021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقروض کو زکاۃ  دینےکا حکم
71557زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

 

سوال:کیا ایسے شخص کو زکاۃ دی جاسکتی ہے ، جس  نے لوگوں سے دھوکہ دیکر پیسے لئے ہوں اوراس سے متعلق یہ باتیں زبان زدِ عام ہو کہ اس نے عیاشیوں میں پیسے ضائع کردیئے ہیں اور  اب  اس کے پاس لوگوں کا پیسہ اداکرنے کے لئے کچھ مال نہ ہو، اور اس وجہ سے وہ اس کا پورا خاندان پریشانی اورذلت کا سامنہ کررہا ہو۔اسی طرح قریبی رشتہ دار جو مالدار ہوں ، وہ اپنی زکاۃ کی رقم سے اس کی مدد کرسکتے ہیں؟

 

 

o

ایسا شخص اگر توبہ تائب ہوجائے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرلے تو ایسے  شخص کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے

گی،بلکہ       مقروض کو زکاۃ دینا عام فقیر کو دینے سے زیادہ  بہتر ہے۔

اسی طرح اگر قریبی رشتہ دار اپنی زکاۃ کی رقم سے ایسے شخص کی مدد کریں تو ان کا دوگنا ثواب ملے گا ، ایک زکاۃ کی

ادائیگی کا اور دوسرا صلح رحمی ۔

حوالہ جات

صحيح البخاري ـ م م (2/ 122)
قال النبي صلى الله عليه و سلم نعم لها أجران أجر القرابة وأجر الصدقة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 353)
وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال)
بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا) أو لا يفضل بعد دينه (نصاب) فلا يكره فتح.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 343)
(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير.

مصطفی جمال

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/04/1442

n

مجیب

مصطفیٰ جمال بن جمال الدین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔