021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ کی تاریخ کا غالب گمان کی بنیاد پر تعین
72500زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

 اگر کسی نے کئے سالوں سے زکوۃ کی تاریخوں کا خیال نہ رکھا ،لیکن اب وہ غالب گمان کی بنیاد پر خیال رکھے تو کیا اس طرح صحیح ہوگا؟اس بارے میں صحیح طریقہ بتادیں ۔

o

موصوف قمری(چاند) کی تاریخ مقرر کرلیں ،جس میں غالب گمان کے مطابق  سب سے پہلے صاحب نصاب 

ہوئے تھے ،آئندہ  ہر سال اسی ماہ میں زکوۃ کا حساب کیا کریں ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية - (1 / 175)
(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان
النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ولو استبدل
مال التجارة أو النقدين بجنسها أو بغير جنسها لا ينقطع حكم الحول.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔