021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امانت میں تعدی کا حکم ،اورایک زوجہ ، چار بھائیوں اور تین بہنوں میں تقسیم میراث
71465میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری شادی کے وقت میرے شوہر اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے تھے ۔میرے شوہر کی ایک  والدہ ،ایک چھوٹا بھائی اورپانچ  بہنیں ہیں، میرا شوہر انہیں کےساتھ اس مکان میں رہتا تھا جو ان کے والد کا تھا۔ان کےوالد کی اس وقت وفات ہو چکی تھی۔اس مکان کو شرعی طور پر تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔میرا شوہر تمام گھر کا خرچہ برداشت کرتا تھا ، دو بہنوں کی شادی بھی کی،اسی طرح اس مکان کے اوپر تعمیرات بھی اپنے خرچے سے کی۔میرے شوہر کا چھوٹا بھائی اپنے روزگار کے بعد بھی ہرماہ تین چار ہزار قرض لے لیتا،اسی طرح ایک مرتبہ دس ہزار قرض لیا اور واپس نہیں کیا۔

 پھر اس مکان کو چار لاکھ میں  فروخت کیا گیا اور بوقت فروخت بھی اس کی تقسیم نہیں ہوئی تھی،یہ پیسے میرے شوہر کے بہنوئی کے پاس پانچ سال رہے ،ہمارے مانگنے کے باوجود  ہمیں نہیں دیے بلکہ انہوں نے اپنے کاروبار میں لگائے رکھے  اور اس پر کوئی پرافٹ بھی نہیں  دیا۔میرے شوہر نے اپنی بہن کے ہاں کمیٹی ڈال رکھی تھی جو کہ دو لاکھ کی تھی۔ میرے شوہر کے بہنوئی نے وہ چار لاکھ پانچ سال بعد واپس کیے پھر اس چارلاکھ  سے اور دو لاکھ ہماری کمیٹی والے  سے ملا کر  چھ لاکھ کا مکان خریدا گیا۔میرے شوہر کی دو لاکھ دینے میں رضا مندی نہیں تھی  ،زبردستی اس کو مکان کی خریداری میں شامل کیا گیا۔اب اس مکان کی قیمت ستر لاکھ ہے ۔ہم اس مکان کو بیچنا چاہتے ہیں اور وہ ہمیں کہتے ہیں کہ والدہ کی وفات تک اسے بیچا نہیں جا سکتا ، کہتے ہیں کہ مفتی صاحب  کا فتوی یہ ہے کہ تمہارے حصے میں  تیرہ لاکھ ،ہر بہن کے حصہ میں چھ لاکھ اسی ہزار اور والدہ کے حصہ میں آٹھ لاکھ پچیس ہزار آتے ہیں۔تم اپنے تیرہ لاکھ لے لو۔جبکہ میرے شوہر کا کہنا یہ ہے کہ میرے مکان خریدنے میں جو دو لاکھ شامل کیے ہیں پہلے وہ جدا کرو پھر جو پیسے بچتے ہیں اس کو سب ورثاء پر تقسیم کرو۔یہ لوگ اس بات پر راضی نہیں ہیں ۔ اب شریعت کے اعتبار سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔                      

 

o

اس صورت میں چھ لاکھ سے جو مکان خریدا گیا ہے اس میں دو لاکھ بیسی  کا تھا جبکہ چار لاکھ موروثی مکان کا تھا ۔تو اس چھ لاکھ میں وراثت دو تہائی حصہ میں تقسیم ہو گی جو کہ چار لاکھ ہے۔بقیہ ایک تہائی یعنی   دولاکھ بیسی کا تھا اور بیسی کی جو صورت سوال میں مذکور ہے وہ بیسی کی مروجہ صورت کی طرح  نہیں  ہے( جس میں بہت سے شرکاء ہوتے ہیں اور ہر ماہ معین رقم جمع کرواتے ہیں پھر قرعہ اندازی کے ذریعے ہر ماہ ایک شریک کو معینہ رقم دی جاتی ہے)لہذا یہ قرض نہیں ہے، بلکہ انفرادی بیسی تھی ،جو بچت کی غرض سے اپنی بہن کے پاس جمع کروائی گئی تھی ،تو یہ امانت ہو گی۔پھر بوقتِ مطالبہ یہ امانت واپس نہ کی گئی اور تعدی کرتے ہوئے بھائی کی رضامندی کے بغیر مکان کی خریداری میں لگا دی گئی ،لہذا یہ دو لاکھ بہن کے ذمہ ہے کہ بطورِ ضمان اس بھائی کو واپس کرے ، اور  دو لاکھ پر جو نفع حاصل ہوا ہے وہ اس بہن کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ،بلکہ دیانۃ اس بہن پر لازم ہے کہ یہ رقم یا تو صدقہ کرےیا اس بھائی کی رضامندی حاصل کرنے  کے لئے، اس دو لاکھ  پر حاصل ہونے والا نفع بھی اس بھائی کو دے ۔اس لیے موجودہ ستر لاکھ والے مکان میں ایک تہائی حصہ 2,333,331روپے میں سے دو لاکھ توبہن بطورِ ضمان ادا کرے گی اور بقیہ اس پر حاصل ہونے والا نفع 2,133,331 روپے بھی دیانۃ اسی بھائی کو دے۔پھر بقیہ دو تہائی رقم یعنی   4,666,661 میں وراثت تقسیم ہو گی۔

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

نقدی حصہ

زوجہ

9

12.5001

583338

بیٹا

14

19.4444

907405

بیٹا

14

19.4444

907405

بیٹی

7

9.7222

453702

بیٹی

7

9.7222

453702

بیٹی

7

9.7222

453702

بیٹی

7

9.7222

453702

بیٹی

7

9.7222

453702

کل

72

100

4,666,661

اگر مرحوم کےورثاء میں والدین ، دادا ، دادی ، وغیرہ دیگر ورثاء میں سے کوئی موجود نہیں ہے اور صرف یہ ورثاء ہیں جو سوال میں درج ہیں تو مرحوم کے ترکہ سے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالنے کے بعد اگر ان کےذمہ قرض وغیرہ مالی واجبات ہوں تو وہ ادا کیے جائیں،پھر اگر انہوں  نےکوئی جائز وصیت کسی غیر وارث کے لیے کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کےایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے ،پھرجو ترکہ بچ رہے اس میں سے زوجہ کو12.5001فیصد اور ہر بیٹے کو 19.4444فیصد اور ہر بیٹی کو 9.7222 فیصد حصہ دیا جائے گا ۔صورتِ مسؤلہ میں اگر   بچنے والی یہی  4,666,661رقم ہے،جس میں میراث تقسیم ہونی ہے ،توزوجہ کو583338اور ہر بیٹے کو907405 اور ہر بیٹی کو453702روپے ملیں گے۔تفصیل کیلیے درج ذیل نقشہ ملاحظہ ہو۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 275)
وإن طلبها (الودیعۃ)ربها فحبسها قادرا على تسليمها فمنعهايعني لو منع صاحب الوديعة بعد طلبه وهو قادر على تسليمها يكون ضامنا لأنه ظالم بالمنع.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 298)
ومن غصب ألفا فاشترى بها جارية فباعها بألفين ثم اشترى بالألفين جارية فباعها بثلاثة آلاف درهم فإنه يتصدق بجميع الربح، وهذا عندهما" وأصله أن الغاصب أو المودع إذا تصرف في المغصوب أو الوديعة وربح لا يطيب له الربح.
البناية شرح الهداية (11/ 198)
ومن غصب عبدا فاستغله فنقصته الغلة فعليه النقصان فلو هلك العبد في يد الغاصب حتى ضمنه له أن يستعين بالغلة في أداء الضمان؛ لأن الخبث لأجل المالك، ولهذا لو أدى إليه يباح له التناول، فيزول الخبث بالأداء إليه،..... لأن ما ملكه والخبث حق الملك لأجل كون الخبث حق المالك ولم يكن لكونها ملكا له لو أدى الغلة م إلى المالك مع أداء العبد يباح له التناول فيزول الخبث بالأداء إلى المالك؛ لأن الخبث كان لحق المالك فيزول بالصرف إليه.
قيل: هذا إذا كان فقيرا، وإن كان غنيا فيه روايتان، قال شيخ الإسلام - رَحِمَهُ اللَّهُ - علاء الدين الأسبيجابي في " شرح الكافي ": والصحيح أنه يجوز الصرف إلى المالك وإن كان غنيا .
مجمع الضمانات (ص: 130)
لو ربح بدراهم الغصب كان الربح له، ويتصدق به، ولو دفع الغلة إلى المالك حل للمالك تناولها .

محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

22/06/1442

‏                                                        

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔