021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولیمہ کرنے کا مسنون طریقہ
75293نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ   ولیمہ کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟  کیا رخصتی سے پہلے کر سکتے ہیں یا رخصتی کےفوراً  بعد پہلے  ہی  دن کرنا ضروری ہے؟  اگر کوئی شخص رخصتی کے کچھ دن بعد کر لے تو کیا سنت ادا ہو جائے گی؟

o

ولیمہ کا اصل وقت تو  رخصتی کے بعد ہی ہے، تاہم اگر کوئی نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے کر لے تو  اس سے بھی سنت ادا ہو جائے گی، رخصتی کے بعد پہلے دن کرنا ضروری نہیں ۔

البتہ رخصتی کے تین دن تک ولیمہ کرنا مسنون ہے، تین دن کے بعد ولیمہ کرنا فقط ضیافت شمار ہوگی۔

حوالہ جات

عن ‌أنس رضي الله عنه قال:   
جاءعبد الرحمن بن عوف وعليه وضر من صفرة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: مهيم، قال: يا رسول الله، تزوجت امرأة من الأنصار... قال: ‌أولم ولو بشاة.
(صحیح البخاري: 2049)
في الھندیۃ:
 وليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة، وهي إذا بنى الرجل بامرأته، ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء، ويذبح لهم، ويصنع لهم طعاما.... ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد، ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية.
 (الفتاوی الھندیۃ: 5/343)
قال العلامۃ  الکاسانی  رحمہ اللہ تعالی:
   إذا أراد أحدهم الوليمة - وهي ضيافة التزويج - وينبغي أن يجوز؛ لأنها إنما تقام شكرا لله تعالى  على نعمة النكاح وقد وردت السنة بذلك عن رسول الله  صلى الله عليه وسلم   أنه قال  ‌أولم ولو بشاة. فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة، فقد أراد بها التقرب إلى الله .
( البدائع الصنائع: 5/72)
قال العلامۃ  السھارنفوري  رحمہ اللہ تعالی:
 یجوز أن یؤلم بعد النکاح، أو بعد الرخصۃ، أو بعد أن یبنی بھا. والثالث ھو الاولی.
 (بذل المجھود: 4/345)

عبدالعظیم

دارالافتاء، جامعۃالرشید ،کراچی

06/جمادی الثانیہ     1443 ھ               

n

مجیب

عبدالعظیم بن راحب خشک

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔