| 71986 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
دیگر بہن بھائیوں کا کہنا کہ ہم دو بھائی(حق نواز اور عبدالصمد ) اپنے حصے کے پیسے وصول کریں اور تین مہینے میں مکان خالی کردیں جبکہ میرا کہنا ہے کہ مجھے پیسے نہیں چاہیےبلکہ اس مکان میں جگہ چاہیے،مجھے چھت پر جگہ دے دیں میں چھت پر اپنے کمرے بناؤ گالیکن یہ لوگ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب ورثاء اس گھر میں اپنے حصہ کےبقدر شریک ہیں،کوئی ایک وارث دوسرے کو اس کی رضامندی کے بغیر پیسے لے کر حصہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔لہذاآپ کا جس قدروالد صاحب کے گھر میں حصہ بنتا ہے ،دیگرورثاءآپ کو اتنی جگہ دینے کے شرعاً پابند ہیں۔ لہذا دیگر ورثاء کا آپ کو تین مہینے مین مکان کھالی کرنے کا کہناجائز نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية - (2 / 301)
ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه الترکة ضربان: شرکة أملاک وشرکة عقود، فترکة الأملاک العین یرثہا رجلان ویشتریانہا فلایجوز لأحدہما أن یتصرف في نصیب الآخر إلا بإذنہ“ (ہدایہ: ۲/۶۲۴، تھانوی)
مصطفی جمال
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
۳۰/۶/۱۴۴۲
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


