021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منگنی میں طے شرائط کی خلاف ورزی کی وجہ سے منگنی ختم کرنا
75637نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ہم نے اپنی بیٹی کی منگنی عبد المطلب ولد عبد الرحمن سے درجِ ذیل شرائط پر کی:

  1. لڑکا دین داری اختیار کرے گا اور آگے درس و تدریس کرے گا۔
  2. نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں دینی خدمات سر انجام دیں گے۔
  3. لڑکا ہمارے قریب بنات کے مدرسہ کے نزدیک رہائشی مکان خرید کر، وہیں پر رہے گا۔
  4. شادی کے وقت ڈیڑھ لاکھ روپے اور 2 تولہ سونا دے گا۔

اب اس درمیان تین سال گزر چکے ہیں۔ پہلے دو سال تک تو لڑکے نے کوئی رابطہ نہیں کیا، گزشتہ ایک سال سے رابطے میں ہے، مگر اب ہم لڑکی والے لڑکے کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے چند وجوہات کی بنا پر اس منگنی کو بر قرار نہیں رکھنا چاہتے۔ وجوہات درجِ ذیل ہیں:

  1. لڑکا بے دین اور آوارہ ہے، حد یہ ہے کہ والدین کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ نماز بھی نہیں پڑھتا۔
  2. جہاں مکان خریدنے کا کہا تھا، وہاں مکان نہیں خریدا۔ اور اب کہہ رہے ہیں کہ وہاں مکان خریدنے کی ہماری طاقت نہیں ہے۔
  3. نکاح کی صورت میں لڑکی کے لیے شرعی پردہ کرنا بھی تقریبا ممکن نہ ہوگا۔ نیز جس دین داری کا امکان تھا، وہ اب لڑکےمیں دور تک نظر نہیں آرہی، بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

سوال یہ ہے کہ شرعا اس منگنی کو ختم کرنے کا کیا حکم ہے؟

تنقیح: سائل نے بتایا نکاح نہیں ہوا، صرف منگنی ہوئی ہے، اور لڑکی بھی منگنی ختم کرنا چاہ رہی ہے۔

o

منگنی (جس میں نکاح نہ ہو) کی حیثیت شرعا وعدہ کی ہے، اور وعدہ کی پابندی شرعا ضروری ہے، بلاعذرِ معتبر وعدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ البتہ اگر کوئی واقعی اور معتبر عذر سامنے آئے جس کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کیا جائے تو پھر وعدہ خلافی کا گناہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اولاً تو حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ منگنی برقرار رہے، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو اور شادی کے بعد باہمی اختلافات اور ناچاقیوں کا خطرہ ہو تو سوال میں ذکر کردہ تفصیل کی روشنی میں منگنی ختم کرنے کی گنجائش ہے۔  

حوالہ جات

فقه البیوع (1/89):
الذی یتلخص من القرآن والسنة أن الوعد إذا کان جازماً یجب الوفاء به دیانةً، ویأثم الإنسان بالإخلاف فیه، إلا إذا کان لعذر مقبول.أما لزوم الوفاء قضاءً، فالأصل فیه أن مجرد الوعد لایحکم به فی القضاء؛ لأن المواعید متنوعة، ولیس من مهام القضاء أن یتدخل فی کل مایجری بین الناس من کلام، فمن قبل من الآخر خطبته لبنته، فإن ذلك وعد منه بتزویجه إیاها، و قد یبدو له أنه لیس من مصلحة البنت أن یفی بهذا الوعد، فلو قلنا إن المواعید کلها لازمة فی القضاء، لزم أن یرفع الخاطب هذه القضیة إلی القاضی و یجبر القاضی والد المخطوبة علی أن یزوج الخاطب إیاها، و هذا مما فیه حرج ظاهر.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

26/جمادی الآخرۃ /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔