021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ کا حقِ میراث پر اثر، اور مرحوم بیٹے کے بچوں کے لیے وصیت کا حکم
75042میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد حافظ غلام رسول صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں مجھے ایک مکان واقع شہداد کوٹ سندھ، میں قبضہ دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کا مکمل اختیار آپ کو ہے، جب چاہیں اس کے کاغذات مجھ سے لے لیں، اس پر دو گواہ بھی تھے۔ ہمارا ایک بھائی، والد صاحب کی زندگی میں انتقال کرگیا تھا، اس کے لیے والد صاحب نے وصیت کی تھی کہ اس کے بچوں (ایک بیوہ، دو بیٹے، ایک بیٹی) کو برابر حصہ دیا جائے۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ:

(1)۔۔۔ مجھے جو مکان والد صاحب نے قبضہ میں دیا تھا، میں صرف اسی کا حق دار ہوں؟ بقیہ جائیداد میں مجھے بحیثیتِ وارث حصہ ملے گا یا نہیں؟

(2)۔۔۔ اسی طرح میرے فوت شدہ بھائی کی اولاد کو شرعا حصہ ملے گا یا نہیں؟  

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ: ہمارے والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کے والدین، دادا، دادی، اور نانی میں سے کوئی زندہ نہیں تھا۔ ہماری والدہ اور ایک بھائی (جس کا ذکر اوپر آیا ہے) کا انتقال بھی والد صاحب سے پہلے ہوا تھا۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت ہم (مجھ سمیت) تین بھائی، اور تین بہنیں زندہ تھیں۔ والد صاحب کی وصیت میں مرحوم بھائی کی بیوہ اور بچوں کو برابر حصہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایک بھائی جتنا حصہ دیا جائے، والد صاحب نے پھر اس حصے میں مرحوم بھائی کی بیوہ اور بچوں میں سے ہر فرد کے حصہ کی تعیین نہیں کی۔     

o

(1)۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد صاحب نے مذکورہ مکان آپ کو قبضہ دے کر ہبہ کیا تھا تو آپ اس کے مالک بن گئے ہیں، لیکن اس کی وجہ سے اپنے حقِ میراث سے محروم نہیں ہوئے،  بلکہ آپ بحیثیتِ وارث، والد صاحب کے سارے ترکہ میں حصے کے حق دار ہیں۔ البتہ اگر آپ یہ مکان ملنے کی وجہ سے میراث میں اپنا پورا، یا کچھ حصہ باقی ورثا کے لیے چھوڑ دیں تو آپ کو اس کا ثواب ملے گا۔

(2)۔۔۔ آپ کے مرحوم بھائی کی بیوہ، اور بچے آپ کے والد صاحب کے ورثا میں شامل نہیں؛ لہٰذا ان کو آپ کے والد صاحب مرحوم کے ترکہ میں بحیثیتِ وارث کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ البتہ والد صاحب نے ان کے لیے جو وصیت کی ہے، وہ معتبر ہے۔ وصیت اگر ایک تہائی مال سے کم یا ایک تہائی مال کے برابر ہو تو اسے مکمل پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، اور اگر ایک تہائی مال سے زیادہ ہو تو پھر صرف ایک تہائی مال کی حد تک اسے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔ صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب نے ان کے لیے ایک بھائی کے حصے کے بقدر وصیت کی ہے جو کہ ایک تہائی مال سے کم بنتا ہے؛ اس لیے یہ پوری وصیت درست ہے اور اسے پورا کرنا آپ تمام ورثا پر لازم ہے۔  

(3)۔۔۔ اب آپ کے والد صاحب کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ انہوں نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں نقدی، سونا، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ ہے۔

  • اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔
  • اس کے بعد دیکھا جائے اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔
  •  اس کے بعد انہوں نے اپنے مرحوم بیٹے کی بیوہ اور بچوں کے لیے جو وصیت کی ہے، اسے پورا کیا جائے؛ لہذا باقی ماندہ مال کو گیارہ (11) حصوں میں تقسیم کر کے دو (2) حصے انہیں دئیے جائیں۔ پھر چونکہ والد صاحب نے وصیت میں ان میں سے ہر ایک کے حصے کی تعیین نہیں کی؛ اس لیے یہ دو (2) حصے ان سب میں برابر تقسیم ہوں گے؛ لہٰذا ان دو حصوں کو چار (4) پر تقسیم کر کے ایک حصہ بیوہ کو، ایک حصہ ایک بیٹے کو، ایک حصہ دوسرے بیٹے کو، اور ایک حصہ بیٹی کو دیا جائے گا۔  
  •  اس کے بعد باقی ماندہ نو (9) حصے والد صاحب کے ورثا میں اس طرح تقسیم ہوں گے کہ تین بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو دو، دو (2، 2) حصے اور تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ایک، ایک (1، 1) حصہ ملے گا۔  

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11].
السراجی فی المیراث، ص5:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالی: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه  من جمیع ما بقی من ماله،  ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة.
الدر المختار، کتاب الوصایا (6/ 651-649):
( سببها ) ما هو ( سبب التبرعات وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك ) …… ( و ) كون ( الموصى له حيا وقتها ) تحقيقا أو تقديرا ليشمل الحمل الموصى له، فافهمه؛ فإن به يسقط إيراد الشرنبلالية ( و ) كونه ( غير وارث ) وقت الموت……. …….يعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية على عكس إقرار المريض للوارث.
رد المحتار (6/ 651-649):
قوله ( وكونه غير وارث ) أي إن كان ثمة وارث آخر، وإلا تصح، كما لو أوصى أحد الزوجين للآخر ولا وارث غيره كما سيجيء……….قوله ( وقت الموت لا وقت الوصية ) لأنها تمليك مضاف إلى من بعد الموت فيعتبر التمليك وقته، زيلعي، وقدمنا عنه التفريع على ذلك.
الدر المختار (6/ 688):
( وفي بني فلان يختص بذكورهم ) ولو أغنياء ( إلا إذا كان ) فلان عبارة عن ( اسم قبيلة أو ) اسم ( فخذ فيتناول الإناث ) لأن المراد حينئذ مجرد الانتساب كما في بني آدم؛ ولهذا يدخل فيه أيضا ( مولى العتاقة و ) مولى ( الموالاة وحلفاؤهم ).
بدائع الصنائع (7/ 382):
ولو قال: "أوصيت لبني فلان وهم خمسة، ولفلان ابن فلان بثلث مالي"، فإذا بنو فلان ثلاثة؛ فإن لبني فلان ثلاثة أرباع الثلث، ولفلان ابن فلان ربع الثلث؛ لما ذكرنا أن قوله وهم خمسة لغو إذا كانوا ثلاثة، فبقي قوله أوصيت بثلث مالي لبني فلان ولفلان ابن فلان، فيكون الثلث بينهم أرباعا لحصول الوصية لأربعة، فيكون بينهم أرباعا لاستواء كل سهم فيها.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/جمادی الاولیٰ /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔