021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال ِحرام کو اپنے پاس امانت رکھنا
71811خرید و فروخت کے احکاماموال خبیثہ کے احکام

سوال

سوال یہ ہے کہ میرے ایک جاننے والے ہیں بہت غریب ہیں ، وہ غلط صحبت کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے  منشیات میں لگ گئے اور اب نوبت یہاں تک آگئ کہ خود بھی کرتے ہیں اور اس کی چھوٹے پیمانے پر خریدو فروخت بھی کرتے ہیں اور اب اسی کو ذریعہ آمدن بنایا ہوا ۔جس سے ان کی کچھ سیونگ بھی ہوتی ہےاور وہ اکثر بیمار رہتے ہیں اس وجہ سے اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ رقم جوڑتےہیں تاکہ مرنے کے بعد ان کے کام آسکے لیکن وہ جس کے پاس بھی امانت رکھواتے ہیں تو لوگ اس میں خیانت کرتے ہیں ۔ اب وہ میرے پاس اپنی رقم لے کر آئیں ہیں کہ آپ اس کو بطور امانت رکھ لیں اور اس کو اگر چاہیں تو کسی نفع بخش کاروبار میں لگا سکتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ مجھے صرف آپ پر اعتماد ہے اگر آپ اس کونہیں رکھیں گے تو یہ ضائع ہوجائیں گے۔ میں نے وہ رقم اپنے پاس رکھ لی ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ کہیں میں اس رقم کو امانت رکھنے پر گناہ گار تو نہیں ہونگا ؟

o

مالِ حرام کو بلا نیت ِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے،اگر یہ مال اس لئے امانت رکھا گیا ہے کہ اس کو صدقہ کرنا ہے، تو  امانت رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہےلیکن اگر اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ واپس ذاتی استعمال میں لایا جائے گا جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تو تعاون علی الاثم کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 203)
وقد قال الله تعالى {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2].
مجلة البحوث الإسلامية (16/ 226)
وروي عن مالك بن دينار قال سألت عطاء بن أبي رباح عمن عنده مال حرام ولا يعرف أربابه ويريد الخروج منه؟ قال: يتصدق به ولا أقول : إن ذلك يجزئ عنه . قال مالك كان هذا القول من عطاء أحب إلي من زنة ذهب.
فقه البيوع(2/1006)
أنّ المِلك الخبيثَ سبيلُه التّصدّق إلى الفقراء، إذالم يُردّ إلى مالكه الأوّل،.....وجب عليه  التخلص منه بتصدقه عنه من غير نية ثواب الصدقة لنفسه.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔