03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹے،دوبیٹیاں اور ایک بیوی کے درمیان تقسیم میراث
71821میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:میرے والد محترم کا ایک سال قبل انتقال ہوگیا ہے۔انہوں نے ترکے میں ایک عدد مکان جس کی قیمت تقریبا اسی لاکھ رپے ہے،چھوڑا ہے۔ورثاء میں ہم تین بھائی، دو بہنیں اور والدہ محترمہ ہیں۔گھر کا کرایہ تقریبا تیس ہزار روپے آتا ہے جو کہ ہم نے باہمی رضامندی سے والدہ کود یدیا ہے۔مکان کا کچھ حصہ میری بڑی بہن نے اور کچھ حصہ میرے چھوٹے بھائی نے اپنی رہائش کے لیے تعمیر کیا ہے۔اب ہم شرعی طور پر گھر یا اس کی مالیت تقسیم کرنا چاہتے ہیں،اس کی کیا صورت بنے گی؟اگر ہم کرایہ بھی تقسیم کرنا چاہیں تو کس حساب سے تقسیم ہوگا؟اور تعمیراتی اخراجات کی رقم میراث کے مال میں سے واپس کرنی ہوگی یا نہیں؟مہربانی فرماکر قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والد محترم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ سامان بشمول اس گھر کے چھوڑا تھا وہ سب ان کا ترکہ تھا جس پر میراث کے احکام لاگو ہوں گے،نیز اس گھر سے حاصل ہونے والی آمدن(کرایہ)بھی ترکہ ہی شمار ہوگی جس کو تمام ورثاء میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم کیا جائےگا۔البتہ جو حصہ آپ کے بھائی بہن نے تعمیر کے لیے ملایا وہ چونکہ ان کی طرف سے تبرع نہیں تھا بلکہ وہ اپنے لیے کر رہے تھے،اس لیے اس مد میں ہونے والے اخراجات ان کو ترکہ میں سے واپس کیے جائیں گے۔

چنانچہ آپ کے مرحوم والد کے ترکہ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی جو مرحوم کے ذمہ واجب تھااور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) تک اس پہ عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو مال بچے اس کے کل 64حصے کرکے تمام ورثاء میں درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی        (ثمن)

8

12.5%

2

بیٹا                (عصبہ)

14

21.875%

3

بیٹا        (عصبہ)

14

21.875%

4

بیٹا        (عصبہ)

14

21.875%

5

بیٹی       (عصبہ)

7

10.937%

6

بیٹی       (عصبہ)

7

10.937%

کل

 

64

100فیصد

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ويستثنى من ذلك حق تعلق بعين كالرهن والعبد الجاني فإن المرتهن وولي الجناية أولى به من تجهيزه، كذا في خزانة المفتين ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، كذا في الاختيار شرح المختار ثم بالدين……. ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث، وهذا إذا كانت الوصية بشيء بعينه، فأما إذا كانت الوصية شائعة نحو الوصية بالثلث أو الربع لا تقدم الوصية على الميراث بل يكون الموصى له شريك الورثة في هذه الصورة يزداد بزيادة تركة الميت وينتقص حقه بنقصان تركة الميت، كذا في التتارخانية.

معاذ احمد بن جاوید کاظم 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب