021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا معلم مستحق ِ زکوۃ ہے
73569زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

دینی مدارس میں پڑھانے والے بعض معلمین کی تنخواہ پندرہ ہزاریا اکیس ہزار ہے اوراسی تنخواہ میں انہوں انے اپنی گندم اور بچوں کے لئے دودھ او ر بجلی وغیرہ کا بل اور اپنی دیگر ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے جبکہ ان کے دو دو یا پانچ پانچ یا اس سے کم یا زیادہ بچے بھی ہیں اور ان کا ذریعہ معاش اسی تنخواہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں اور اسی مذکورہ تنخواہ سے انہوں نے اپنے علاقوں میں اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے مکان وغیرہ بھی تعمیر کروانے ہیں۔

اب مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ ایسے معلمین کو عشر یا زکوۃ وغیرہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟
 

o

اصول یہ ہے کہ جس مسلمان کے پاس بنیادی ضرورت (رہنے کا مکان،کپڑے  اور برتن  وغیرہ ) کے علاوہ بقدر نصاب مال یا سامان موجود نہ ہواور وہ شخص سید یا قریشی بھی نہ ہو تو وہ زکوۃ  کا مستحق ہے،اسے اس کی ضرورت کے بقدر زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

اور اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی  یا سامانِ تجارت ہو ،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسا   شخص خود  صاحبِ نصاب ہے ،مستحقِ زکوۃ نہیں ہے۔

لہذا اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے معلمین میں سے جو مستحقِ زکوۃ ہے اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے۔اور جو مستحق ِ زکوۃ نہیں اسے زکوۃ نہیں دی جاسکتی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 189)
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.

محمد عبدالرحمن ناصر 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

30/11/1442

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔