021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عامل سے استخارہ کروانا
72005جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک بندہ استخارہ کرتا ہے اور لوگ استخارہ کروانے کےلئے اس سے مختلف امور میں رجوع بھی کرتے ہیں ۔مثلاً رشتے کے لئے ،کام کاربار کے تعین کے لئے ، جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے اور اس طرح مختلف معاملات میں استخارہ کرواتے ہیں اور ان کا استخارہ کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ شاگردوں میں سے کسی کو بٹھا کر آنکھیں بند کروا کر چیک کرتے ہیں اور اس عمل کے دوران قرآنی آیات اور اسماء الحسنی کا ورد کرتے ہیں تو جو اس کے شاگرد کو نظر آتا ہےمناسب ہونا یا مناسب نہ ہونا تو اس کے مطابق وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں ۔کیا ایسے بندے سے استخارہ کروانا جائز ہے یا نہیں؟

o

استخارہ  کا مطلب  کسی بھی امر متحیریا مترددسے متعلق اللہ رب العزت سے خیر کی دعا کرنا ہے۔حضور ﷺنے  جن احادیث میں استخارہ کی اہمیت بیان کی ہے وہاں استخارہ کے بارے میں تعلیم بھی دی ہےجو انتہائی آسان ہے۔

حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے یہ دعا کرے،(یعنی استخارہ کی دعا کرے)۔ ۔ اگر یہ دعا یاد نہ ہویا یاد کرنا مشکل ہوتو خوب گڑگڑا کر اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ:"اے اللہ!اگر اس کام  کےکرنےمیں میرے لئے خیر ہو تو اس کو میرے لئےآسان فرمادیجئے،اور اگر نہ کرنے میں خیر ہو تو میرا دل اس سے پھیر دیجئے۔ اس کے بعد کسی خواب کا آنا ضروری نہیں بلکہ جس بات کی طرف دل مائل ہو اور اسباب بنتے جارہے ہوں وہ کام کرلیا جائے۔لہذا اصل طریقہ خود استخارہ کرنے کا ہے، دوسرے سے کروانے کا نہیں ہے، تاہم  دوسرے قریبی رشتہ دار،جیسے والدین  سے استخارہ کروانا بھی جائز ہے ۔ آج کل عاملوں نےاپنی دکان لگانے کے لئے استخارہ کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہوئے ہیں جو کہ خلافِ سنت ہیں اور لوگوں کے عقائد خراب کرنے کا پیشِ خیمہ ثابت ہورہے ہیں، کہ لوگ ان عاملوں کی وجہ سے  ہی  استخارے کو بھی مستقبل  میں ہونے والے واقعات معلوم کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں ۔ استخارہ شریعت میں اس غرض سےمنقول نہیں ، بلکہ وہ تو محض کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا تردد اور شک دور کرنے کے لیے ہے۔لہذا ایسے عامل  سے چاہے کسی بھی مسلک  سے تعلق رکھتے ہوں، استخارے کے سلسلے میں رجوع کرنے سے گریز کیاجائے اور ایسے استخارہ کے ثمرہ کا یقینی طور پر ہونے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

(اغلاط العوام)
صحيح البخاري (1/ 391)
الاستخارة طلب الخير وهو كل معنى زاد نفعه على ضره.
صحيح البخاري (1/ 391)
 جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول ( إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب . اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خيرلي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أوقال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به . قال ويسمي حاجته )

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔