021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا نکاح کے لئے کسی اجنبی کو وکیل بنانا
73500نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میں بیوہ عورت تھی ، میرے شوہر کی شہادت افغانستان میں ہوئی ،میں اس ووقت کراچی آگئی ، کراچی آنے کےبعد میرا ور میرے بچوں کےاخراجات میرے ششوہر کے چچا زاد بھائی اٹھانےلگا۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا اور کہا کہ ابھی ہمویڈیو کال پر  نکاح کر لیتے ہین کچھ تائم بعد گھر والوں کو بتا دیں گے۔ ویڈیو کال پر نکاح میں اس کے تین دوست شامل تھےجس میں سے ایک دوست میری طرف  سے وکیل بنا اور باقی دو دوست نکاح کے گواہ تھے۔اور نکاح پڑھایا گیا کہ ’’ فلاں ولدیت فلاں کو آپ اپنے نکاح میں قبول کرتی ہیں،دو گواہوں کی موجودگی میں( میرے وکیل نے دونوں گواہوں کے پورے نام ولدیت کے ساتھ  لیے)،50ہزار حق مہر کے ساتھ‘‘ میں نے قبول کر لیا۔اسی طرح میرے وکیل سے بھی پوچھا گیا دونوں گواہوں کی موجودگی میں اس نے بھی قبول کر لیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر کے بھائی اس نکاح کو نہیں مانتے ، کہتے ہیں کہ نکاح نہیں ہواکیوں کہ عورت کے گواہ نہیں تھے ۔میں نے اور میرے شوہر نے نکاح سے پہلے تحقیق کی تھی اور انہوں نے یہ مسئلہامام صاحب سے  پوچھا تھا،انہوں یہ ہی بتایا تھا کہ عورت کا وکیل کافی ہے اسے گواہ کی ضرورت نہیں۔اسی طرح مفتی طارق مسعود صاحب کا بیان سنا جس میں وہ فرما رہے تھے’’ بیوہ عورت کا نکاح اس کے ولی کے بغیر ہو جاتا ہے چونکہ وہ خود مختار ہوتی ہے اور اپنے فیصلے خودکر سکتی ہے ،اور اگر لڑکی کنواری ہو تو ولی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہماری شرعی طور پر رہنمائی فرما دیجئے کہ ہمار ا نکاح ہوا ہے کہ نہیں؟

o

وکیل بنانے میں ضابطہ یہ ہے کہ جو کام انسان خود کر سکتاہے اس کا کسی اور کو بھی وکیل بنا سکتا ہے،اجنبی کواپنے نکاح کا وکیل بنا نا اگرچہ درست ہے لیکن یہ مروت اور شرافت کے خلاف ہے۔اسی طرح اولیاء کی اجازت کے بغیر اگرچہ عاقلہ بالغہ عورت کا نکاح ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی  شریعت میں پسندیدہ نہیں ہے۔اور نکاح کے لئے مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے ،یہ دو گواہ میاں بیوی دونوں کی طرف سے کافی ہیں،عورت کی طرف سے علیحدہ گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

مذکورہ  صورت میں وکیل نے  دو گواہوں کی موجودگی میں عورت کی جانب سے قبول کیا ہے تو یہ نکاح  از روئے شریعت درست ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 268)
ومنها (شرائط النکاح)سماع الشاهدين كلامهما معا هكذا في فتح القدير.
البناية شرح الهداية (9/ 217)
كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره) ش: هذه ضابطة يتبين بها ما يجوز للوكيل به وما لا يجوز.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 247)
 الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 55)
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا .....(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ..(الاعتراض في غير الكفء).....

 محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

22/11/1442

                           

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔