| 71406 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں انجینئرہوں اور آن لائن ٹیچنگ بھی کرتا ہوں ،آج کل لوگ آن لائن پیپر حل کرواتےہیں، تو کیا آن لائن پیپر حل کرنے کے پیسے لے سکتا ہوں آگے وہ جو بھی کرے ، میں صرف پیپر حل کرنے کی فیس چارج کروں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موجودہ وبائی حالات کے پیشِ نظر بہت سے تعلیمی اداروں نے طلبہ سے آن لائن امتحا نات کا نظم بنایا ہوا ہے اورآن لائن امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر ہی طلبہ کو دوسرے درجات میں داخلے اور اسناد جاری کی جارہی ہیں۔ آف لائن امتحانات کی طرح ان امتحانات کو بھی نقل و خیانت کے بغیر دینا ہر طالبِ علم پر قانوناً و شرعاً لازم ہے۔
لہذا طلبہ کا اپنی جگہ کسی دوسرےسےامتحان دلوانا خیانت اور دھوکہ ہےاورگناہ کبیرہ ہے جس سے متعلق احادیث ِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ایسے میں کسی شخص کا دوسرے کی جگہ امتحان دینا اور پیسے لینا یہ تعاون علی الاثم ہے اور حرام ہے۔
حوالہ جات
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ } [الأنفال: 27]
دائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 203)
وقد قال الله تعالى {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2].
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (11/ 98)
لقوله صلى الله عليه وسلم { من غشنا فليس منا }.
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۲۱/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


