021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے مالیاتی آڈٹ کرنے کا حکم
76199جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور حرام کاروبار میں مصروف دیگر کمپنیوں کا مالیاتی آڈٹ کر نا جائز ہے؟ آڈٹ میں ہم ان کے مالیاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور جانچتے ہیں کہ آیاوہ بنیادی ریکار ڈاور ملک کے قواعد وضوابط کے مطابق تیار کیے گئے ہیں اور یہ کہ وہ دھوکہ دہی یا غلطی کی وجہ سے غلط تو نہیں ہیں۔ اس تمام کا تعلق محض کمپنی کے اکاؤنٹس سے ہوتا ہے۔ نیز حلال کار و بار میں مصروف کاروبار کا آڈٹ کرتے وقت ہم ان کے ریکارڈ کا آڈٹ کرتے ہیں جس میں بعض اوقات بینک سے وصول شدہ یا ادا کردہ سود بھی ہوتا ہے ، کیا ان کا آڈٹ کر ناجائز ہے؟

o

واضح رہے کہ بینکوں ، انشورنس کمپنیوں اور حرام کاروبار میں مصروف دیگر کمپنیوں کا مالیاتی آڈٹ کرنے کے متعلق علماء کی دو آراء  پائی  جاتی ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے  کہ آڈٹ   چونکہ موجودہ زمانے میں کاروباری ضرورت ہے اور اس کو کاروبار کی ترقی اور بڑھو تری  میں بڑا دخل ہے،  لہذا حرام کاروباری کمپنیوں کا مالیاتی آڈٹ کرنا دراصل ان کی  ترقی میں سبب کا درجہ رکھتا ہے اور حرام  کاموں میں جان بوجھ کر سبب بننا بھی جائز نہیں ہے۔  چنانچہ  ان کمپنیوں کا آڈٹ  کرنے کی صورت میں  حاصل ہونے والی آمدن بھی کراہت تحریمی کے تحت ناجائز ہو گی۔

دوسری رائے اس بارے میں یہ ہے کہ آڈٹ کا براہ راست تعلق سودی معاملے کی جانچ پڑتال اور اس پر گواہ بننے سے نہیں ہے۔ اس میں کسی غیر شرعی معاملے کو وجود نہیں دیا جاتا، بلکہ ماضی میں کئے  جانے والے معاملات کی جانچ پڑتال  کی جاتی ہے، اور اس معاملے کو انجام دینے میں آڈٹ کرنے والے کا کوئی کردار نہیں ہوتا، چنانچہ اسے براہ راست سودی یا حرام  معاملات کے گواہ بننے اور لکھنے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا کسی سودی بینک یا حرام کاموں میں ملوث کمپنیوں  کے  آڈٹ کرنے  کی گنجائش ہے اور اس صورت میں حاصل ہونے والی آمدن حلال ہو گی۔  

پہلی رائے اکثر علماء کے نزدیک راجح ہے، تاہم وہ کمپنیاں جن کا اصل کاروبار جائز اور حلال ہے لیکن انہوں نے بینک سے سودی معاملات کر رکھے ہیں تو ان کے کاروبار کا آڈٹ کرنا جائز ہے ۔

حوالہ جات

القرآن الكريم، [المائدة: 2]:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾
تکملة فتح  الملہم، ط: أشرفية (419/1):
ومن ھنا ظہر أن التوظف في البنوک الربویۃ لایجوز، فإن کان عمل الموظف في البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ، أو الحساب، فذلک حرام لوجہین: الأول: إعانۃ علی المعصیۃ، والثاني: أخذ الأجرۃ من المال الحرام۔
فقه البيوع، ط: مكتبه معارف القرآن كراتشي  :(183/1)
والثالث: بيع أشياء ليس لها مصرف إلا في المعصية، فيتمخض بيعها وإجارتها للمعصية، وإن لم يصرح بها. ففي جميع هذه الصور قامت المعصية بعين  هذا العقد، والعاقدان كلاهما أثم بنفس العقد، سواء استعمل بعد ذلك في المعصية أم لا، وسواء استعملها على هذه الحالة، أو بعد استحداث صنعة فيه. فإن استعملها في المعصية، كان ذلك إثماً آخر على الفاعل خاصة.

محمد انس جمیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

‏4، رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے