03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیع عینہ کا حکم
73408خرید و فروخت کے احکامبیع کی مختلف اقسام ، بیع وفا، بیع عینہ اور بیع استجرار کا بیان

سوال

اگر ایک آدمی ایک بندے کو سال یا چھ مہینے کے ادھار پر موٹر سائیکل دے ایک لاکھ پر ،اور اسی وقت پر اس سے ساٹھ یا ستر ہزار پر واپس لے تو کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں خریدوفروخت کا معاملہ حقیقی طور پر مقصود ہی نہیں ہے بلکہ یہ سراسر  سود خوری  کا ایک راستہ ہے جوکہ حرام ہے۔اسے  شریعت کی اصطلاح میں ’’بیع عینہ ‘‘ کہا گیا ہے، جس کو آپ ﷺ نے ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (11/ 180)

عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إذا تبايعتم بالعينة, وأخذتم أذناب البقر, ورضيتم بالزرع, وتركتم الجهاد, سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم.

العناية شرح الهداية (6/ 432)

ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع لان الثمن لم يدخل في ضمان البائع لعدم القبض، فإذا وصل إليه المبيع ووقعت المقاصة بين الثمنين بقي له فضل خمسمائة بلا عوض وهو ربا فلا يجوز۔

  محمدعبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

12/11/1442

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب