021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوران عدت رجوع نہ کرنے متعلق حکم
75821طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

پہلی طلاق  کی عدت تین ماہ گزرنے کے باوجود رجوع نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں دوسری اور تیسری  طلاق دینے کا کیا طریقہ ہو گا؟ کیا عدت دوبارہ کرنی ہو گی؟

o

واضح رہے کہ مطلقہ عورت   کو اگر حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین  حیض  کی مدت کے بقدر ہو گی  اور اگر حیض نہ آتا ہو تو پھر اس کی عدت تین ماہ  ہو گی ، چنانچہ تین حیض یا  تین ماہ کی مدت کے دوران اگر شوہر نے عورت سے رجوع نہ کیا تو عدت کے مکمل ہو نے پر نکاح بالکلیہ ختم ہو جائے گا۔ لہذا پھر دوسری اور تیسری طلاق کی نہ ضرورت رہے گی اور نہ محل،  اس لیے کہ طلاق ایسی عورت پر واقع ہوتی ہے جو نکاح میں ہو اور جو عورت نکاح میں نہ ہو، تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔ چنانچہ جب طلاق کی ضرورت نہ رہے گی تو پھر دوبارہ کوئی عدت گزارنے کی بھی ضرورت نہ ہو گی ۔

حوالہ جات

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6955):
أما‌‌ الطلاق الرجعي: فهو الذي يملك الزوج بعده إعادة المطلقة إلى الزوجية من غير حاجة إلى عقد جديد ما دامت في العدة، ولو لم ترض. وذلك بعد الطلاق الأول والثاني غير البائن إذا تمت المراجعة قبل انقضاء العدة، فإذا انتهت العدة انقلب الطلاق الرجعي بائنا، فلا يملك الزوج إرجاع زوجته المطلقة إلا بعقد جديد.
اتفق الفقهاء على أن الطلاق الرجعي له آثار هي:
نقص عدد الطلقات: يترتب على الطلاق أنه ينقص عدد الطلقات التي يملكها الزوج، فإذا طلق الرجل زوجته طلاقا رجعيا بقي له طلقتان، وإذا طلق طلاقا آخر بقي له طلقة واحدة.
انتهاء رابطة الزوجية بانتهاء العدة: إذا طلق الرجل طلاقا رجعيا وانقضت العدة من غير مراجعة بانت منه بانقضاء العدة، وحينئذ يحل مؤخر الصداق۔

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

3، رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔