021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کرنے کا حکم
75484طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میری شادی کو 3 سال ہوگئے ہیں۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد گھر میں چھوٹے موٹے مسائل ہوگئے تو میری بیوی اور اس کے گھر والوں نے گھر اور کچن الگ کرنے کا کہا، میں اس وقت اس کی استطاعت نہیں رکھتا تھا تو میری بیوی اس وجہ سے اپنے گھر جاکر رہنے لگی۔ میں ہر بار خود جاکر انہیں سمجھا کر لے آتا۔ اب بھی وہ کم از کم تین ماہ سے اپنے گھر رکی ہوئی ہے کہ کچن اور گھر الگ کردیں، میں آجاؤں گی۔ میری بیوی اور میرے درمیان کبھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔

ابھی کچھ دن پہلے ان کے گھر والوں نے میرے پورے خاندان اور محلے میں کچھ غلط باتیں کیں اور ہمیں بے عزت کرنے کی کوشش کی۔ پہلے میں ان کے گھر والوں کو برداشت کر رہا تھا، میں نے کچھ نہیں کہا تھا، میں سمجھا رہا تھا، لیکن اب چند دن پہلے مجھے پتا چلا کہ میری بیوی بھی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ آئی تھی اور میرے بارے میں بہت کچھ غلط کہا ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا کہ میری بیوی بھی محلے میں آکر میرے اور میرے گھر والوں کے بارے میں غلط باتیں کر رہی ہیں۔ میں نے وکیل کے پاس جا کر طلاق کا کہا، اس نے مجھے طلاق کا نوٹس بنا کر دیدیا، میں نے اس پر دستخط بھی کردیے، دو اور بندوں سے بھی کروالیے۔ وکیل صاحب نے مجھ سے وجہ پوچھی تو میں نے پوری بات اسے بتادی اور یہ بھی بتایا کہ میری بیوی نے میرے اور میرے گھر والوں کے بارے میں غلط باتیں کی ہیں، اس وجہ سے میں طلاق دے رہا ہوں۔

اب مجھے پتا چلا کہ میری بیوی خود نہیں آئی تھی، اس کے والد، والدہ، چچا اور بھابھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس کا ایسا کچھ ارادہ نہیں تھا، نہ میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں اور نہ وہ مجھے۔ میرے طلاق دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہاں مجھے اور میرے گھر والوں کو بے عزت کرنے آئی تھی، مگر وہ خود نہیں آئی تھی، انہیں لایا گیا تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کی باتوں میں آکر یہ قدم اٹھایا۔

میں نے جو نوٹس بھیجا ہے، اس میں طلاقِ ثلاثہ کا لفظ نہیں لکھا، بلکہ تین دفعہ یہ لکھا ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں، میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں، میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا  ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر اس نے رجوع کرنا ہو اور وہ آنے کے لیے تیار ہو تو اس میں کوئی گنجائش ہے؟ مجھے پتا نہیں تھا کہ ایک اور دو بھی ہوتی ہیں، اگر پتا ہوتا تو یہ نہ کرتا۔

o

واضح رہے کہ ایک ساتھ دو یا تین طلاق دینا جائز نہیں، گناہ کا کام ہے، تاہم اگر کوئی اس طرح کردیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اور آپ دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے، نہ حلالہ کے بغیر آپ دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

اب اگرآپ دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس کی صرف ایک صورت ہے،اور وہ یہ کہ عدت گزرنےکےبعدمطلقہ کا کسی دوسرے شخص  سے  شرعی گواہوں کی موجودگی میں مہر کے  عوض باقاعدہ نکاح ہوجائے، دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد اپنی مرضی سےاس کو طلاق دے یا ہمبستری کے بعد اس کا انتقال ہوجائے، اور اس کے بعد دوسرےشوہرکی عدت گزرجائے، توپھر آپ دونوں باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئےمہر پر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب آپ دونوں کے درمیان نکاح کی کوئی صورت نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
صحيح البخاري (3/ 168):
عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك.
الدر المختار (3/ 232):
( والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين ) في طهر واحد ( لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه ، أو ) واحدة في ( حيض موطوءة ).. الخ
رد المحتار (3/ 232,233):
( قوله والبدعي ) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر ( قوله ثلاثة متفرقة ) وكذا بكلمة واحدة بالأولى ، وعن الإمامية : لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة ….وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث…….( قوله في طهر واحد ) قيد للثلاث والثنتين ….الخ

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/جمادی الآخرۃ /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔