021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ابراہیم علیہ السلام کے ذبح کردہ مینڈھے کے بارے میں چند سؤالات کی تحقیق
75137تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دنبہ ذبح کیا تھا وہ کہاں سے آیا تھا، اس کا رنگ کیا تھا؟ اس کی عمر اور قد کیا تھا اور اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس کی کھال کس کو دی گئی تھی؟ اس کے سری پائے کا کیا ہوا تھا؟ خانہ کعبہ پر اس کے اس کے سینگوں کے نصب کئے جانے اور بعد میں خانہ کعبہ کے ساتھ اس کے نظر آتش ہونے کی بات کیسی ہے؟ اور یہ کب کی بات ہے؟

o

وہ مینڈھا جنت سے آیا تھا، اور بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ تھی اس لیے کہ تاریخ طبری میں ابن عباس  رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق وہ جنت میں چالیس سال چرتا رہا تھااور اس کے گوشت کے متعلق نجم الفتاوی(ج۱،ص۴۵۲) میں حاشیۃ الصاوی علی الجلالین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کا گوشت پرندوں نے کھا یا تھا،لہذا ایسی صورت میں غالب یہی ہے کہ اس کی کھال بھی الگ نہیں کی گئی تھی،البتہ اس کےسر سمیت سینگوں کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں خانہ کعبہ پر نصب کردیا گیا تھا، جو بعد میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ کی لڑائی میں مخالفین کے منجنیق یعنی گوپھن سے حملہ کے ذریعہ اس میں آگ لگی اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عورت کعبہ کو دھونی دیتی تھی، اس سے آگ لگی،بہر حال دونوں صورتیں ممکن ہیں،نیز دھونی دینےسے آگ لگنے کا ایک واقعہ دوسرا قریش کے زمانہ میں بھی پیش آیاہے، ممکن ہے یہ واقعہ دو دفعہ ہوا ہو، یہ سر مع سینگوں کے اول کعبہ کے میزاب یعنی پرنالے پر لٹکا ہوا تھا اور بعد میں اسے وہاں سے ہٹاکر چھت پر لٹکایا گیا تھا،چنانچہ صفیہ بنت شیبہ کی روایت ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ عثمان ابن  طلحہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ سے باہر تشریف لائے تو تمہیں کیا کہا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے مینڈھے کے یہ دونوں سینگ کعبہ میں دیکھے لیکن  آپ کو یہ بات بتانا بھول گیا کہ کعبہ میں لٹکے ان سینگوں کو ڈھانپ لیا جائے ، اس لیے کہ مناسب نہیں کہ کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز لٹکی رہے جس سے نمازیوں کا خیال بٹ جائے۔ (سیرت حلبیہ اردو:ج۱،ص۵۴۰ تا ۵۴۱)

حوالہ جات

السيرة الحلبية = إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون (1/ 242)
فلما جاء الجيش إلى مكة حاصر عبد الله وضرب بالمنجنيق، نصبه على أبي قبيس قيل وعلى الأقمر وهما أخشبا بمكة فأصاب الكعبة من ناره ما حرق ثيابها وسقفها فإن الكعبة كانت في زمن قريش مبنية، مدماك من خشب الساج، ومدماك من حجارة كما تقدم.
السيرة الحلبية = إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون (1/ 243)
وقيل إن سبب بناء عبد الله بن الزبير رضي الله تعالى عنهما للكعبة أن امرأة بخرتها فطارت شرارة فعلقت بثيابها فحصل ذلك، ولا مانع من التعدد. وقد وقع أيضا احتراقها بتبخير المرأة في زمن قريش، ولا مانع من تعدد ذلك كما تقدم.
وعدّ بعضهم أن من البدع تجمير المسجد وأن مالكا كرهه. وقد روي أن مولى عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه كان يجمر المسجد النبوي إذا جلس عمر رضي الله عنه على المنبر يخطب، ومع حرق الكعبة حرق قرنا الكبش الذي فدي به إسماعيل فإنهما كانا معلقين بالسقف.
أقول: ولعل تعليقهما في السقف كان بعد تعليقهما في الميزاب. فقد ذكر بعضهم جاء الإسلام ورأس الكبش معلق بقرنية في ميزاب الكعبة، ويدل لتعليقهما في السقف ما جاء عن صفية بنت شيبة قالت لعثمان بن طلحة «لم دعاك النبي صلى الله عليه وسلم بعد خروجه من البيت؟ قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني رأيت قرني الكبش في البيت فنسيت أن آمرك أن تخمرهما فخمرهما فإنه لا ينبغي أن يكون في البيت شيء يشغل مصليا» .

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۸ربیع الثانی۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔