03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سبزی منڈی میں مزدور ں سے نقصان کا ضمان وصول کرنا
71946اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

مالک ( سیٹ ) کے مال (بوری وغیرہ) میں سے کوئی چیزچوری ہوجاتی ہے تو اس کا تاوان مجموعی بھتہ سے وصول کرتا ہے ۔کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے؟

تنقیح: یہ منڈی کا مسئلہ ہے ، اس میں جو سیٹ لکھا گیا ہے اس سے مراد جمع دار ہے۔یعنی دس بارہ بندوں کا گروپ ہوتا ہے ،سیٹ ان کا امیر ہوتا ہے اور باقی دس بارہ لوگ اس کے ماتحت کام کرتے ہیں ، مثلاً اگر بوریا ں اٹھانی ہیں تو یہ بس دور بیٹھ کر،ان کو شمار کرے گا اور ان کی نگرانی کرےگا۔ اس کے  ماتحت جو مزدور ہیں وہ بوری کو اٹھا کر اگر لادھنا ،لے کر جانا ہو تو وہ یہ سارا کام کرتے ہیں، اس دوران بوری یا  کسی بھی پھل کی پیٹی  میں سے کچھ نا کچھ کمی ہوجاتی ہیں۔اگر یہ کم  ہوجائے تو شام میں جب ٹوٹل مزدوری سیٹ کے پاس آتی ہےتو اس مجموعی مزدوری میں سے  اس نقصان کا تاوان اندازہ لگا کر وصول کرلیتا ہے۔حقیقت میں تو کسی ایک مزدور نے کوتاہی کی ہوگی یا کسی ایک بوری سے پھل کم ہوا ہوگا لیکن یہ سب کی مجموعی مزدوری میں سے کٹوتی کرلیتا ہے۔

منڈی میں عام طور پر ایسے مزدور جس کے پاس ضرورت ہوتی ہے ،اس کے پاس کام کرتے ہیں پھر کام پورا ہونے کے بعد دوسرے کے پاس چلے جاتے ہیں لیکن صورتِ مسئولہ میں یہ مزدور صرف ایک سیٹ کے پاس کام کرتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ اگر  ایسے مزدور ں سے متعلق ہے،جو سیٹ کے مستقل ملازم ہیں اور کچھ نہ کچھ روزانہ یا ماہانہ تنخواہ مقررہےاور کام کے اعتبار سے الگ دہاڑی بھی ملتی ہےتو پھر یہ مزدور امین ہیں ،ان سےچوری یا ہلاک شدہ مال کا ضمان لیناجائز نہیں ، الا یہ کہ کسی مزدور کی واضح کوتاہی ثابت  ہوجائے تو صرف کوتاہی کرنے والے مزدور سے  ضمان لیا جاسکتا ہے۔البتہ ایسے مزدور جو صرف کام کرنے پر ہی اجرت کے مستحق ہوتے ہیں اور کسی مخصوص آڑھتی  کے  پاس بھی کام نہیں کرتےتو پھر اس کام  میں حصہ لینے والےسارے مزدور  نقصان کے  ضامن ہیں، ان کی مجموعی مزدوری سے حقیقی نقصان وصول کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69)

والثاني وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة .. (ولا يضمن ما هلك في يده أو بعمله) كتخريق الثوب من دقه إلا إذا تعمد الفساد فيضمن كالمودع.

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 264)

 (قوله: والأجراء على ضربين: أجير مشترك وأجير خاص، فالمشترك كل من لا يستحق الأجرة حتى يعمل .وقال أبو يوسف ومحمد هو مضمون عليه بالقبض...هما يقولان هو مضمون احتياطا لأموال الناس؛ لأن الأجراء إذا علموا أنهم يضمنون اجتهدوا في الحفظ.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 135)

وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه تحصل صيانة أموالهم.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب