| 75818 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
ایک طلاق دینے کے بعد بیوی اور اس کی فیملی کی طرف سے دوسری اور تیسری طلاق کا مطالبہ آ جائے تو شرعی طور پر حکم کیا ہے؟ (کیونکہ شوہر دوسری طلاق کو پہلی طلاق کی عدت ختم ہونے تک موخر کرنا چاہتا ہے، اس امید پر کہ شاید معاملات میں بہتری آ جائے)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعت نے طلاق دینے کا اختیار مرد کے سپرد کیا ہے۔ چنانچہ اگر وہ ظالم نہیں اور سمجھتا ہے کہ معاملات میں بہتری آ سکتی ہے تو بیوی یا اس کے گھر والوں کے مطالبہ پر دوسری اور تیسری طلاق دینا اس پر لازم نہیں کیونکہ شریعت کی منشاء یہی ہے کہ مرد اور عورت کا رشتہ برقرار رہے اور سنت و افضل طریقہ بھی یہی ہے کہ ایک طلاق رجعی دے کر عدت پوری ہونے کا انتظار کیا جائے ۔ چنانچہ اس دوران اگر معاملات بہتر نہیں ہوتے تو عدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا اور دوسری تیسری طلاق دینے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
حوالہ جات
القرآن الكريم ،[البقرة: 237]:
﴿وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴾
[النساء: 34]:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ﴾
سنن ابن ماجة (رقم : 2081):
عن ابن عباس ، قال: اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل، فقال: يا رسول الله، إن سيدي زوجني امته، وهو يريد ان يفرق بيني وبينها، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فقال:" يا ايها الناس ما بال احدكم يزوج عبده امته، ثم يريد ان يفرق بينهما، إنما الطلاق لمن اخذ بالساق".
محمد انس جمیل
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
3، رجب المرجب 1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد انس ولدمحمد جمیل | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


