03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے قول ’’میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ‘‘ کا حکم
73504طلاق کے احکامبیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل

سوال

ایک شخص جس کا اپنی بیوی سے کسی بات پر تکرار ہوا  اس کی بیوی نے اس سے بدتمیزی کی ۔اس نے  اپنی بیوی کی بدتمیزی کو معافی  پر مشروط رکھا  کہ آپ اپنی غلطی کی معافی مانگ لیں میں معاف کر دیتا ہوں۔لیکن بیوی بضد رہی۔جس پر شوہر نے یہ بات کہی کہ آئندہ میں تمہارے قریب بھی نہیں آؤں گا ۔اب اس بات کو تقریبا دو سال مکمل ہو گئے لیکن میاں بیوی حقوقِ زوجیت کے علاوہ باقی امور گھرداری جیسے مل کر کھانا کھانا وغیرہ کرتے ہیں،حتی کہ بوس و کنار کا سلسلہ بھی نہیں ہے۔ برائے مہربانی اس سے متعلق شرعی حکم بتلا دیں۔                                        

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی طور پر  ’’ایلاء ‘‘  میں اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی صورت میں  ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔

ایلاء کہتے ہیں کہ کوئی  شخص چار ماہ یا اس سے زیادہ اپنی بیوی کے  ساتھ صحبت نہ کرنے کی قسم   کھائے اور وہ قسم اللہ کے نام یا اس کی کسی صفت کو ذکر کے کھائی گئی ہو،یا پھراس قول کو شرط اور جزاء کی صورت میں ذکر کیا گیا ہو جیسا کہ کوئی اپنی بیوی سے کہے اگر میں تمہارے قریب آیا تو مجھ پر حج لازم ہے۔اس طرح قسم کھانے یا شرط اور جزاء کی صورت میں ذکر کرنے کے بعد اگر وہ 4 ماہ یا اس سے زائد  اپنی بیوی کے قریب نہ جائے تو اس کی بیوی کو ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔

مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر کے اس قول    ’’ آئندہ میں تمہارے قریب بھی نہیں آؤں گا ‘‘ میں نہ تو اللہ کی ذات اور صفات کی قسم کھائی گئی ہے اور نہ ہی اس  کو شرط اور جزا ء کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے۔لہذا اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔مذکورہ عورت حسب سابق شوہر کے نکاح میں ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 161)

اللفظ الدال على منع النفس عن الجماع في الفرج مؤكدا باليمين بالله تعالى أو بصفاته أو باليمين بالشرط والجزاء۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 166)

أما اليمين بالشرط والجزاء فنحو قوله: إن قربتك فامرأتي الأخرى طالق، أو قال: هذه طالق أو قال: فعبدي هذا حر أو فأنت علي كظهر أمي أو قال: فعلي عتق رقبة أو فعلي حجة أو عمرة أو المشي إلى بيت الله أو فعلي هدي أو صدقة أو صوم أو اعتكاف؛ لأن الإيلاء يمين واليمين في اللغة عبارة عن القوة، والحالف يتقوى بهذه الأشياء على الامتناع من قربان امرأته في المدة؛ لأن كل واحد منها يصلح مانعا من القربان في المدة لأنه يثقل على الطبع، ويشق عليه فكان في معنى اليمين بالله عز وجل لحصول ما وضع له اليمين، وهو التقوي على الامتناع من مباشرة الشرط.

وكذا يعد مانعا في العرف والعادة فإن الناس تعارفوا الحلف بهذه الأشياء.

  محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

22/11/1442

‏                                          

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب