021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شے مستعار میں ہونے والے نقصان کا حکم
72000امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

عامۃ ایسا ہوتا ہے کسی ادارے کا بڑا اپنے ما تحت سے یا ہم عصر ہم درجہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ چلو میرے ساتھ بائیک پر، جبکہ بائیک قائل( ساتھ لے کر چلنے والے کا مطالبہ کرنے والے)کی نہیں ہوتی۔ پھر نقصان مثلا، پنکچر، چین کا ٹوٹنا، وغیرہ یعنی وہ نقصان جو بائیک چلانے سے پیدا ہوتے ہیں وہ ہو جائے یا وہ نقصان جو مالک کی بائیک کی اپنی بے احتیاطی سے پیدا ہوئے،وہ پیدا ہو۔حکم کرنیوالا کہتا ہے کہ اگر یہ مالک اپنے کام سے استعمال کرتا  تب بھی نقصان ہوتا، حالانکہ دونوں میں کوئی معاملہ بھی نہیں ہوااجرت وغیرہ کا۔ بائیک کے اس نقصان کا کیاحکم ہوگا۔

o

اگر بائیک مستعار لینے والے نے عمومی ضابطے کے مطابق استعمال کی ، اور مالک کی لگائی ہوئی کسی قید کی خلاف ورزی نہیں کی، تو اس دوران اگر کوئی نقصان یا خرابی  پیدا ہو جائے تو یہ مالک برداشت کرے گا، چیز عاریت پر لینے والے پر یہ نقصان نہیں ڈالا جائے گا۔ تاہم اگر اس نے مالک کی لگائی ہوئی شرط کی خلاف ورزی کی یا ضابطے سے ہٹ کر بائیک استعمال کی اور  اس صورت میں نقصان ہوا تو وہ مستعیر کے ذمے ہوگا۔

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار (3/ 57)
. فإن قيدها بوقت أو منفعة أو مكان ضمن بالمخالفة إلا إلى خير، وعند الإطلاق له أن ينتفع بها في جميع أنواع منفعتها ما شاء ما لم يطالبه بالرد.
الفتاوى الهندية (4/ 366)
ولو استعار فرسا ليركبها إلى موضع كذا فركبها وأردف معه آخر فأسقطت جنينا فلا ضمان عليه في الجنين ولكن إن انتقصت الأم بسبب ذلك فعليه نصف النقصان، وهذا إذا كان الفرس بحال يمكن أن يركبه اثنان، وأما إذا كان لا يمكن فهو إتلاف فيضمن جميع النقصان، كذا في الفصول العمادية. الفتاوى الهندية (4/ 363)
ولو تعدى ضمن بالإجماع، نحو أن يحمل عليها ما يعلم أنها لا تحمل مثله، وكذلك إذا استعملها ليلا أو نهارا فيما لا يستعمل فيه الدواب في العرف والعادة فعطبت ضمن قيمتها، كذا في غاية البيان، والله أعلم.
الفتاوى الهندية (4/ 368)
وفي فتاوى الديناري إذا انتقص عين المستعار في حالة الاستعمال لا يجب الضمان بسبب النقصان إذا استعمله استعمالا معهودا، كذا في الفصول العمادية.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 347)
العارية أمانة في يد المستعير يعني أنه لو تلفت العارية في يد المستعير بلا تعد ولا تقصير أو فقدت أو نقصت قيمتها من استعماله إياها حسب المعتاد وعلى الوجه المشروط في حال الاستعمال أو في غير حال الاستعمال لا يلزمه الضمان.

ذاہب حنان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

02/01/2022

n

مجیب

ذاہب حنان بن محمد رمضان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔