| 71566 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
ایک شخص آن لائن دکان کھولتا ہے جس کی چیزوں کو لوگ دنیا بھر سے لے سکتے ہیں،اور جس کی دکان جتنی زیادہ نمایاں ہوتی ہے اتنی زیادہ اس کی سیل ہوتی ہے۔نمایاں ہونے کے لیے اسے اپنی دکان کی مارکیٹنگ کرنی ہوتی ہے،وہ یہ کرتا ہے کہ کچھ ایجنٹس سے رابطہ کرتا ہے جو اس کی دکان کی مارکیٹنگ کرتے ہیں،دکاندار ایجنٹ کو پہلے ہی بتادیتا ہے کہ وہ کس حد تک اور کتنے بجٹ تک مارکیٹنگ کر سکتا ہے۔ مارکیٹنگ کا طریقہ یہ ہے کہ ایجنٹ کسٹمرز کو دکان کا آنلائن ایڈریس بتاتا ہے،اس کے بعد کسٹمر دکان سے جاکر چیز خریدتا ہے، اکثر تو کسٹمر اپنے پیسوں سے ہی پہلے چیز لے لیتا ہے لیکن کبھی کبھی کسٹمرکو پیسے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جاکر اس دکان سے چیز خرید لے اور پھر اس چیز کو دکان دار کی طرف سے گفٹ سمجھ کر رکھ لے۔ پہلے خریدنے کی صورت میں کسٹمر دکان سے چیز خرید کر اپنے پاس ۷ دن تک استعمال کرتا ہے ،اس کے بعد اگر اسے چیز اچھی لگی ہو تو وہ اس دکاندار کی چیز کی تعریف کرتا ہے تاکہ اسے دیکھ کر اور بھی لوگ اس دکان سے خریداری کریں۔ اور اگر اسے چیز پسند نہ آئے یا وہ ایکسچینج کرواناچاہتا ہو یا واپس کروانا چاہتا ہو تو وہ اس دکان کی چیز واپس کرواسکتا ہے جس سے دکان کی ریٹنگ بھی گر جائے گی اور اس کی سیل بھی متأثر ہوگی، اس حوالے سے دکاندار کسی بھی قسم کی زبردستی کسٹمر سے نہیں کرسکتا۔کسٹمر کی تعریف اگر آنلائن ویب سائیٹ ایمازون کو صحیح لگتی ہے تو وہ اس تعریف یا تبصرے کو لائیو نشر کر دیتی ہے جس سے اس تعریف یا تبصرے کو دنیا بھر سے لوگ دیکھ سکتے ہیں اور اس سےدکان کی سیل میں اضافہ بھی ہوگا، اس کے بعد دکاندار ایجنٹ کے ذریعے خریدار کو اس کی پوری خریداری کی قیمت اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہے اور اپنی دکان کی خریدی ہوئی چیز اسے تحفہ اور ہدیہ کے طور پر دےدیتا ہے۔بعض اوقات آن لائن ویب سائیٹ کے اس تعریف یا تبصرے کو لائیو نہ کرنے پر یا اسے ڈیلیٹ کرنے پر بھی دکاندار ایجنٹ کے ذریعے کسٹمر کو صرف اس کی ریٹنگ پر ہی خریداری کی رقم واپس کر دیتا ہے۔ اس ساری مارکیٹنگ کی ڈیل دکاندار ایجنٹ سے کرتا ہے یا ایک ایجنٹ دوسرے ایجنٹ سے کرتا ہے جس کی ایجنٹ کو ایک مقررہ رقم ملتی ہے۔
سوال: کیا ایجنٹ کا اس طرح سے فیس لینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایجنٹ کا دکاندار کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنا اجارے کا معاملہ ہے، چنانچہ بطور فیس جو وہ رقم لیتا ہے وہ اجارے کی اجرت ہوتی ہے جس کا لینا اس کے لیے جائز ہے۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 453)
القسم الثاني هو الأجير المشترك الذي ليس بمقيد بشرط ألا يعمل لغير المستأجر كالحمال والدلال والخياط والساعاتي والصائغ وأصحاب كروسات الكراء وأصحاب الزوارق الذين هم يكارون في الشوارع والجوال مثلا فإن كلا من هؤلاء أجير مشترك لا يختص بشخص واحد وله أن يعمل لكل أحد.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 457)
لأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل.أي لا يستحق الأجرة إلا بعمل ما استؤجر لعمله؛ لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل، أو أثره على ما بينا؛ فلا بد من العمل.
معاذ احمد بن جاوید کاظم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | معاذ احمد بن جاوید کاظم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


