| 73198 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا یوٹیوب چینل ہے جس میں کوکنگ اور میرا مضمون جو میں پڑھ رہی ہوں ’skin‘ یعنی جلد کے متعلق اس کے مطابق اپنی وڈیوز بنانا اور اپنے مضمون کو پروموٹ کرنے کے لئے۔ میں نے یہ چینل ارننگ((earning کے مقصد سے نہیں بنایا لیکن ممکن ہے کہ جب چینل بڑھتا ہے تو ارننگ بھی ہوتی ہے کیا تب میری یہ ارننگ جائز ہو گی ؟ کیونکہ جب یوٹیوب چینل مونیٹائز (monetize) ہوتا ہے تو وڈیوز پر Ads بھی چلتی ہیں جن سے ارننگ ملتی ہے اور یہ Ads مختلف طرح کی ہوتی ہیں اور ان Ads پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا یہ ہر چینل پر چلتی ہیں چاہے سلامک ہی کیوں نہ ہوں لیکن یہ Ads پاکستانی ہوتی ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یوٹیوب پر تعلیمی سلسلہ کے لئے جیسا کہ کوکنگ اور جلد سے متعلق ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کی جا سکتی ہیں۔اس میں شرط یہ ہے کہ ویڈیوز میں موسیقی نہ ہو،ویڈیو زمیں پردہ کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ جسم کے کسی حصہ کی نمائش اور اظہار نہ ہو، اور آواز میں نرمی نہ پیدا کی جائے۔ان شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے ویڈیو بنا کر تعلیمی غرض سے اپلوڈ کی جاسکتی ہیں۔
چینل مونیٹائز ہونے کی صورت میں یوٹیوب سے ویڈیوز پر مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ آمدنی حاصل کرنا جائز ہے۔
- ویڈیوز جائز امورسے متعلق ہوں جیسا کہ تعلیمی غرض کے لئے بنائی گئی ویڈیوز،اسی طرح ویڈیوز موسیقی اور ناجائز مواد پر مبنی نہ ہوں۔
- جن کمپنیز کے اشتہارات آپ کی ویڈیوز پر چلائے جا رہے ہیں ان کا کا روبار جائز ہو ،ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیز کے اشتہارات فلٹر کر کےفہرست سے خارج کر دیے جائیں۔
- اشتہارات موسیقی،نامحرم کی تصویر اور فحش مواد پر مبنی نہ ہوں۔
- اگر فہرست منتخب کرنے کے باوجود یوٹیوب ناجائز امور پر مبنی اشتہارات چلا دیتا ہے اور آپ کی اس پر رضامندی نہیں ہے تو آپ کو اس کا گناہ نہ ہوگا ۔البتہ یہ ضروری ہےکہ Ads review center)) میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔(ماخذہ التبویب فتوی نمبر:70815)
حوالہ جات
{وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى } [الأحزاب: 33]
{فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [الأحزاب: 32]
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 87)
الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 230)
(وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبدا أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] وله أن الإجارة على منفعة البيت ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه فقطع نسبة ذلك إلى المؤجر
محمد عبدالرحمن ناصر
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
21/10/1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


