021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رکوع کب ادا ہوگا؟
75366نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

نماز کے رکوع میں اگر کمر بالکل سیدھی نہیں ہو سکی اور تسبیح پوری پڑھ لی تو کیا رکوع ادا ہوجائے گا؟نیز اگر کمر بالکل سیدھی ہوگئی مگر تسبیح نہیں پڑھی تو کیاپھر بھی رکوع ادا ہوجائے گا یا نہیں؟

o

رکوع  کے لیے اتنا جھکنا فرض ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور ایک تسبیح  کے بقدر اسی حالت میں رہے۔ تسبیح پڑھنا واجب نہیں صرف مسنون ہے۔لہذا اگر کوئی شخص بقدر تسبیح رکوع میں اتنا جھک جاتا ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ  گئے تو رکوع ادا ہوگیا۔ اگر ہاتھ گھٹنوں تک نہیں پہنچے تو رکوع  ادا نہ ہوا اور نماز درست نہ ہوئی۔اور اگر ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ گئے لیکن بقدر تسبیح اسی حالت میں نہ رہے تو اگرقصدا ایسا کیا ہو تو  نماز ناقص ہے،اس کا اعادہ ضروری ہوگا،سجدہ سہو کافی نہ ہوگا۔لیکن اگر بھول   کر ایسا  ہوگیا  ہو تو سجدہ سہو سے نماز ادا ہو جائے گی۔

 

حوالہ جات

والقدر المفروض من الركوع أصل الانحناء والميل ،ومن السجود أصل الوضع، فأما الطمأنينة عليهما فليست بفرض في قول أبي حنيفة ومحمد (بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ:1/105)
 
(ومنها) - الطمأنينة والقرار في الركوع والسجود، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد، وقال أبو يوسف: الطمأنينة مقدار تسبيحة واحدة فرض وبه أخذ الشافعي حتى لو ترك الطمأنينة جازت صلاته عند أبي حنيفة ومحمد……..ثم الطمأنينة في الركوع واجبة عند أبي حنيفة ومحمد، كذا ذكره الكرخي حتى لو تركها ساهيا يلزمه سجود السهو)بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ:1/162)
 
)وتسبيحه ثلاثا) أي تسبيح الركوع لقوله - عليه الصلاة والسلام - «إذا ركع أحدكم فليقل في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاثا وذلك أدناه» أي أدنى كمال السنة أو الفضيلة(تبیین الحقائق مع حاشیۃ الشبلی،کتاب الصلاۃ،باب سنن الصلاۃ:1/107)
 
 
وظاهر كلام الجم الغفير أنه لا يجب السجود في العمد وإنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه، كذا في البحر الرائق(الھندیۃ،کتاب الصلاۃ:1/126)

محمد انس جمال           

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

12جمادی الثانیۃ1443ھ  

n

مجیب

انس جمال بن جمال الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔