| 75872 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
گھر میں تقریبا دو تولہ سونا اور تقریبا ایک لاکھ سے زائد نقدی رقم موجود ہے۔ یہ چیزیں موجودہ تین جوان بچیوں کی شادی کی نیت سے رکھی ہوئی ہیں۔ اِس کے علاوہ گھر کی آمدن کم ہونے کی وجہ سے اگر گھر میں تنخواہ وغیرہ ختم ہوجائے تو اُسی رکھی ہوئی نقدی رقم میں سے خرچ کیے جاتے ہیں۔ بتادیجیئے کہ اِس زیور اور نقدی رقم پر زکوۃ بنتی ہے یا نہیں؟ اگر بنتی ہے تو کتنی بنتی ہے؟ اور موجودہ دور میں کتنے تولہ سونے پر زکوۃ بنتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سونے کے ساتھ اگر نقد رقم بھی ہو تو سال گذرنے پر اُن دونوں کی زکوۃ ادا کی جائے گی، خواہ زیورات اور نقدی کسی بھی نیت سے رکھے ہوئے ہوں۔ چنانچہ دو تولہ سونا اور نقدی میں سے جو چیز پہلے ملکیت میں آئی ہو، اُس پر سال گذرنے سے دونوں چیزوں پر کل مالیت کے ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی۔
حوالہ جات
فی البحر الرائق: 2/246
"وكل شيء فهو عرض سوى الدراهم والدنانير اهـ ... قيد بكونها للتجارة؛ لأنها لو كانت للغلة فلا زكاة فيها؛ لأنها ليست للمبايعة."
وفی الفتاوی الھندیۃ: 1/178
"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن، مصوغا أو غير مصوغ، حليا كان للرجال أو للنساء، تبرا كان أو سبيكة، كذا في الخلاصة."
طارق مسعود
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
۴ ِ رجب ۱۴۴۳ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | طارق مسعود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


