| 71810 | خرید و فروخت کے احکام | مرابحہ اور تولیہ کا بیان |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک دوست ہیں انہوں نے اپنی ایک خطیر رقم سودی بینک میں رکھی ہوئی ہے۔میں نے ان سے کہاکہ آپ میرے کاروبار میں انویسٹ کریں ،اس سے آپ کی آمدن حلال بھی ہوجائے گی اور سود سے جان بھی چھوٹ جائے گی ۔لیکن انہوں نے کہا کہ میں میرے دو مسئلے ہیں ؛ایک یہ کہ مجھے ہر مہینہ لازمی کچھ رقم چاہیے اور میں اس وقت کسی نقصان کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں دوسرا یہ کہ مجھے جب بھی پیسے واپس کرو تو بینک کی طرح پوری رقم یک مشت مل جائے ۔
میں نے انہیں کہا کہ آپ میری دکان کےلئے20 لاکھ کا مال خرید کر مجھے ادھارمیں 22لاکھ کا فروخت کردیں ۔میں آپ کو ہر ماہ 16500 ہزار بطور قسط دونگا اور ایک سال بعد20لاکھ یک مشت آپ کی رقم واپس کرونگا ۔اس طرح آپ کے 22لاکھ بھی پورے ہوجائنگے اور نقصان بھی نہیں ہوگا۔ برائے کرم یہ بتا دیں کہ میرا یہ معاملہ کرنا سودی تو نہیں ہوگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ نے جو طریقہ کار بیان کیا ہے وہ مرابحہ ہے اور دو شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔ مال کی حقیقۃً خریدو فروخت کی جائے صرف قرض کا لین دین نہ ہواور مرابحہ کا عقد مال کی خریداری کے بعد کیا جائے۔ اس کا مناسب طریقہ یہ ہے سرمایہ دار پہلے تاجر کو اپنا وکیل بالشراء بنائے اور تاجر اس کی طرف سے 20لاکھ کے مال کی خریداری کرلےپھر اس کے بعدفریقین اس مال کی 22لاکھ پرعقد ِ مربحہ کا ایجاب و قبول کریں اورباہمی رضامندی سے جس طرح چاہیں اقساط کا تعین کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 73)
وبيع المرابحة وهو تمليك المبيع بمثل الثمن الأول وزيادة ربح.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 134)
(وشرط صحتهما كون العوض مثليا أو) قيميا (مملوكا للمشتري و) كون (الربح شيئا معلوما) ولو قيميا مشارا إليه كهذا الثوب لانتفاء الجهالةحتى لو باعه بربح ده يازده أي العشرة بأحد عشر لم يجز إلا أن يعلم بالثمن في المجلس فيخير شرح مجمع للعيني.
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۳۰/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


