرسٹ وغیرہ کو بیت المال پر قیاس کرکے یہ حکم لگانا ٹھیک ہے کہ ان کے پاس رقم آجانے پر وہ رقم معطی کی ملکیت سے نکل جاتی ہے،مگر کسی اور مستحق کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی؟

o

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک مستحق شرط ہے،لیکن ادائیگی اورتملیک  عام ہے،خواہ براہ راست مستحق کوادائیگی اور تملیک ہو یا  بالواسطہ وکیل کے ذریعہ ادائیگی اورتملیک ہو،نیززکوۃ میں ایک ہی شخص معطی اور مستحق دونوں کا وکیل بھی بن سکتا ہے،لانہ معبروسفیر محض فلا بد لہ من الاضافۃ الی الموکل صراحۃ او دلالۃ وعرفا،ونظیرہ النکاح وقبض عمال بیت المال،نیزاس تفصیل کے بعد یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ بیت المال اور وقف میں کسی قدر مشابہت کے ساتھ بنیادی طور پرفرق  بھی ہے،یہ دونوں اس بات میں تو مساوی ومشترک ہیں کہ دونوں میں مال متولی وقف اور وکیل زکوۃ کے قبض میں امانت ہوتا ہے،لیکن درج ذیل فرق کی بنیاد پرزکوۃ کے بارے میں وقف کو بیت المال پر قیاس کرنا درست نہیں:

بیت المال کے حوالہ سے سائل کی نقل کردہ بات درست نہیں:

 وقف میں مال وقف معطی کے قبضہ سے نکل کر کسی دوسرےشخص کے قبضہ میں نہیں جاتا،اس لیےشرط تملیک کے باعث زکوۃ کا مال بدون تملیک محض وقف کرنے یا وقف املاک میں خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی،جبکہ بیت المال کے قبضہ سے حکما زکوۃ کا مال مستحق کے قبضہ میں  آجاتا ہے،جیساکہ آگےتفصیل سے آتا ہے۔لہذا آپ کا یہ کہنا کہ" کیا موجودہ زمانہ میں مدرسے یا ٹرسٹ وغیرہ کو بیت المال پر قیاس کرکے یہ حکم لگانا ٹھیک ہے کہ ان کے پاس رقم آجانے پر وہ رقم معطی کی ملکیت سے نکل جاتی ہے،مگر کسی اور مستحق کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی؟"درست نہیں، اس لیے کہ یہ حکم وقف کا ہے،نہ کہ بیت المال کا۔

موجودہ دینی /رفاہی اداروں کا بیت المال پر کلی قیاس درست نہیں:

معھذا زکوۃ کودیگر مصارف خیر میں صرف کرنے کے لیےفی زمانہ دینی/رفاہی اداروں کو بیت المال پر قیاس کرنابھی مندرجہ ذیل تین وجوہ کی بنا پر درست نہیں۔

 (۱) شرعی بیت المال چونکہ ریاست کے ماتحت ہوتا ہےاورریاست کو ولایت عامہ حاصل ہوتی ہے،جو نص قرآنی سے ثابت ہے،جس کی وجہ سے بیت المال کا قبضہ  قضاء( قانونی طور پر)معطین  ومستحقین دونوں کا قبضہ ماناگیاہے،لہذاایک طرف اسلامی ریاست میں قانونی طور پر بیت المال کے بغیرزکوۃ کی از خود ادائیگی غیرمعتبر مانی گئی ہے،اگرچہ دیانۃ مالکان کی از خود زکوۃ ادائیگی جائزودرست ہوگی،اوردوسری طرف  چونکہ بیت المال مستحقین کا ولی ووکیل ہے،لہذا شرعی بیت المال  کی وصولی سےقضاء ادائیگی زکوۃ معتبربھی مانی گئی ہے،لیکن دیانۃ بیت المال کا بدون تملیک فقراء زکوۃ کومصارف زکوۃ کے علاوہ دیگر مصارف خیر میں صرف کرنا بھی درست نہیں،یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت وعہد خلفاء راشدین سے بیت المال کے چار الگ الگ مدات تھےجن کےحسابات کے ساتھ رقوم بھی الگ الگ جمع کی جاتی تھیں اور ہر ایک کا مصرف بھی الگ الگ تھا،اگرچہ فقراء ان چاروں کے مصرف تھے۔

(۲)دیگراداروں مثلا مدارس وٹرسٹ وغیرہ کواولا تو ایسی عام ولایت حاصل نہیں اورثانیااگرمخصوص طلبہ یا افراد کے حق میں ولایت حاصل ہوبھی جائے تو اول وہ محدودہوگی اور دوسرے عارضی ہوگی،لہذا ولایت قاصرہ اور عارضہ کا قیاس ولایت عامہ کاملہ پر درست نہیں۔

(۳)تفصیل بالا سے قیاس کے درست نہ ہونے کی دوسری وجہ بھی معلوم ہوگئی کہ اس قیاس سے جو مقصد حاصل کرنا مقصود ہے،وہ مقصدخودمقیس علیہ میں بھی حاصل نہیں ہے،اس لیے کہ بیت المال میں وصول شدہ اموال زکوۃ سےبھی بدون تملیک فقراء رفاہی کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں،اس لیے کہ  بیت المال کے چار الگ الگ مدات تھے، رفاہی کاموں وغیرہ میں خرچ کے لیے اموال زکوۃ استعمال نہیں ہوتے تھے،بلکہ دیگر متعلقہ مدات سے خرچ ہوتا تھا،اس لیے کہ زکوۃ اورصدقات واجبہ میں مستحق کو تملیک میں دینا ضروری ہے۔

  دینی ورفاہی اداروں کی بیت المال کے ساتھ جزوی مشابہت:

دینی اداروں کے ذمہ داران  اگرچہ بظاہر معطی ومستحق دونوں کے وکیل  معلوم ہوتے ہیں،لیکن عرفا درحقیقت صرف مستقل رہائشی مستحق طلبہ کے وکیل سمجھے جاتےہیں۔(معطین کا وکیل ہونا صرف اس حد تک ہےکہ انہوں نے ان کوفقراء کا وکیل تسلیم کرکے انہیں مال حوالے کردیا ہے۔)والثابت بالعرف كالثابت بالنص ،لہذا یہ جزوی طور پر عاملین کی طرح صرف اخذین(طلبہ) کی طرف سے وکیل شمار ہونگے ،ان کا قبضہ حکمامستحقین کا قبضہ شمار ہوگا،اس سےادائیگی زکوۃ بھی متحقق ہوجائے گی،لہذااگرچہ کسی خاص مستحق کی ملکیت میں داخل تو نہیں، لیکن مستحقین کے حق عام کے(جو قائم مقام ملک کے ہے) اس رقم کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے نہ تو اس کو انتقال ملکیت لا الی مالک کہاجاسکتا ہےاور نہ ہی معطین کو واپس لینے کا اختیار رہے گا،لہذابدون تملیک متعلقہ مد میں صرف کرنا ہی ضروری ہوگا،اس لیے کہ  ابھی تک یہ امانت ہے۔(تفصیل کے لیے: امداد المفتین:ص۸۸۳ تا ۸۹۶ اور جواہر الفقہ:ج۳،ص۳۱۳، پر رسالہ اماطۃ التشکیک، ملاحظہ ہو۔)

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۴ربیع الثانی۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔