| 73577 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اور میں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ سے دورہ حدیث کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی دینی و ملی خدمات اور اقامت دین کی جدوجہد سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔
الحمد للہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا مقلد ہوں ۔ اہل سنت والجماعت سے تعلق ہے۔اور عقائد میں ، مسائل میں، احکام میں جمہورعلماء اہل سنت کا پابندہوں کسی فرد کے ذاتی اجتہاد کا جو جمہور کے خلاف ہوقائل نہیں ہوں۔ میرا مجموعی طرز عمل اس کا گواہ ہے۔ اہلیان علاقہ اس کے شاہد ہیں ۔البتہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے ہر اچھے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ان کے اچھے کاموں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائےاور بحیثیت انسان ان سے جو غلطیاں ہوئی ہیں، اللہ تعالی ان کو معاف فرمائے۔ اپنے اس عقیدے کی وضاحت کے بعدکیا میرا امامت کروانا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر صورت حال اسی طرح ہےجیسے اوپر ذکر کی گئی ہے تو آپ کا امامت کروانا جائزہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 156)
وأما بيان من يصلح للإمامة في الجملة فهو كل عاقل مسلم حتى تجوز إمامة العبد ، ........ لما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «صلوا خلف من قال لا إله إلا الله» .
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 157)
وأولى بها فالحر أولى بالإمامة من العبد، والتقي أولى من الفاسق، والبصير أولى من الأعمى، وولد الرشدة أولى من ولد الزنا، وغير الأعرابي من هؤلاء أولى من الأعرابي لما قلنا، ثم أفضل هؤلاء أعلمهم بالسنة وأفضلهم ورعا وأقرؤهم لكتاب الله - تعالى - وأكبرهم سنا.
محمد عبدالرحمن ناصر
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
30/11/1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


