03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل سے تصویر لینے کا حکم
72147جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

موبائل سے تصویر لینے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈیجیٹل تصویر بھی اگرچہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے،البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زیادہ فقہی آراء موجود ہیں،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیساکہ جہاد اور دین کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہےجن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلاعریانیت،موسیقی  یا غیر محرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں ۔ایسی صورت حال میں عوام کے لئے یہ حکم ہےکہ عام مسائل میں جن مفتیان کرام کے علم وتقوی پر اعتما د کرتے ہیں اس مسئلے میں بھی انہی کی رائے پر عمل کریں اور اس طرح کے مختلف فیہ مسائل کو آپس میں اختلاف و انتشار کی بنیاد بنانے سے گریز کریں۔

حوالہ جات

المدونة "(1/182):
"
قال ابن القاسم: وسألت مالكا عن التماثيل وتكون في الأسرة والقباب والمنار وما أشبهها؟
قال: هذا مكروه وقال لأن هذه خلقت خلقا، قال: وما كان من الثياب والبسط والوسائد فإن هذا يمتهن، قال: وقد كان أبو سلمة بن عبد الرحمن يقول ما كان يمتهن فلا بأس به وأرجو أن يكون خفيفاومنتركه غيرمحرم له فهو أحب إلي".
"
حاشية الصاوي على الشرح الصغير " (2/ 501):
"
والحاصل أن تصاوير الحيوانات تحرم إجماعا إن كانت كاملة لها ظل مما يطول استمراره، بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيوانا، وبخلاف ما لا ظل له كنقش في ورق أو جدار. وفيما لا يطول استمراره خلاف".
"
الذخيرةللقرافي "(13/285):
"
والمحرم من ذلك بإجماع ماله ظل قائم على صفة ما يحيى من الحيوان وما سوى ذلك من الرسوم في الحيطان والرقوم في الستور التي تنشر أو البسط التي تفرش أو الوسائد التي يرتفق بها مكروهة وليس بحرام في صحيح الأقوال لتعارض الآثار والتعارض شبهة

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

۳۰/۶/۱۴۴۲

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب