03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کے مال ِحرام کو  نفع بخش کام میں لگانا
71812خرید و فروخت کے احکاماموال خبیثہ کے احکام

سوال

 اگر میں اپنے کاروبار کے علاوہ کسی اور جگہ اس  مال حرام کی اس بندے کی طرف سے انویسٹمنٹ کردو تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مال ِ حرام کا  اصل حکم یہ ہے کہ اس کا صدقہ کیا جائے ، مال ِ حرام کو کاروبار میں انویسٹ کرنے سمیت کسی بھی طرح کا استعمال اور نفع لینا جائز نہیں ہے۔آ پ کے ان کے لئے انویسٹمنٹ کرنا تعاون علی الاثم ہے اور ناجائز ہے۔

حوالہ جات

احكام المال الحرام (ص: 49)

الغلّة والرّبح الّذى حصل للغاصب أو كاسب الحرام قبل أداء بدله إلى المالك، أو قبل التّصدّق لايطيب له الانتفاعُ به حتّى يؤدّى بدله..

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب