| 82873 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
علمائے کرام سے سنا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ عیدین کی رات عبادت کرنا بہت فضیلت کا باعث ہے، جبکہ بعض علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہ حدیث ضٕعیف ہے اورعلامہ البانی صاحب نے اس پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث ضعیف ہے؟ از راہِ کرم جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ذخیرہٴ احادیث میں عیدین کی رات عبادت کرنے کی فضیلت سے متعلق مختلف طرق سے مروی تین روایات منقول ہیں، ان میں سے کسی بھی روایت پر محدثین کرام کا صریح حکم نہیں ملا، اس لیے ان روایات کی اسنادی حیثیت جاننے کے لیے درج ذیل تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
پہلی روایت
یہ روایت لفظاً ومعنیً چارمختلف طرق سے مروی ہے، ان میں سے پہلے طریق کو امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے ابواحمد مرارا بن حمویہ سے، دوسرے طریق کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے اپنی معجم میں احمد بن یحی بن خالد سے اور تیسرے طریق کو علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے ابو سعيد محمد بن موسى سے روایت کیا ہے، ان تینوں طرق میں مدارِ سند ثور بن یزید ہیں جو کہ خالد بن معدان کے واسطے سے بالترتیب تین صحابہ کرام حضرت ابوامامہ باہلی، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان میں سے پہلے دو طرق مرفوعاً اور تیسرا طریق موقوفاً روایت کیا گیا ہے۔ ان سب طرق کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا طریق:
سب سے پہلا طریق امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں درج ذیل سند کے ساتھ مرفوعاًنقل کیا ہے:
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (2/ 658، رقم الحدیث: 1782) دار إحياء الكتب العربية:
حدثنا أبو أحمد المرار بن حمويه، حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية بن الوليد، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان عن أبي أمامة، عن النبي- صلى الله عليه وسلم - قال:"من قام ليلتي العيدين محتسبا لله، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب".
ترجمہ: حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص عیدین کی رات ثواب کی امیدکرتے ہوئے قیام کرے تو اس کا دل اس دن نہیں مردہ ہو گا جس دن تمام دل مردہ ہو جائیں گے۔
اس روایت کے بعض راوی ثقہ اور بعض صدوق ہیں، البتہ اس کی سند میں بقیہ بن ولید حمصی پر ائمہ جرح وتعدیل نے تدلیس کا طعن کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرنے میں معروف تھے،[1]حافظ عراقی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ تدلیس کی سب سے بری قسم یعنی تدلیس التسویہ (تدلیس التسویہ یہ ہے کہ دو ثقہ راویوں کے درمیان ایک ضعیف راوی کا واسطہ چھوڑ کر دونوں ثقہ کو ملا دینا) کرتے تھے، اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب یہ "حدثنا"یا "أ خبرنا" کا صیغہ استعمال کریں تو یہ ثقہ شمار ہوں گے اور ان کی روایت مقبول ہوگی اور اگر یہ صیغہٴ "عن" یا کوئی اور ایسا صیغہ استعمال کریں جس سے تدلیس کا وہم ہوتا ہو تو ان كی روايت ضعيف شمار ہو گی۔ مذکورہ روایت بھی انہوں نے ثور بن یزید سے صیغہٴ "عن" کے ساتھ روایت کی ہے، جس میں تدلیس کا احتمال موجود ہے۔
پھر بقیہ بن ولید نے اس روایت کو ثور بن یزید سے روایت کیا ہے، ان پر بھی ائمہ کرام رحمہم اللہ نے تدلیس کا طعن کیا ہے اور انہوں نے بھی یہاں صیغہٴ تحدیث وغیرہ کی بجائے لفظ "عن" کے ذریعہ روایت کی ہے، اس لیے یہاں بھی تدلیس کا احتمال موجود ہے، لہذا اس سند کے اعتبار سے مذکورہ روایت پر ضعف کا حکم لگے گا، البتہ تدلیس کی وجہ سے پیدا ہونے والا ضعف خفیف ہوتا ہے اور ایسی روایت احکام میں غیرمقبول اور فضائل میں قابلِ عمل شمار ہوتی ہے۔
الكاشف لشمس الدين الذهبي (1/ 273، الترجمة: 619) دار القبلة للثقافة الإسلامية:
بقية بن الوليد أبو يحمد الكلاعي الميتمي الحافظ عن بحير ومحمد بن زياد الألهاني وأمم وعنه ابن جريج وشعبة وهما من شيوخه وكثير بن عبيد وأحمد بن الفرج الحجازي وخلق وثقه الجمهور فيما سمعه من الثقات وقال النسائي إذا قال حدثنا وأخبرنا فهو ثقة مات 197 م 4.
طبقات المدلسين للحافظ ابن حجر العسقلاني (ص: 49) مكتبة المنار، عمان:
بقية بن الوليد الحمصي المحدث المشهور المكثر له في مسلم حديث واحد وكان كثير التدليس عن الضعفاء والمجهولين وصفه الأئمة بذلك.
تهذيب الكمال في أسماء الرجال (4/ 197) دار القبلة للثقافة الإسلامية - مؤسسة علوم القرآن، جدة:
قال يعقوب: بقية بن الوليد، هو ثقة حسن الحديث، إذا حدث عن المعروفين، ويحدث عن قوم متروكي الحديث، وعن الضعفاء، ويحيد عن أسمائهم إلى كناهم، وعن كناهم إلى أسمائهم، ويحدث عمن هو أصغر منه، وحدث عن سويد بن سعيد الحدثاني. وقال محمد بن سعد: كان ثقة في روايته عن الثقات.
دوسرا طريق:
اس روایت کے دوسرے طریق کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے اپنی معجم میں احمد بن يحی بن خالدسے درج ذیل سند کے ساتھ مرفوعاًنقل کیا ہے:
المعجم الأوسط (1/ 57، رقم الحديث: 159) دار الحرمين، القاهرة:
حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان قال: نا حامد بن يحيى البلخي قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن رجل وهو: عمر بن هارون البلخي، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من صلى ليلة الفطر والأضحى، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب»
اس سند میں عمر بن ہارون بلخی نامی راوی موجود ہے، جس پر محدثین کرام رحمہم اللہ نے شدید جرح کی ہے، چنانچہ علامہ عدی رحمہ اللہ نے الکامل فی ضعفاء الرجال میں اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے میزان الاعتدال میں اس راوی کے بارے ائمہ جرح وتعدیل کے تفصیلی اقوال نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس راوی کو امام علی بن مدینی رحمہ اللہ نے"ضعیف جدا"، امام ابوداود رحمہ اللہ نے"غیر ثقة"، ابوعلی نیشابوری رحمہ اللہ نے "متروک"، امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے "لیس بشیئ" امام عبد الرحمن بن مہدی، امام نسائی اور امام احمد بن حنبل نے "متروک الحدیث" قرار دیا ہے اور ایسے راوی کی حدیث احکام اور فضائل دونوں میں قبول اور معتبر نہیں۔لہذا اصولِ حدیث کی روشنی میں یہ طریق فضائل کے باب میں بھی قبول نہیں۔
الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (6/ 57،الرقم: 1201) الكتب العلمية – بيروت:
عمر بن هارون البلخي: حدثنا ابن أبي عصمة، حدثنا أبو طالب سمعت أحمد بن حنبل يقول عمر بن هارون لا أروي عنه شيئا قال، وهو من أهل بلخ وقد أكثرت عنه ولكن كان عبد الرحمن بن مهدي يقول لم تكن له قيمة عندي وبلغني أنه، قال: حدثني بأحاديث فلما قدم مرة أخرى حدث بها عن إسماعيل بن عياش عن أولئك فتركت حديثه. حدثنا ابن حماد، حدثنا عباس، عن يحيى، قال عمر بن هارون البلخي ليس بشيء. سمعت ابن حماد يقول: قال السعدي عمر بن هارون البلخي لم يقنع الناس بحديثه. وقال النسائي عمر بن هارون
البلخي متروك الحديث.[2]
تیسرا طریق:
اس روایت کے تیسرے طریق کو علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں ابو سعيد محمد بن موسى سے درج ذیل سند کے ساتھ موقوفاًنقل کیا ہے:
شعب الإيمان (5/ 287، رقم الحديث: 3438) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:
أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى، حدثنا أبو العباس الأصم، أخبرنا الربيع(بن سلیمان)، أخبرنا (محمد بن إدريس)الشافعي، أخبرنا إبراهيم بن محمد، قال: قال ثور بن يزيد: عن خالد بن معدان، عن أبي الدرداء قال: "من قام ليلتي العيدين لله محتسبا لم يمت قلبه حين تموت القلوب "
اس روایت کی سند میں بھی ایک راوی ابراہیم بن محمد بن ابی یحی اسلمی پر ائمہ جرح وتعدیل نے شدید جرح کی ہے، اگرچہ اس سے امام سفیان ثوری، امام ابن جریج اور شافعی رحمہ اللہ سے روایت لی ہے اور علامہ مزی رحمہ اللہ نے امام شافعی اور ابن الاصبہانی رحمہما اللہ سے ان کے بارے میں توثیق کے کلمات بھی نقل کیے ہیں، مگر جمہور ائمہ کرام نے اس راوی پر شدید جرح کرتے ہوئے اس کو متروک الحدیث قرار دیا ہے، چنانچہ امام ابو حاتم رازی نے"کذا ب، متروک الحدیث" امام یحی بن معین نے "لیس بثقة، کذاب"، امام یحی بن سعید قطان نے" کذاب"امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ"لا یکتب حدیثہ، ترکہ الناس" اورامام مالک رحمہ اللہ نے "لا ثقة فی دینہ" فرمایا۔ان اقوال کے پیشِ نظر حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہما اللہ نے اس راوی کو متروک الحدیث قرار دیا ہے، نیز اس راوی پر تدلیس کا طعن بھی کیا گیا ہے اور اس نے یہ روایت قال کے صیغہ کے ساتھ نقل کی ہے، جس میں تدلیس کا احتمال موجود ہے۔
اس کے علاوہ اس طریق کی سند میں موجود راوی ثور بن یزید اور خالد بن معدان نے صیغہٴ عن کے ذریعہ روایت کی ہےاوران میں سے ثور بن یزیدپر تدلیس کا طعن کیا گیاہے، اگرچہ حافظ یوسف جمال الدین مزی رحمہ اللہ نے تہذیب الکمال میں ولید بن مسلم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ثور بن یزید خالد بن معدان کی روایات کے حافظ تھے اور یہ خالدبن معدان کے شاگرد بھی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی انہوں نے خالد بن معدان رحمہ اللہ سے سنی ہو گی، لیکن اصولی اعتبار سے جب مدلس راوی صیغہٴ تحدیث، اخبار یا سماع کی صراحت نہ کرے اس وقت تک اس کی روایت ضعیف شمار ہوگی۔[3] اورثور بن یزید سے نقل کرنے والے راوی ابراہیم بن محمد بن ابی یحی اسلمی میں ضعف شدید کی وجہ سے یہ روایت فضائل کے باب میں بھی معتبر نہیں ہو گی۔
سير أعلام النبلاء ط الرسالة (4/ 537،الترجمة: 216) مؤسسة الرسالة:
(ع) خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعی الإمام، شيخ أهل الشام، أبو عبد الله الكلاعي الحمصي. حدث عن خلق من الصحابة - وأكثر ذلك مرسل -.روى عن: ثوبان، وأبي أمامة الباهلي، ومعاوية، وأبي هريرة، والمقدام بن معدي كرب، وابن عمر، وعتبة بن عبد، وعبد الله بن عمرو، وعبد الله بن بسر المازني، وذي مخبر ابن أخي النجاشي، وجبير بن نفير، وحجر بن حجر، وربيعة بن الغاز، وخيار بن سلمة، وعبد الله بن أبي هلال، وعمرو بن الأسود - وهو عمير - وكثير بن مرة، ومالك بن يخامر، وأبي بحرية، وأبي رهم السماعي، وطائفة. وأرسل عن: معاذ بن جبل، وأبي الدرداء، وعائشة، وعبادة بن الصامت، وأبي عبيدة بن الجراح، وغيرهم.
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (2/ 125، الترجمة: 390) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى الأسلمي [مولاهم] واسم أبي يحيى سمعان روى عن صفوان بن سليم وصالح مولى التوءمة ويحيى ابن سعيد وهو إبراهيم بن محمد بن أبي عطاء سمعت أبي يقول ذلك. قال أبو محمد روى عنه محمد بن إدريس الشافعي وداود بن عبد الله الجعفري ويحيى بن آدم وروى هو عن محمد بن المنكدر والعباس بن عبد الرحمن وأبي الحويرث. حدثنا عبد الرحمن نا علي بن الحسين نا محمد بن المثنى نا بشر بن عمر قال نهاني مالك عن إبراهيم بن أبي يحيى، قلت من أجل القدر تنهاني عنه؟ قال ليس هو في دينه بذلك. حدثنا عبد الرحمن أنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سمعت إبراهيم بن عرعرة يقول سمعت يحيى بن سعيد القطان يقول سألت مالك بن أنس عن إبراهيم بن أبي يحيى أكان ثقة؟ قال لا ولا ثقة في دينه.
حدثنا عبد الرحمن نا أبي نا أحمد بن السندي الباغي الرازي قال سمعت إبراهيم بن موسى قال أخبرني عبد الرحمن بن الحكم بن بشير عن سفيان بن عيينة أنه قال ذات يوم ما بقى أحد أروى عن محمد بن المنكدر مني، فقيل له إبراهيم بن أبي يحيى؟ قال إنما نريد أهل الصدق.
سمعت أبي يقول سمعت علي بن المديني يقول ما رأيت أحدا ينص يحيى بن سعيد بالكذب إلا إبراهيم بن أبي يحيى ونفسين آخرين.
حدثنا عبد الرحمن نا محمد بن حمويه بن الحسن قال سمعت أبا طالب قال قال أحمد بن حنبل: إبراهيم بن أبي يحيى لا يكتب حديثه ترك الناس حديثه كان يروى أحاديث منكرة ليس لها أصل وكان يأخذ حديث الناس يضعها في كتبه............ حدثنا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد عن يحيى بن معين أنه قال إبراهيم بن أبي يحيى ليس بثقة كذاب.
حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: إبراهيم بن أبي يحيى كذاب متروك الحديث ترك ابن المبارك حديثه.
حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن إبراهيم بن أبي يحيى فقال ليس بشئ. حدثنا عبد الرحمن أنا حرب بن إسماعيل فيما كتب إلى قال سمعت عبيد الله بن معاذ يحدث عن بشر بن المفضل قال سألت فقهاء المدينة عن إبراهيم بن أبي يحيى فكلهم يقول كذاب! أو نحو هذا.
الكاشف (1/ 222، الترجمة: 197) دار القبلة للثقافة الإسلامية -جدة:
ابراهيم بن محمد بن أبي يحيى سمعان ودلسه بن جريج فقال إبراهيم بن محمد بن أبي عطاء المدني مولى الاسلميين عن الزهري وصالح مولى التوأمة وطائفة وعنه الشافعي وكان حسن الرأي فيه ويحيى بن آدم وابن عرفة وروى عنه من شيوخه يزيد بن الهاد قال البخاري جهمي تركه ابن المبارك والناس وقال أحمد قدري معتزلي جهمي كل بلاء فيهوقال يحيى القطان كذاب مات 184 ق.
تقريب التهذيب لابن حجر العسقلاني (ص: 93، الترجمة: 241) دار الرشيد – سوريا:
إبراهيم ابن محمد ابن أبي يحيى الأسلمي [وقيل له: إبراهيم بن محمد بن أبي عطاء أيضاً] أبو إسحاق المدني متروك من السابعة مات سنة أربع وثمانين وقيل إحدى وتسعين ق.[4]
چوتھا طریق:
اس روایت کے چوتھے طریق کوامام ابوسعید ابن اعرابی بصری (متوفى: 340ھ) نے " کتاب المعجم" میں درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
معجم ابن الأعرابي (3/ 1047،الترجمة: 2252) دار ابن الجوزي، السعودية:
نا علي، نا يحيى بن عبد الله بن بكير، حدثني المفضل بن فضالة، عن عيسى بن إبراهيم، عن سلمة بن سليمان الجزري، عن مروان بن سالم، عن ابن كردوس، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحيا ليلة العيد، وليلة النصف من شعبان لم يمت قلبه يوم تموت القلوب.
اس میں ایک راوی مروان بن سالم پر ائمہ جرح وتعدیل نے شدید جرح کی ہے، چنانچہ اس کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے"ليس بثقة"، امام بخاری اور امام مسلم نے"منكر الحديث"، امام دارقطنی نے"متروک" اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا:"عامة أحاديثه لا يتابعه الثقات عليه" ثقات نے اس کی عام روایات کی متابعت نہیں کی۔ ان کے علاوہ اور بھی حضرات نے اس پرشدید جرح کی ہے، لہذا محدثین کے اصولوں کی روشنی میں یہ طريق بھی قابلِ اعتبار نہیں۔
الإصابة في تمييز الصحابة للحافظ ابن حجر العسقلاني (5/ 434، رقم الترجمة: 7408) دار الكتب العلمية، بيروت:
كردوس» : غير منسوب. ذكره الحسن بن سفيان، وعبدان «» المروزي، وابن شاهين، وعلي بن سعيد وغيرهم في الصحابة.
وأخرجوا من طريق مروان بن سالم، عن ابن كردوس، عن أبيه، قال: قال رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وآله وسلم: «من أحيا ليلتي العيد وليلة النّصف من شعبان لم يمت قلبه يوم تموت القلوب » ومروان هذا متروك متهم بالكذب.[5]
دوسری روایت
لیلة العیدین کی فضیلت سے متعلق دوسری روایت کو امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے، جس کا مفہوم ہے کہ پانچ راتوں میں آدمی کی دعا رد نہیں کی جاتی، ان میں دو راتیں عیدین کی ہیں، اس کی سندیہ ہے:
درج ذیل ہے:
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (4/ 317،الرقم: 7927) المكتب الإسلامي،بيروت:
أخبرني من سمع البيلماني يحدث عن أبيه، عن ابن عمر قال: " خمس ليال لا ترد فيهن
الدعاء: ليلة الجمعة، وأول ليلة من رجب، وليلة النصف من شعبان، وليلتي العيدين "
یہ روایت بھی اصولِ حدیث کی روشنی میں معتبر نہیں، کیونکہ اس کی سند میں دو جگہوں پر مبہم راوی موجود ہے، ایک امام عبدالرزاق رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، جس کا انہوں نے نام ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف یہ ذکر کیا کہ ہمیں اس شخص نے خبر دی جس نے بیلمانی سے سنا، یہ معلوم نہیں کہ وہ ثقہ ہے یا ضعیف؟ دوسرے راوی بیلمانی ہیں، بیلمان یمن میں واقع ایک جگہ کا نام ہے، وہاں کے رواة کو اس جگہ کی طرف سے منسوب کرکے بیلمانی کہا جاتا ہے، اب یہاں بیلمانی سے کون سے راوی مراد ہیں؟ اس کی سند میں صراحت نہیں کی گئی، جبکہ بیلمان کی طرف منسوب رواة میں ثقہ اور ضعیف دونوں قسم کےرواة شامل ہیں، لہذا یہ بھی مبہم راوی ہے، اس لیے یہ روایت بھی سند کے اعتبار سے معتبر نہیں۔
تیسری روایت
لیلة العیدین کی فضیلت سے متعلق تیسری روایت کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے چار راتوں کو زندہ کیا اس کےلیے جنت واجب ہو گئی ہے، جن میں عید الفطر اور عید الاضحی کی دو راتیں بھی شامل ہیں،پھر یہ روایت دو طرق سے مروی ہے:
پہلا طریق: اس روایت کے پہلے طریق کو امام ابنِِ عساکر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تاریخِ دمشق میں درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
تاريخ دمشق لابن عساكر (43/ 92) دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع:
أنا أبو جعفر محمد بن أحمد الأنماطي أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد المطهري أنا أبو محمد عبد الله بن أبي يحيى الإمام نا أبو يعقوب البحري الجرجاني نا علي بن نصير نا سويد بن سعيد حدثني عبد الرحيم بن زيد العمي عن أبيه عن وهب بن منبه عن معاذ بن جبل عن النبي (صلى الله عليه وسلم) قال من أحيا الليالي الأربع وجبت له الجنة ليلة التروية وليلة عرفة وليلة النحر وليلة الفطر.
یہ طریق بھی سندا معتبر نہیں، کیونکہ اس روایت کی سند میں موجود عبدالرحیم بن زید العمی نامی راوی پر محدثینِ کرام نے شدید جرح کی ہے، چنانچہ اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے "ترکوہ"، امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے "ترك حديثه، منكر الحديث" امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ" واهي، ضعيف الحديث " امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک جگہ "متروک الحدیث" اور دوسری جگہ "لیس بثقة، ولا مأمون ولا یکتب حدیثہ" فرمایا۔ اور یہ سب جرح شدید کے الفاظ ہی اور ایسے راوی کی روایت شدید ضعیف شمار ہوتی ہے۔
تهذيب الكمال في أسماء الرجال (18/ 35، الرقم: 3406) مؤسسة الرسالة، بيروت:
ق: عَبد الرحيم بن زيد بن الحواري العمي ، أَبُو زيد البَصْرِيّ. روى عن: أبيه زيد العمي (ق) ، ومالك بن دينار روى عنه: إبراهيم بن الأشعث البخاري خادم الفضيل بن عياض، وأحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، وأبو إبراهيم إسماعيل بن إبراهيم الترجماني، وبشر بن جبلة، وبشر بن عمار القهستاني، وجعفر بن مهران السباك، والحسن بن قزعة، وأبو عمار الحسين بن حريث المروزي، والحسين بن حفص الأصبهاني، وخلف بن الوليد، وسويد بن سعيد (ق) ، وصالح بن عبد الله الترمذي، وعبد الله بن عمر بن أبان القرشي، وعبد الله بن عمران العابدي المخزومي، وعبد الله بن أبي غسان اليماني الكوفي، وعمرو بن أبي سلمة التنيسي، وعيسى بن زياد الدورقي، ومحمد بن بشير القاص، ومحمد بن الربيع الأسدي، ومحمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب، ومحمد بن موسى الحرشي، ومحمد بن يحيى بن أبي عمر العدني (ق) ، ومحمد بن يعلى الهروي، ومرحوم بن عبد العزيز العطار (ق) وهو من أقرانه، والمسيب بن واضح، ونعيم بن حماد، ويحيى بن عبد الحميد الحماني.
قال عباس الدروي ، عَنْ يحيى بْن مَعِين: ليس بشيءٍ. وَقَال إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : غير ثقة. وَقَال أَبُو زُرْعَة: واهي، ضعيف الحديث. وَقَال أبو حاتم : ترك حديثه، منكر الحديث، كان يفسد أباه يحدث عنه بالطامات. وقَال البُخارِيُّ: تركوه. وَقَال أَبُو داود : ضعيف. وَقَال النَّسَائي: متروك الحديث. وَقَال في موضع آخر: ليس بثقة ولا مأمون، ولا يكتب حديثه.
نیزعبدالرحیم بن زید اس روایت کو اپنے والد زید بن حواری عمی سےنقل کرتے ہیں، ان کو بھی اکثر ائمہ جرح وتعدیل رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، چنانچہ امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ "لاشیئ"، دوسری مرتبہ"ضعیف یکتب حدیثہ اور ایک مرتبہ "لیس بشیئ"فرمايا، امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی"ضعیف یکتب حدیثہ"، امام نسائی نے "ضعیف"، امام ابن عدی نے "لعل شعبة لم يرو عن أضعف منه" کہا، البتہ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے ایک جگہ "صالح"فرمایا ہے، لیکن چونکہ اکثر حضرات نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے حافظ ذہبی اور حافظ ابنِ حجر رحمہما اللہ نے بھی ائمہ کرام کے اقوال کی تنقیح کے بعدالکاشف اور تقریب التہذیب میں اس راوی پر ضعف کا حکم لگایا ہے۔
دوسرا طریق: اس روایت کا دوسرا طریق عبدالرحیم کے بھائی عبدالرحمن بن زید سے مروی ہے اورائمہ جرح وتعدیل کی عبارات میں اس کے احوال تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملے، نیز حدیث کی متداول کتب میں ان کی مزیدروایات بھی نہیں ملیں کہ جن سےیہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس سے ثقات نے روایات لی ہیں یا نہیں؟ لہذا یہ شخص عدالت اور ضعف کے اعتبار سے مجہول الحال ہے، اس لیے اس راوی کے حالات واضح ہونے تک اس کی روایت پر کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
نیز عبد الرحمن نے بھی یہ روایت اپنے والد زید سے نقل کی ہے، گویا کہ ان دونوں طرق میں مدارِ سند زیدبن حواری ہی ہیں، جن کو اکثر ائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے اس روایت کا یہ طریق بھی اصولِ حدیث کی روشنی میں ضعیف ہے۔
الترغيب والترهيب للأصبهاني(1/ 248، الترجمة: 374) دار الحديث – القاهرة:
أخبرنا أبو الفتح الصحاف، أنا أبو سعيد النقاش الحافظ، أنا أبو ذر: الحسين بن الحسن بن علي الكندي بالكوفة، ثنا الحسين بن أحمد المالكي، ثنا سويد بن سعيد، ثنا عبد الرحمن بن زيد، عن أبيه، عن وهب بن منبه، عن معاذ بن جبل -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أحيا الليالي الخمس وجبت له الجنة، ليلة التروية، وليلة عرفة، وليلة النحر، وليلة النصف من شعبان".
تقريب التهذيب (ص: 223، الترجمة: 2131) دار الرشيد، سوريا:
زيد ابن الحواري أبو الحواري العمي البصري قاضي هراة يقال اسم أبيه مرة ضعيف من الخامسة.
الكاشف (1/ 416، الترجمة: 1732) دار القبلة للثقافة الإسلامية ، جدة:
زيد بن الحواري العمي البصري أبو الحواري قاضي هراة عن أنس وابن المسيب وعنه ابناه عبد الرحيم وعبد الرحمن وشعبة فيه ضعف قال ابن عدي لعل شعبة لم يرو عن أضعف منه .
الكامل في ضعفاء الرجال (4/ 147، الترجمة: 699) الكتب العلمية، بيروت:
حدثنا ابن العراد، حدثنا يعقوب بن شيبة، حدثني محمد بن إسماعيل، عن أبي داود، قال: سمعت يحيى بن معين يقول زيد العمي هو زيد الحواري أبو الحواري. سمعت أبا يعلى يقول سئل يحيى بن معين يعني، وهو حاضر عن زيد العمي فقال ليس بشيء.............. أخبرنا أبو يعلى، حدثنا محمد بن محمد البصري، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه عن الحسن، عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مشى في حاجة أخيه المسلم كتب الله له بكل خطوة يخطوها سبعين حسنة ومحا عنه سبعين سيئة إلى أن يرجع من حين فارقه فإن قضيت حاجته على يديه خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وإن هلك فيما بين ذلك دخل الجنة بغير حساب. قال الشيخ: ولعل البلاء فيه من ابنه عبد الرحيم فإنه ضعيف مثل أبيه.
ديوان الضعفاء (ص: 150، الترجمة: 1529) مكتبة النهضة الحديثة، مكة:
زيد بن الحواري، أبو الحواري العمي: عن أنس، ليس بالقوي.
ميزان الاعتدال (2/ 102، الترجمة: 3003) دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت:
زيد بن الحوارى العمى أبو الحوارى البصري، قاضى هراة.
عن أنس، وسعيد بن المسيب، وطائفة. وعنه ابناه عبد الرحيم، وعبد الرحمن، وشعبة، وهشيم. قال ابن معين: صالح. وقال - مرة: لا شئ. وقال مرة: ضعيف يكتب حديثه. وقال أبو حاتم: ضعيف يكتب حديثه. وقال الدارقطني: صالح.
وضعفه النسائي. وقال ابن عدي: لعل شعبة لم يرو عن أضعف منه. وقال السعدي: متماسك. ومن مناكيره: قيس بن الربيع، عن حبيب بن أبي ثابت، عن أيوب بن موسى، عن زيد بن الحوارى، عن أنس - مرفوعاً: يوشك الفالج أن يفشو في الناس حتى يتمنوا الطاعون مكانه. سلام الطويل، عن زيد العمى، عن قتادة، عن أنس - مرفوعاً: يكره للمؤذن أن يكون إماما.
لعل البلاء فيه من سلام. سلام، عن زيد العمى، عن معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار - مرفوعاً: من احتجم يوم الثلاثاء لسبع عشرة من الشهر كان دواء للسنة .
نعيم بن حماد، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمى، عن أبيه، عن سعيد بن المسيب، عن عمر - مرفوعاً: سألت ربى فيما اختلف فيه أصحابي من بعدى، فأوحى الله إلى: يا محمد إن أصحابك عندي بمنزلة النجوم بعضهم أضوأ من بعض، فمن أخذ بشئ مما هم عليه من اختلافهم فهو عندي على هدى. فهذا باطل. وعبد الرحيم تركوه ونعيم صاحب مناكير.
خلاصہٴ بحث:
گزشتہ مکمل بحث کا حاصل یہ ہے کہ لیلة العیدین کی فضیلت سے متعلق کوئی بھی روایت صحیح یا حسن درجے کی سند سے ثابت نہیں، البتہ پہلی روایت کے چار طرق میں سے پہلا طریق فنی اعتبار سے معتبرہے، کیونکہ اس میں وجہِ ضعف محض تدلیس کا عنصر ہےاورصرف تدلیس کی وجہ سے ضعفِ شدید ثابت نہیں ہوتا، اس لیے یہ روایت ضعف کےباوجود فضائل کے باب میں قابلِ عمل ہے، خصوصا جبکہ متقدمین حضرات کے زمانہ سے عیدین کی رات عبادت کرنے کا معمول بکثرت منقول ہے، جس سے اس روایت کو معنوی اعتبار سے مزید تقویت حاصل ہوجاتی ہے، اسی لیے علامہ نووی رحمہ اللہ نے اس روایت پر ضعف کا حکم لگانے کے ساتھ ساتھ امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور دیگرحضرات کے حوالے سے اس رات عبادت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لہذا اصولِ حدیث کی روشنی میں اس روایت پر عمل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس روایت کے ثبوت کا عقیدہ رکھے بغیرمحض ثواب کی امید پر عمل کیا جائے، کیونکہ محدثین کرام كےنزدیک حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے سے متعلق بیان کردہ شرائط میں سے ایک شرط اس کے ثبوت کا عقیدہ نہ رکھنا بھی ہے۔
[1] تقريب التهذيب (ص: 126، رقم الترجمة: 734) دار الرشيد، سوريا:
بقية ابن الوليد ابن صائد ابن كعب الكلاعي أبو يحمد بضم التحتانية وسكون المهملة وكسر الميم [الميتمي] صدوق كثير التدليس عن الضعفاء من الثامنة مات سنة سبع وتسعين وله سبع وثمانون خت م.
کذا فی الطبقات الكبرى لابن سعد (المتوفى: 230هـ) (7/ 326، رقم الترجمة: 3922) ط دارالكتب العلمية، بيروت:
بقية بن الوليد الحمصي. ويكنى أبا يحمد. وكان ثقة في روايته عن الثقات. وكان ضعيف الرواية عن غير الثقات. ومات سنة سبع وتسعين ومائة في آخر خلافة محمد بن هارون.
تهذيب الكمال في أسماء الرجال (4/ 427) مؤسسة الرسالة، بيروت:
وقال علي بن عياش، عن إسماعيل بن عياش: نفى أسد بن وداعة ثور بن يزيد من حمص.
وقال أبو مسهر عن عبد الله بن سالم: أدركت أهل حمص وقد أخرجوا ثور بن يزيد وأحرقوا داره، لكلامه في القدر.
وقال عبد الله بن أحمد بن حنبل: سمعت أبي يذكر عن يحيى ابن سعيد القطان، قال: كان ثور إذا حدثني بحديث عن رجل لا أعرفه، قلت: أنت أكبر أم هذا؟ فإذا قال: هو أكبر مني كتبته، وإذا قال: هو أصغر مني لم أكتبه.
وقال محمد بن عوف، والنسائي: ثقة. وقال أبو حاتم: صدوق حافظ.
[2] ميزان الاعتدال للذهبي (3/ 228، الرقم: 6237) دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت:
عمر بن هارون [ت، ق] البلخي، أبو حفص، مولى ثقيف.
عن جعفر بن محمد، وابن جريج. وعنه قتيبة، وأحمد، ونصر بن علي، وخلق. وقد تزوج ابن جريج بأخته،...........وقال ابن مهدي، وأحمد، والنسائي: متروك الحديث. وقال يحيى: كذاب خبيث. وقال أبو داود: غير ثقة. وقال علي والدارقطني: ضعيف [جدا]. وقال ابن المديني: ضعيف جدا. وقال صالح جزرة: كذاب. وقال زكريا الساجي: فيه ضعف. وقال أبو على النيسابوري: متروك. وقال أبو غسان زنيج : قال عمر: هو ابن هارون، رميت من حديثى سبعين ألف حديث. وقال ابن حبان: يروى عن الثقات المعضلات. وروى عباس عن ابن معين: ليس بشئ.
[3] نیزخالدبن معدان کے حضرت ابوالدرداءاورحضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے روایت لینے کی تصریح کہیں نہیں ملی، شاید اسی لیے حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں خالد بن معدان کے احوال میں لکھا ہے کہ یہ حضرت معاذ بن جبل، ابو الدرداء، عبادہ بن صامت، ابو عبيدة بن جراح، حضرت عائشہ اور بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ارسال کرتے تھے، ارسال کا مطلب یہ ہے کہ خالد بن معدان اور مذکورہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کوئی واسطہ ساقط ہے، لہذایہاں ارسال انقطاع کے معنی میں استعمال ہوا ہے، لہذا اس روایت میں انقطاع کی وجہ سے بھی سند میں ضعف آئے گا، اگرچہ معنی کے اعتبار سے یہ ارسال حنفیہ کے نزدیک مضر نہیں، خالد بن معدان خیر القرون کے دور کے ہیں اور اس زمانے میں عام طور پررواة اپنے شیوخ پر اعتماد کرتے ہوئے ارسال کرتے تھے، اسی لیے مرسل کے معتبراور مقبول ہونے کے بارے میں ائمہ کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے اور حنفی فقہاءومحدثین کرام کے نزدیک ارسال کرنے والا شخص اگر صرف ثقات سے ہی روایت کرے تو اس کی مرسل روایت مقبول اور قابلِ استدلال ہوتی ہے، چناچہ امام ابو بکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ نے مراسیل کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین کی مراسیل مقبول ہیں، اسی طرح امام فخر الاسلام بزدوی رحمۃ اللہ نے مرسل کی اقسام اور احکام بیان کرتے ہوئے قرونِ ثلاثہ کی مراسیل کے حجت ہونے کی تصریح کی ہے، اس لیے خالدبن معدان رحمہ اللہ کا ارسال حنفیہ کے نزدیک مضر نہیں۔
الفصول فی الأصول للجصاص:(2/30)دار الکتب العلمیہ، بیروت۔لبنان:
"أن مراسيل الصحابة والتابعين مقبولة. وكذلك عندي: قبوله في أتباع التابعين، بعد أن يعرف بإرسال الحديث عن العدول الثقات.فأما مراسيل من كان في القرن الرابع من الأمة: فإني كنت أرى بعض شيوخنا يقول: إن مراسيلهم غير مقبولة".
[4] تهذيب الكمال في أسماء الرجال (2/ 184، الترجمة: 236) مؤسسة الرسالة – بيروت:
ق: إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى - واسمه سمعان - الأسلمي، مولاهم، أبو إسحاق المدني.................... قال بشر بن عمر الزهراني: نهاني مالك عنه، قلت: من أجل القدر تنهاني عنه؟ قال: ليس في دينه بذاك. وقال يحيى بن سعيد القطان: سألت مالكا عنه: أكان ثقة؟ قال: لا، ولا ثقة في دينه. وقال عبد الله بن أحمد بن حنبل عن أبيه: كان قدريا معتزليا جهميا، كل بلاء فيه. وقال أبو طالب أحمد بن حميد عن أحمد بن حنبل: لا يكتب حديثه، ترك الناس حديثه. كان يروي أحاديث منكرة، لا أصل لها، وكان يأخذ أحاديث الناس يضعها في كتبه. وقال بشر بن المفضل: سألت فقهاء أهل المدينة عنه، فكلهم يقولون: كذاب أو نحو هذا. وقال علي ابن المديني عن يحيى بن سعيد: كذاب. وقال محمد بن عمر المعيطي عن يحيى بن سعيد: كنا نتهمه بالكذب. وقال أبو حفص أحمد بن محمد الصفار: سمعت يزيد بن زريع - ورأى إبراهيم بن أبي يحيى يحدث - فقال: لو ظهر لهم الشيطان لكتبوا عنه. وقال البخاري : جهمي تركه ابن المبارك والناس. كان يرى القدر. وقال عباس الدوري عن يحيى بن معين : ليس بثقة.
وقال أحمد بن سعد بن أبي مريم: قلت ليحيى بن معين: فابن أبي يحيى؟ قال: كذاب في كل ما روى. قال: وسمعت يحيى يقول: كان فيه ثلاث خصال: كان كذابا، وكان قدريا، وكان رافضيا. قال: وقال لي نعيم بن حماد: أنفقت على كتبه خمسين دينارا، ثم أخرج إلينا يوما كتابا فيه القدر وكتابا آخر فيه رأي جهم، فدفع إلى كتاب جهم، فقرأته فعرفته فقلت له: هذا رأيك؟ قال: نعم، فحرقت بعض كتبه وطرحتها. وقال إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني : فيه ضروب من البدع، فلا يشتغل بحديثه، وأنه غير مقنع ولا حجة. وقال النسائي: متروك الحديث. وقال في موضع آخر: ليس بثقة، ولا يكتب حديثه.
[5] لسان الميزان للحافظ ابن حجر العسقلاني بتحقيق الشيخ أبي غدة (6/ 258) دار البشائر الإسلامية:
مفضل بن فضالة المصري: عن عيسى بن إبراهيم القرشي عن سلمة بن سليمان الجزري عن مروان بن سالم، عَنِ ابن كردوس، عَن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحيى ليلة العيد وليلة النصف من شعبان لم يمت قلبه يوم تموت القلوب. وهذا حديث منكر مرسل.
ميزان الاعتدال (4/ 90،الرقم: 8425) دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت:
مروان بن سالم [ق] الجزري. عن الأعمش، وعبد الملك بن أبي سليمان. وعنه نعيم بن حماد، والوليد بن شجاع، وجماعة.
قال أحمد وغيره: ليس بثقة. وقال الدارقطني: متروك. وقال البخاري، ومسلم، وأبو حاتم: منكر الحديث. وقال أبو عروبة الحراني: يضع الحديث. وقال ابن عدي: عامة أحاديثه لا يتابعه الثقات عليه.
حوالہ جات
أصول البزدوی المسمی بکنزالوصول إلی معرفۃالأصول(ص:171،میر محمد کتب خانہ۔آرام باغ کراچی:
"الإنقطاع ،وهو نوعان :ظاهر وباطن، أما الظاهر فالمرسل من الأخبار، وذلك أربعة أنواع: ما أرسله الصحابي ،والثاني ما أرسله القرن الثاني والثالث ،ما أرسله العدل في كل عصر،والرابع ما أرسل من وجه، واتصل من وجه آخر.أما القسم الأول: فمقبول بالإجماع، وتفسير ذلك أن من الصحابة من كان من الفتيان،قلت صحبته ،فكان يروي عن غيره من الصحابة، فإذا أطلق الرواية فقال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم .كان ذلك منه مقبولا، وإن احتمل الإرسال؛ لأن من ثبتت صحبته لم يحمل حديثه إلا على سماعه بنفسه، إلا أن يصرح بالرواية عن غيره.
وأما إرسال القرن الثاني والثالث: فحجة عندنا. وأما إرسال من دون هؤلاء :فقد اختلف فيه فقال بعض مشايخنا :يقبل إرسال كل عدل، وقال بعضهم: لا يقبل. أما وجه القول الأول فما ذكرنا، وأما الثاني :فلأن الزمان زمان فسق ،فلا بد من البيان، إلا أن يروي الثقات مرسله كما رووا مسنده ،مثل إرسال محمد بن الحسن وأمثاله.
المجموع شرح المهذب للنووي (5/ 42) دار الفكر،بيروت:
قال أصحابنا يستحب إحياء ليلتي العيدين بصلاة أو غيرها من الطاعات (واحتج) له أصحابنا بحديث أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم " من أحيا ليلتي العيد لم يمت قلبه يوم تموت القلوب " وفي رواية الشافعي وابن ماجه " من قام ليلتي العيدين محتسبا لله تعالى لم يمت قلبه حين تموت القلوب " رواه عن أبي الدرداء موقوفا وروي من رواية أبي أمامة موقوفا عليه ومرفوعا كما سبق وأسانيد الجميع ضعيفة قال الشافعي في الأم وبلغنا أنه كان يقال إن الدعاء يستجاب في خمس ليال في ليلة الجمعة وليلة الأضحى وليلة الفطر وأول ليلة في رجب وليلة النصف من شعبان قال الشافعي: وأخبرنا إبراهيم بن محمد قال رأيت مشيخة من خيار أهل المدينة يظهرون على مسجد النبي صلى الله عليه وسلم ليلة العيدين فيدعون ويذكرون الّله تعالى حتى تذهب ساعة من الليل قال الشافعي وبلغنا أن ابن عمر كان يحيي ليلة النحر قال الشافعي وأنا أستحب كل ما حكيت في هذه الليالي من غير أن تكون فرضا هذا آخر كلام الشافعي واستحب الشافعي والأصحاب الإحياء المذكور مع أن الحديث ضعيف لما سبق في أول الكتاب أن أحاديث الفضائل يتسامح فيها ويعمل على وفق ضعيفها.
والصحيح أن فضيلة هذا الإحياء لا تحصل إلا بمعظم الليل وقيل تحصل بساعة ويؤيده ما سبق في نقل الشافعي عن مشيخة المدينة ونقل القاضي حسين عن ابن عباس أن إحياء ليلة العيد أن يصلي العشاء في جماعة ويعزم أن يصلي الصبح في جماعة والمختار ما قدمته والله أعلم.
المجموع شرح المهذب (4/ 45) دار الفكر،بيروت:
فقد ثبت في الصحيحين عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل العشر الأواخر من رمضان أحيا الليل واتفق أصحابنا على إحياء ليلتي العيدين والله أعلم.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
6/رجب المرجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


