021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نائیک (Nike)برانڈ کی چیزیں استعمال کرنا
75894جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

مفتی صاحب میرا نام ابرار ہے میرا تعلق صوابی سے ہے اور میں کافی عرصے سے چائنہ میں رہتا ہوں ۔ ہم کافی عرصے سے نائیک(Nike) برینڈکی چیزیں استعمال کرتےآرہےہیں،جیسا کہ ان کے جوتے، ان کے کپڑے،انکے ٹراؤزر،اوران کےشرٹس وغیرہ،لیکن چنددن پہلےایک مفتی صاحب سےسنا جوادھر چائنہ میں ہی ہوتےہیں، انہوں نےکہاکہ یہ(یعنی نائیک برانڈکی چیزیں استعمال کرنا)حرام ہےاورکہاکہ نائیک کی چیزیں استعمال کرناشرک کےزمرےمیں آتا ہے،جومیں نےکبھی اس نیت سےنہیں خریدی اور اسکےنام اورلوگو (Logo) کا ہٹانا واجب ہے،تو آپ اس بارےمیں رہنمائی فرمائیں کیونکہ بہت سارے مسلمان اورپاکستانی بھی اس کواستعمال کرتےہیں اوراگرواقعی اسکااستعمال جائزنہیں تواب جوپہلےسےموجود ہیں توان کاکیاکریں۔مطلب ان کوضائع کردوں یاکسی کودےدوں اگرشرک ہے،اوریہ اتنابڑا گناہ ہے،تومیرےخیال میں اسکوکسی کوتودےبھی نہیں سکتا۔

o

لفظ "نائیک"(Nike)کی نسبت ایک دیوی کی طرف ہےاوراس کےلوگو(ü)کی تعیین اس دیوی کی پروں سےمشابہت کی بنیادپرکی گئی ہے،جس کوقدیم یونان میں"فتح کاخدا"کہتےتھے،جس نے(نعوذ باللہ)ان کےعقیدے کےمطابق جنگ میں فتح دلائی تھی،قدیم زمانےمیں یونانی اس نام کوبطور فتح کے استعمال کرتےتھے، اورکمپنی کامقصد بھی اس نام سےیہی ہےکہ ان کی کمپنی کوتمام کمپنیوں پر فتح اور جیت حاصل ہو،یہ دراصل کفارکی سازش ہےکہ وہ نئی چیزیں بناکران پراس طرح کی علامت لگادیتےہیں،جن سےان کےکفریہ عقائدکااظہارہوتاہے۔

لہٰذاعام حالات میں ایسی چیزوں کےاستعمال سےپرہیزکیاجائےجس پرنائیک کالفظ یالوگوبناہواہو،البتہ نائیک کمپنی کی پروڈکٹ کواس نیت سےاستعمال کرناکہ وہ فتح یا جیت دلائےگی صراحتاً شرک اورکفرہے،اوربغیرکسی عقیدہ کےصرف پائیدارپروڈکٹ ہونےکی وجہ سے استعمال کرنےکی اس شرط کےساتھ گنجائش ہےکہ یہ علامت کافروں کاشعارنہ ہو،یانائیک کےلفظ اورلوگوکومٹادیاجائے۔

بہتریہ ہےکہ مسلمانوں کی بنائی ہوئی پروڈکٹ  استعمال کی جائے، کیونکہ  عام حالات میں کفار کی بنائی ہوئی پروڈکٹ   خریدنااگرچہ جائزہے،مگر ان کی پروڈکٹ خریدنےمیں ان کی ایک قسم کی مالی معاونت  ہے،جس کووہ عام

طورپر مسلمانوں کےخلاف استعمال کرتےہیں۔

 نائیک کمپنی کی جواشیاء(کپڑے،جوتےوغیرہ)آپ کےپاس موجود ہیں،ان کواستعمال کرنےکی اگرچہ گنجائش ہےمگربہتریہ ہےکہ ان سےنائیک کالفظ اورلوگومٹادیاجائے،البتہ اگریہ علامت کفارکےشعار(علامات)میں سےہوتونائیک کےلفظ اورلوگوکومٹائےبغیراستعمال کرناجائزنہیں ہے۔

حوالہ جات

(فی القرآن الکریم):
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
صحيح البخاري (4/ 41):
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المختار) (1/ 647):
قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. ۔۔۔۔ أقول: والظاهر أنه يلحق به الصليب وإن لم يكن تمثال ذي روح لأن فيه تشبها بالنصارى. ويكره التشبه بهم في المذموم وإن لم يقصده كما مر۔
الفتاوى الهندية (2/ 215):
 وإن وجدوا في الغنيمة قلائد ذهب أو فضة فيها الصليب والتماثيل، فإنه يستحب كسرها قبل القسمة۔
(موسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ12/88):
يكره الصليب في الثوب ونحوه كالقلنسوة والدراهم والدنانير والخواتم . قال ابن حمدان : ويحتمل التحريم ، وهو ظاهر ما نقله صالح عن الإمام أحمد ، وصوبه صاحب الإنصاف .
ودليل ذلك حديث عائشة رضي الله عنها الذي يفيد " أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع صورة الصليب من الثوب " ، وفي بعض رواياته عند أحمد عن أم عبد الرحمن بن أذينة قالت : < كنا نطوف مع عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها فرأت على امرأة بردا فيه تصليب ، فقالت أم المؤمنين : اطرحيه . اطرحيه . فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى نحو هذا في الثوب قضبه >  . وقال إبراهيم : أصاب أصحابنا خمائص فيها صلب فجعلوا يضربونها بالسلوك يمحونها بذلك .
الفتاوى الهندية (5/ 347):
والصلاة في سراويلهم (الکفار)نظير الأكل والشرب من أوانيهم إن علم أن سراويلهم نجسة
لا تجوز الصلاة فيها وإن لم يعلم تكره الصلاة فيها ولو صلى يجوز.
https://nikecompanyblog.wordpress.com/about-us/
Founded by Bill Bowerman and Phil Knight on January 25 1964, as Blue Ribbon Sports, the company  became  officially  Nike, Inc. on May 30 1971.The company was named after the Greek goddess of victory, Nike (Νίκη).
Apart from its own brand, Nike market its products under Nike Pro,
Nike+, Nike Golf, Nike Blazers, Air Jordan, Air Max and other as well as subsidiaries including brands  Jordan, Hurley Int. and Converse.
Nike sponsors many high-profile athletes and sports teams around the world, with the highly recognized trademarks of “Just Do It” and the Swoosh)ü( logo (which represents the wing of the Greek goddess Nike).
https://en.wikipedia.org/wiki/Nike,_Inc.                                                                                                                                                              
The company was founded on January 25, 1964, as "Blue Ribbon Sports", by Bill Bowerman and Phil Knight, and officially became Nike, Inc. on May 30, 1971. The company takes its name from Nike, the Greek goddess of victory۔

محمدعمربن حسین احمد

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

3 رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔