021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعویذپانی میں ڈال کرپینےکاحکم
75778ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام ساخت(تعویذ)کےبار میں جس کو پانی میں ڈبوکریاپانی میں ڈال دیاجاتاہے،جس سےاس صفحہ سےقرآنی آیات مٹ جاتی ہیں،پھراس پانی کوپیاجاتاہے،جبکہ حدیث میں آتاہےکہ:قیامت کی نشانیوں میں سےیہ بھی ہےکہ مسلمان اپنی ہی ہاتھوں سےقرآن پاک کےلفظوں کومٹائیں گے۔

توکیاتعویذ ساخت یعنی جوقرآنی آیات ہیں،اسےصفحےمیں لکھ کرپانی میں ڈال کرمٹانااورپیناصحیح ہے؟

مزیدیہ کہ کیاساخت(تعویذ)کی فوٹوکاپی کرکےدوسروں میں بانٹناصحیح ہے؟

o

ایسی کوئی روایت تلاش کےباوجودنہیں مل سکی کہ قیامت کی نشانیوں میں سےیہ بھی ہےکہ مسلمان اپنے ہاتھوں سےقرآن پاک کےلفظوں کومٹائیں گے،البتہ اس طرح کےمضمون کی ایک روایت سنن دارمی میں منقول ہے،جس میں آپﷺ ارشادفرماتےہیں کہ:"قیامت کےقریب قرآن مجیدکی آیتیں مصحف اورلوگوں کے سینوں سےاٹھالیاجائیگا"

تعویذکوپانی میں ڈالنااوراس کےحروف مٹ جانےپرشفاءکی غرض سےپیناجائزہے،یہ عمل قرآن مجید کے الفاظ کومٹانےکےمترادف نہیں ہے۔

مزیدیہ کہ تعویذ کی فوٹوکاپی کرواکےدوسروں کودیناصحیح ہے،تاہم تعویذمیں منقوش الفاظ کےآداب (مثلاً بلاوضوآیات کونہ چھونا،زمین یاگندی جگہ میں نہ رکھناوغیرہ)کی رعایت ضروی ہے۔

حوالہ جات

(فی القرآن الکریم):
وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين ولا يزيد الظالمين إلا خسارا[الإسراء: 82]
ياأيها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور وهدى ورحمة للمؤمنين [يونس: 57]
سنن الدارمي (4/ 2106):
 عن ابن مسعود، قال: «ليسرين على القرآن ذات ليلة ولا يترك آية في مصحف، ولا في قلب أحد إلا رفعت»۔
الفتاوى الهندية (5/ 322):
ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز، وقد ورد النهي عن محو اسم الله
 تعالى بالبزاق، كذا في الغرائب.ومحو بعض الكتابة بالريق يجوز، كذا في القنية۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 213):
محا لوحا يكتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز۔

محمدعمربن حسین احمد

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

4 رجب المرجب1443ھ

n

مجیب

محمد عمر ولد حسین احمد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔