021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک تولہ سونا اور تنخواہ کی رقم میں زکات کا حکم
76185زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

 ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونے کی انگوٹھی ہے،اس کے علاوہ جو تنخواہ ملتی ہے وہ خرچ ہوجاتی ہے۔کیا اسے زکات ادا کرنی ہوگی؟ ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونے کی انگوٹھی ہے،اس کے علاوہ جو تنخواہ ملتی ہے وہ خرچ ہوجاتی ہے۔کیا اسے زکات ادا کرنی ہوگی؟ ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونے کی انگوٹھی ہے،اس کے علاوہ جو تنخواہ ملتی ہے وہ خرچ ہوجاتی ہے۔کیا اسے زکات ادا کرنی ہوگی؟

o

اگر کسی کے پاس سونا ساڑھے سات تولے  سے کم ہو اورساتھ میں  چاندی  یا  نقدی بھی ہو تواگرمجموعے  کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو تو اس میں زکات واجب ہوگی،لہذا مذکورہ صورت میں  اگر اس بندے  کے پاس زکات کی ادائیگی کی تاریخ  کے وقت تنخواہ کی رقم میں سے کچھ موجود ہو تو موجودہ رقم اور انگوٹھی کی قیمت ملا کر زکات ادا کرنا ہوگی۔البتہ اگر زکات کی تاریخ سے پہلے اس رقم سے ضرورت کی اشیاء خرید لی تو زکات واجب نہ ہوگی۔

حوالہ جات

فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ.
قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها(رد المحتار،کتاب الزکاۃ:2/262)
 
(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة))الدر المختار،کتاب الزکاۃ:2/303)
 

محمد انس جمال             

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04رجب1443ھ  

 

 

n

مجیب

انس جمال بن جمال الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔