021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی دھمکی پر زبانی اور تحریری طلاق دینے کا حکم
75415طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

ایک شخص  جو کہ شادی شدہ ہے اور 2   بچوں کا باپ ہےاور اپنے والد کی کفالت میں ہے ، خود کفیل نہیں ہے ۔ اس نے شادی کے 4   سال بعد  اپنی بیوی،  گھر والوں حتیٰ کہ اپنے  ماں باپ    سے بھی چھپ کر   دوسری   شادی کرلی ۔ اور نکاح نامے میں پہلی شادی کا تذکرہ بھی غائب ہے، یعنی دولہا کو کنوارہ لکھا گیا ہے۔پتہ چلنے پر پہلے تو  وہ لڑکا  نہ مانا اور  مدینہ منورہ میں اللہ  کی قسمیں کھاتا رہا کہ میں نے شادی نہیں کی۔ لیکن جب سارے ثبوت  بمع شناختی کارڈ ،  پاسپورٹ اور نکاح نامہ  سامنے آئے تو مان گیا۔  اس بات پر  اس کے والد نے  اس کو خوب ڈانٹا  اور کہا کہ اسی وقت  اپنی دوسری بیوی کو طلاق دو ،  نیز گھر میں جھگڑا بہت بڑھ گیا اور بہت ز یادہ کشیدگی کی صورت پیدا ہوگئی۔اپنے والد کے بہت زیادہ اسرار ،  دباؤ اور ڈانٹنے  پرلڑکے نے ایک میسیج بناکر  اپنی دوسری بیوی کو بھیجا جس کے الفاظ یہ ہیں:

  " مجھے معاف کردینا، میں مجبور ہوں، اس لئے طلاق دینی پڑ رہی  ہے"

 "السلام علیکم ، جیسے کہ آپ کے علم میں ہے کہ میں نے آپ کو صبح میں طلاق کی بات کی تھی کہ ہمیں راستے الگ کرنے پڑیں گے، اس لئے اب میں آپ کو یہ الفاظ ادا کرتا ہوں کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں 3  طلاق کے ساتھ اور آپ  کی جو امانت ہے وہ آپ کو عزت کے ساتھ ادا کر دوں گا، ہوسکے مجھے معاف کر دینا میں مجبور ہوں، جزاک اللہ "۔ " آج سے  آپ کا  میرا  کوئی رشتہ نہیں ہے ،لہٰذا  اب کوئی   میسج یا کال نہیں"

اس کے باوجود   تعلقات قائم رکھے اور کہا کہ طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی اور میں نے یہ بھیجا ہی نہیں تھا۔ میں نے تو صرف اپنے والد کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے بنایا تھا۔

جس پر  اس کے والد صاحب نے کہا کہ تم سامنے جاکر اس کو طلاق دو، ورنہ میں تمھاری ماں کو طلاق دے دوں گا اور  اس کی ماں کو مارا پیٹا اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دیا۔جس پر ماں نے بھی طلاق کا حکم دیا تو اس نے  ماں سے پوچھا کہ کیا آپ بھی کہہ رہی ہیں کہ میں طلاق دوں  ؟ تو اس کی ماں نے کہا "  ہاں"۔ اس پر  لڑکے نے  اپنے والد ، والدہ اور بہن کی موجودگی میں  اپنی دوسری بیوی  کو  کہا کہ ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔ دو مرتبہ سننے کے بعد  دوسری بیوی  نے تیسری مرتبہ کان پر ہاتھ رکھ لئے اور کہا میں تمھاری آواز نہیں سن رہی، اس لئے مجھے طلاق نہیں ہوئی۔ تعلقات  پھر بھی قائم  رہے۔

3)نیز ایک طلاق نامہ  اپنے والد ،   اپنی پہلی بیوی کے بھائی  اور اور اپنے والد کی موجودگی میں  مدینہ منورہ میں با آواز بلند پڑھ کر  اس پر   دستخط کئے ۔ (اس کے باوجود  تعلقات قائم رکھے اور کہا کہ یہ  طلاق بھی واقع  نہیں ہوئی)۔

4)  اپنے والد کے بہت زیادہ ڈانٹنے پر اس نے پاکستان میں نادرا آفس میں  جاکر   ایک مرتبہ پھر طلاق نامہ جو کہ اردو  زبان میں تحریر تھا، گواہان کی موجودگی میںCCTV  کیمرے  کے   حصار میں   دستخط کئے اور اپنے شناختی کارڈ سے  لڑکی  کی زوجیت ختم کروانے کے لئے  درخواست دی۔  وکیل کے نام پر جس نے طلاق نامہ بنوایا تھا،  وکالت نامہ بھی سائن کیا  جو بعد میں وکیل نے  قانونی طریقے سے  دوسری بیوی کے گھر  بھجواکر   دوسری بیوی کے  والد سے Receive  بھی کروایا۔  اور اس کے بعد مطلقہ بیوی نے نادرا  میں جاکر اپنا شناختی کارڈ اپنے والد کے نام پر بنوا لیا اور اپنا پاسپورٹ بھی تبدیل کروالیا۔ اس کے باوجود لڑکے  نے  دوسری بیوی سے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں ۔

5) مزید یہ کہ  مسجد نبوی میں بھی اپنے والد صاحب  کے  سامنے قسم اٹھائی کہ میں اب  دوسری مطلقہ بیوی سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔

اس کے باوجود 2  سال گزرنے کے بعد بھی  اس نے دوسری بیوی سے تعلقات رکھے ہوئے ہیں  اور اس کا موقف یہ ہے :

 میں نے طلاق مجبوری میں دی ہے۔ لہٰذا طلاق واقع  نہیں ہوئی۔اور وہ مجبوری یہ  ہے : 

1)  کیونکہ میرے والد نے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے طلاق نہ دی تو میرے والد ، میری والدہ کو طلاق دے دیں گے۔

2)  میری دوسری بیوی  کے گھر والوں کو اغوا کرلیں گے۔   اور اس کے گھر والوں کو  جان سے مار ڈالیں گے۔

 شریعت کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں، کہ صورتِ مسئولہ میں کیا طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

 نیز کیا مندرجہ بالا مجبوریوں کو بنیاد بناکر دی جانے والی اطلاق ہوتی ہے یا  نہیں؟

o

مذکورہ صورت میں تحریری طلاق کے علاوہ لڑکے نے زبانی طلاق بھی دی ہے اور  فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک  زبانی طلاق اکراہ یعنی زبردستی اور مجبوری کی حالت میں بھی واقع ہو جاتی ہے، خواہ کسی بھی قسم کی دھمکی دی گئی ہو اور مذکورہ صورت میں لڑکا زبانی طور پر بھی اپنے والدین اور بہن کے سامنے تین طلاقیں دے چکا ہے، جیسا کہ سوال میں تصریح ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑکے کا یہ کہنا درست نہیں کہ میں نے مجبوری کی حالت میں طلاق دی ہے، اس لیے واقع نہیں ہوئی۔ الغرض  اب فریقین ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں، ان دونوں کا اکٹھے رہنا اور آپس میں تعلقات قائم کرنا ہرگز جائز نہیں، یہ سراسر شریعت کے احکام کی خلاف ورزی اور حد سے تجاوز ہے، ایسی قبیح حرکات کرنے سے بعض اوقات آدمی کا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے، لہذا فریقین پر اس کبیرہ گناہ سے اجتناب کرنا لازم ہے اوراپنے  کیے گئے فعل پر اللہ تعالیٰ سے سچے دلِ سے توبہ واستغفار کرنا بھی ضروری ہے۔

نوٹ: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مرد کو چار عورتوں سے نکاح کی اجات دی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں والد کا دوسری بیوی چھوڑنے پر مجبور کرنا بالکل جائز نہیں تھا، والد کے مجبور کرنے کی وجہ سے اس نے بیوی کو طلاق دے کر اس سے ناجائز تعلقات قائم کیے، لہذا اس گناہ میں والد بھی شریک ہو گا،  کیونکہ وہ بیٹے کے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنا ہے، اس لیے والد پر لازم ہے کہ آئندہ کسی عورت سے دوسرا نکاح کرنے کی صورت میں اس کو بلاوجہ طلاق دینے پر ہرگز مجبور نہ کرے، بلکہ شریعت کے مقدس حکم کی پاسداری کرتے ہوئے اس کو دونوں بیویوں کے درمیان عدل وانصاف اور ان  کےحقوق ادا کرنے کی ترغیب دے۔

حوالہ جات

القران الکریم : [البقرة: 230]:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ }
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحديث: 5261)دارطوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز۔
الهداية مع فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 488) دار الفكر،بيروت:
(وطلاق المكره واقع) خلافا للشافعي، هو يقول إن الإكراه لا يجامع الاختيار وبه يعتبر التصرف الشرعي، بخلاف الهازل؛ لأنه مختار في التكلم بالطلاق. ولنا أنه قصد إيقاع الطلاق في منكوحته في حال أهليته فلا يعرى عن قضيته دفعا لحاجته اعتبارا بالطائع، وهذا؛ لأنه عرف الشرين واختار أهونهما، وهذا آية القصدوالاختيار، إلا أنه غير راض بحكمه وذلك غير مخل به كالهازل.
الاختيار لتعليل المختار (2/ 105) دار الكتب العلمية، بيروت:
كتاب الإكراه ويعتبر فيه قدرة المكره على إيقاع ما هدده به،وخوف المكره عاجلا، وامتناعه من الفعل قبل الإكراه لحقه أو لحق آدمي أو لحق الشرع، وأن يكون المكره به نفسا أو عضوا أو موجبا غما ينعدم به الرضا، فلو أكره على بيع أو شراء أو إجارة أو إقرار بقتل أو ضرب شديد أو حبس ففعل ثم زال الإكراه، فإن شاء أمضاه، وإن شاء فسخه، وإن قبض العوض طوعا فهو إجازة، وإن قبضه مكرها فليس بإجازة۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 129) دار الفكر-بيروت:
(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 270) دار إحياء الكتب العربية:
(قوله في المبسوط الحد في الحبس الذي هو إكراه ما يجيء الاغتمام البين به. . . إلخ) كذا في التبيين ثم قال والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد إكراها؛ لأنه ليس بملجئ ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه اهـ
 
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 81):
 والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد إكراها؛ لأنه ليس بإكراه ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه وفي المحيط، ولو أكره بحبس ابنه أو عبده على أن يبيع عبده أو يهبه ففعل فهو إكراه استحسانا وكذا في الإقرار ووجهه أن الإنسان يتضرر بحبس ابنه أو عبده ألا ترى أنه لا يؤثر حبس نفسه على حبس ولده فإن قلت بهذا نفي الأول قلنا لا فرق بين الوالدين والولد في وجه الاستحسان وهو المعتمد كما لا فرق بينهما في وجه القياس۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 109) دار الكتب العلمية،بيروت:
 وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق إلا أن يقول: نويت طلاقا من وثاق فيصدق فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب ألا ترى أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يبلغ بالخطاب مرة وبالكتاب أخرى وبالرسول ثالثا؟ ، وكان التبليغ بالكتاب والرسول كالتبليغ
بالخطاب فدل أن الكتابة المرسومة بمنزلة الخطاب فصار كأنه خاطبها بها بالطلاق عند الحضرة فقال لها: أنت طالق أو أرسل إليها رسولا بالطلاق عند الغيبة فإذا قال: ما أردت به الطلاق فقد أراد صرف الكلام عن ظاهره فلا يصدق۔
حاشية ابن عابدين (3/ 236) دار الفكر-بيروت:
في البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية، ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ.

        محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراتشی

15/جمادی الاخری 1443ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔