021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے معاملے میں بالغہ لڑکی کی پسند کا خیال نہ رکھنا اور استخارہ کو موجب عمل سمجھنا
75852جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

یہ مسئلہ میری بہن کا ہے جس کی عمر ۲۳ سال ہے جو کہ مجھ سے ایک سال  بڑی ہے۔ میں اپنی والدہ کے کہنے پر یہ مسئلہ لکھ رہی  ہوں تاکہ والد صاحب کو دکھا سکیں۔ مسئلہ  دراصل یہ ہے کہ میری بہن اور میں ایک جگہ پڑھتے تھے، سال پہلے وہاں ایک لڑکے نے میری  بہن کو پسند کیا اور نکاح کی بات کی۔ لڑکے کی چچا زد بہن بھی وہیں پڑھتی تھی ، ان کے  ذریعے ہمیں یہ معلوم ہوا۔  وقت آنے پہ لڑکا والدین کو لے کر آگیا، بہن بھی یہی چاہتی تھی کہ اسی لڑکے سے شادی ہو( اصل میں یہ لوگ پنجابی فیملی سے ہیں، ان کے والدین بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے، اس لئے ان کا لہجہ پنجابی ہے، پھر سب شہر  آ گئے  اور ان کے بچے اب صرف  اردو بولتے ہیں)۔ جب رشتہ آیا تو والد صاحب نے دیکھا کہ یہ لوگ پنجابی ہیں اور ہم لوگ مہاجر ۔ والد صاحب نے منع کردیا کہ یہاں پر نہیں کرنی کیونکہ میں استخارہ کر رہا ہوں اور میرا دل یہاں نہیں ماں رہا۔ اب بہن کافی تکلیف میں آ گئی ہے اس فیصلے پر کیونکہ  اس کا دل نہیں مائل ہو رہا اور کہیں راضی بھی نہیں ہو رہا ۔ اس نے گھر میں یہ بات بتائی تو والد صاحب نے کہا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں استخارہ کر کے اب آگے  بڑھو اور زبردستی دوسرے رشتے آ آ کر دیکھ کر جار ہے ہیں۔ بہن کافی تکلیف میں ہے کہ اس کا دل  راضی نہیں ہو رہا۔ وہ ہر نماز کے ساتھ صلاة الحاجات اور توبہ کے نوافل ادا کر رہی ہے پچھلے ایک مہینے سے۔ تہجد بھی پڑھ کے رو رو کر  الله تعالیٰ  سے معافی    مانگ رہی ہے اور دعا کر رہی ہے کہ میرا دل نہیں مان رہا اگر یہ نہیں ملنا تو دل سے نکال دے خیال اور کہیں اور راضی کردے  یا والد صاحب راضی ہو جائیں۔

والد صاحب جامعہ  رشیدیہ ، مولانا طارق جمیل صاحب اور مفتی طارق مسعود صاحب و دیگر علماء کو مانتے ہیں، اس لئے آپ سے راہ نمائی چاہتے ہیں۔ بہن نے مفتی طارق مسعود صاحب کے بیانات میں سنا ہے کہ جو دو لوگ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو نکاح سے بہتر کچھ  نہیں۔ اس  میں استخارہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ نکاح کیا جائے گا۔ اس ف مختلف واقعات سنائے کہ ایک صحابیہ کو غریب صحابی   سے نکاح کرنا تھا جبکہ چچا جو کہ والی تھے انہوں نے امیر صحابی سے نکاح کردیا ، آپ صلی الله علیہ و سلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے نکاح ختم کروا کر ان صحابیہ کا غریب صحابی سے نکاح کروا دیا اور فرمایا     لم   یر للمتحابین مثل  النکاح ۔ مفتی صاحب نے ایک اور  واقعہ میں بتایا کہ ان کے پاس آکر ایک لڑکے نے کہا کہ میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس کے والدین کہتے ہیں کہ استخارہ نہیں آ رہا ۔ مختصر یہ کہ تب بھی اپنے کہا تھا  کہ یہیں نکاح کرو پھر اپنے یہی حدیث پڑھی۔

ایک اور جگہ اپنے کہا کہ آپ صلی الله علیہ و سلم کا نکاح کے موقع پر عمل دیکھا جائے گا۔ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کا طریقہ دیکھا جائے گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے کسی نکاح میں استخارہ نہیں کیا اور نہ صحابہ نے۔ مختصر والد صاحب کا یہ کہنا کہ فیصلہ ہو چکا، میں نے استخارہ کیا تھا۔ اب کیا دوبارہ اس فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی جاسکتی؟ کیا زبردستی کرنا کہ میں نے استخارہ کر کے فیصلہ کردیا اب فیصلہ  کے بعد اس طرف نہیں جا سکتے، کیا یہ بات صحیح ہے؟ جبکہ بہن کا دل بہت دعاؤں اور کوششوں کے بعد بھی اس طرف سے نہیں ہٹ رہا ، ادھر ہی نکاح کی خواہش موجود ہے۔ کیا بہن کا دل اگر کسی اور جگہ راضی ہو رہا ہے اور والد صاحب تب بھی دوسرے بہتر رشتے ڈھونڈ رہے ہیں شادی کے لئے تو کی یہ جائز ہے؟ کیا اب اس فیصلے پر گھوڑ کرنا غلط  ہو گا؟

لڑکا پڑھا لکھا ہے، اپنی یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے، اور ملٹی نیشنل   کمپنی میں کام کرتا ہے۔ آگے ماسٹرز کرنے کا بھی ارادہ ہے اور باہر جانے کا بھی۔ پورا دین دار نہیں لیکن اخلاق بہت اچھا ہے  اور پانچ وقت کا نمازی ہے۔ کسی غلط کاموں میں بھی نہیں، سگریٹ جیسی فضول چیزوں میں بھی نہیں ہے۔ بس والد صاحب کے مطابق ابھی وہ Stable نہیں ہے کیونکہ صرف 4 مہینے ہوئے ہیں جاب کو اور پنجابی بھی ہے۔  برائے  مہربانی ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے والد اور بہن دونوں کی کیفیات کو سمجھتے ہوئے رہنمائی فرما دیجیے تفصیل کے ساتھ،  تاکہ والد صاحب کو دکھا سکیں۔

o

واضح رہے کہ استخارہ کہتے ہیں خیر  اور بھلائی طلب کرنے کو،   یعنی اپنے جائز اور اہم معاملات میں کسی ایک جہت پر دلی اطمینان حاصل کر نے کے لئے  الله رب العزت سے مشورہ کرنا  اور جو کام آپ کرنے جار ہے  ہیں اس کام میں خیر اور بھلائی  طلب کرنا۔ اس  کا مقصد محض اپنے دلی تردد کو دور کرنا ہے کسی چیز میں موجود خیر اور شر کا معلوم کرنا نہیں ،  اور اس کی شرعی حیثیت  بھی محض مستحب کی ہے۔    اس کا مطلب یہ ہے کہ شادی یا کسی اور  جائز اور اہم کام میں جب دل مطمئن ہو تو اس کے لئے استخارہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ جب انسان کا دل مطمئن ہو تو بغیر استخارہ کئے بھی کام  کیا جا سکتا ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استخارہ کا صرف اتنا اثر ہوتا ہے کہ جس کام میں تردد اور شک ہو کہ یوں کرنا بہتر ہے یا یوں ؟یا یہ کرنا بہتر ہے یا نہیں ؟تو استخارے کے مسنون عمل سے دو فائدے ہوتے ہیں :

-1دل کا کسی ایک بات پر مطمئن ہو جانا۔

2-اور اس مصلحت کے اسباب میسر ہو جانا ۔

تاہم اس میں خواب آنا ضروری نہیں ۔(اصلاح انقلاب امت)

استخارہ کے متعلق دوسری بات یہ سمجھیے کہ  استخارہ چونکہ  الله رب العزت سے مشورہ اور خیر طلب کرنے کا نام ہے،   لہذا  استخارہ   کرنے کے بعد کسی کام  کا کرنا یا نہ کرنا لازم نہیں ہو جاتا  بلکہ   استخارہ کرنے والے کے پاس اس بات کا اختیار باقی رہتا ہے کہ وہ جیسا بہتر سمجھے ویسا کرے، چاہے استخارہ کے بعد  اس  کام کے علاوہ کسی اور کام کیلئے دل میں  اطمینان پیدا ہو جائے۔ چنانچہ  استخارہ میں جس بات پر اطمینان ہو  جائے کسی مصلحت کی وجہ سے اس کے خلاف پر بھی عمل  کیا جا سکتا  ہے اور   کئے ہوئے فیصلے  پر نظر ثانی بھی کی جاسکتی ہے۔  لہذا آپ کے والد صاحب کا یہ کہنا کہ میں نے استخارہ  کر کے فیصلہ کرلیا ہے ، اب کچھ نہیں ہو سکتا درست نہیں ہے اور دوبارہ اس مسئلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

استخارہ کے متعلق ایک وضاحت یہ  بھی   سمجھیے کہ استخارہ  اسی شخص کے لئے کرنا مسنون ہے   جس کا  کام اور حاجت ہو یعنی دوسروں  کا آپ کے کام   کیلئے استخارہ کرنا  جائز تو ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ خود کریں  ۔ احادیث مبارکہ سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے  کہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو استخارہ کا طریقہ اس اہتمام سے تعلیم فرماتے تھے جیسے قرآن کریم کی سورت یا آیت۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے امور میں مشورہ تو لیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے "استخارہ" نہیں کرواتے تھے، حالانکہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقدس و برگزیدہ کوئی انسان نہیں ،نیز اس وقت وحی بھی نازل ہوتی تھی جس کی روشنی میں خیر و شر یقینی طور پر معلوم ہو سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے استخارہ کروایا اور نہ ہی کسی اور کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ کیا ۔ چنانچہ اگر استخارہ کرنا ہی ہے تو  آپ کی بہن کو خود کرنا چاہیے  ۔

اس تفصیل کے بعد یہ سمجھیے کہ نکاح کے باب میں زبان اور قوم کا مختلف ہونا شرعا معتبر نہیں ہے۔  شریعت نے اس سلسلے میں جس بات  کا اعتبار کیا ہے وہ ہے" کفو"۔  ’کفو‘‘ کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر۔  نکاح کے باب میں "کفو"  کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین، دیانت، مال و نسب اور  پیشہ میں لڑ کی کے ہم پلہ (یا اس سے بڑھ کر) ہو ، اس سے کم نہ ہو،  اور کفاءت میں مرد کی جانب کا اعتبار ہے، لہذا اگر لڑکا او ر لڑکی نسب، مال، دین داری، شرافت اور پیشے میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ’’کفو‘‘   قرار پائیں گے، ان کا باہمی رضامندی کے ساتھ  نکاح درست ہے ۔ لہذا  جب لڑکے میں یہ باتیں موجود ہیں جیسے کہ آپ نے لکھا ہے تو آپ کے والد صاحب کا   یہ کہنا کہ لڑکا پنجابی ہے اور مستحکم نہیں ، اس وجہ سے نکاح نہیں  ہو سکتا  درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی اور وجہ سے  لڑکا آپ کی بہن کے ہم پلہ اور برابر نہیں تو والد صاحب کا  کہنا درست ہو سکتا ہے۔

آخری بات یہ سمجھیے کہ  شریعت نے نکاح کے معاملہ میں والدین اور اولاد دونوں کو حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند کی رعایت کریں، اولاد کے بالغ ہو جانے کے بعد ان کی مرضی کے خلاف رشتہ کرنا اور اس کے لیے ان پر  دباوٴ  ڈالنا زیادتی ہے، لڑکے لڑکی بعد البلوغ اپنا عقد کرنے کے مجاز ہو جاتے  ہیں۔ چنانچہ  والدین اپنے بچوں کا  کسی ایسی جگہ نکاح نہ کروائیں جہاں وہ بالکل راضی نہ ہوں، اسی طرح بچے ایسی جگہ نکاح کرنے پر مصر نہ ہوں جہاں والدین بالکل راضی نہ ہوں،  لیکن چونکہ اس مسئلے میں والد صاحب کے پاس آئے ہوئے رشتہ کو ٹھکرانے کی کوئی ایسی   وجہ موجود  نہیں ہے جو شرعا قابل قبول ہو، لہذا مناسب یہی ہے کہ وہ اس زیادتی سے بچیں  اور اپنے  فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنی بیٹی  کی پسند کا خیال کریں  اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ واقعتا کوئی ایسی وجہ ہے جس کی وجہ سے یہ رشتہ کرنا ٹھیک نہیں تو یہ بات اپنی بیٹی کو  بٹھا کر سمجھائیں  اور اس کے بعد بیٹی کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ماں باپ کبھی بچوں کا برا نہیں  سوچتے، بہت ممکن ہے کہ کوئی ایسی وجہ ہو جو ان کو معلوم ہو اور بیٹی  کو نہیں ، لہذا جب وہ کوئی معقول وجہ بتائیں تو اس کو مانیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ  لڑکی پر نکاح کے معاملہ میں جبر اور زبردستی کرنا درست نہیں، والدین کو چاہیے کہ نکاح کے معاملہ میں اپنے بچوں کی پسند کی رعایت کریں، لیکن اولاد کو بھی چاہیے کہ والدین کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہوئے ان کی پسند کو  اپنی پسند پر ترجیح دیں،  اس لیے کہ عموماً والدین اور بزرگوں کے طے کردہ رشتے آگے چل کر خوش گوار ثابت ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ ایک چیز فی الحال ناپسند ہو لیکن بعد میں وہ خیر اور محبت کا ذریعہ بن جائے، اور جو رشتے وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کیے جاتے ہیں تجربہ شاہد ہے کہ عموماً وہ ناپائیدار ہوتے ہیں، وقتی پسند بعد میں ناپسندیدگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (8/ 81 ط السلطانية):
عن ‌جابر رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم ‌يعلمنا ‌الاستخارة في الأمور كلها، كالسورة من القرآن: إذا هم بالأمر فليركع ركعتين، ثم يقول: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، أو قال في عاجل أمري وآجله، فاقدره لي، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، أو قال في عاجل أمري وآجله، فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به، ويسمي حاجته.
فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته ط الحلبي :(3/ 255)
الولاية في النكاح نوعان: ولاية ندب واستحباب وهو الولاية على البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا، وولاية ‌إجبار وهو الولاية على الصغيرة بكرا كانت أو ثيبا، وكذا الكبيرة المعتوهة والمرقوقة. وتثبت الولاية بأسباب أربعة: بالقرابة، والملك، والولاء، والإمامة. وافتتح الباب بالولاية المندوبة نفيا لوجوبها؛ لأنه أمر مهم لاشتهار الوجوب في بعض الديار وكثرة الروايات عن الأصحاب فيه واختلافها.
وحاصل ما عن علمائنا - رحمهم الله - في ذلك سبع روايات: روايتان: عن أبي حنيفة تجوز مباشرة البالغة العاقلة عقد نكاحها ونكاح غيرها مطلقا إلا أنه خلاف المستحب وهو ظاهر المذهب، ورواية الحسن عنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى لما ذكر أن كم من واقع لا يرفع وليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له. وينبغي أن يقيد عدم الصحة المفتى به بما إذا كان لها أولياء أحياء؛ لأن عدم الصحة إنما كان على ما وجه به هذه الرواية دفعا لضررهم فإنه قد يتقرر لما ذكرنا، أما ما يرجع إلى حقها فقد سقط برضاها بغير الكفء. وعن أبي يوسف ثلاث روايات: لا يجوز مطلقا إذا كان لها ولي ثم رجع إلى الجواز من الكفء لا من غيره، ثم رجع إلى الجواز مطلقا من الكفء وغيره. وروايتان عن محمد: انعقاده موقوفا على إجازة الولي إن أجازه نفذ وإلا بطل، إلا أنه إذا كان كفئا وامتنع الولي يجدد القاضي العقد ولا يلتفت إليه. ورواية رجوعه إلى ظاهر الرواية. فتحصل أن الثابت الآن هو اتفاق الثلاثة على الجواز مطلقا من الكفء وغيره، هذا على الوجه الذي ذكرناه عن أبي يوسف من ترتيب الروايات عنه وهو ما ذكره السرخسي، وأما على ما ذكره الطحاوي من أن قوله المرجوع إليه عدم الجواز إلا بولي، وكذا الكرخي في مختصره حيث قال: وقال أبو يوسف: لا يجوز إلا بولي وهو قوله الأخير فلا، ورجح قول الشيخين؛ لأنهما أقدم وأعرف بمذاهب أصحابنا، لكن ظاهر الهداية اعتبار ما نقله السرخسي والتعويل عليه حيث قال عند أبي حنيفة وأبي يوسف في ظاهر الرواية.
وفيه أيضا:(3/ 260)                                                                                                                       
(قوله ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح) معنى الإجبار أن يباشر العقد فينفذ عليها شاءت أو أبت، ومبنى الخلاف أن علة ثبوت ولاية الإجبار أهو الصغر أو البكارة؟ فعندنا الصغر، وعند الشافعي البكارة، فانبنى على هذه ما إذا زوج الأب الصغيرة فدخل بها وطلقت قبل البلوغ لم يجز للأب تزويجها عنده حتى تبلغ فتشاور لعدم البكارة. وعندنا له تزويجها لوجود الصغر.
ألدر المختار  وحاشية ابن عابدين : (3/ 87)
(و) أما في العجم فتعتبر (حرية وإسلاما) فمسلم بنفسه أو معتق غير كفء لمن أبوها مسلم أو حر أو معتق وأمها حرة الأصل ومن أبوه مسلم أو حر غير كفء لذات أبوين (وأبوان فيهما كالآباء) لتمام النسب بالجد، وفي الفتح ولا يبعد مكافأة مسلم بنفسه لمعتق بنفسه وأما معتق الوضيع، فلا يكافئ معتقة الشريف. وأما مرتد أسلم فكفء لمن لم يرتد، وأما الكفاءة بين الذميين فلا تعتبر إلا لفتنة (و) تعتبر في العرب والعجم (ديانة) أي تقوى فليس فاسق كفؤا لصالحة أو فاسقة بنت صالح معلنا كان أو لا على الظاهر نهر (ومالا) بأن يقدر على المعجل ونفقة شهر لو غير محترف، وإلا فإن كان يكتسب كل يوم كفايتها لو تطيق الجماع (وحرفة) فمثل حائك غير كفء لمثل خياط ولا خياط لبزاز وتاجر ولا هما لعالم وقاض وأما أتباع الظلمة فأخس من الكل وأما الوظائف فمن الحرف فصاحبها كفء للتاجر لو غير دنيئة كبوابة وذو تدريس أو نظر كفء لبنت الأمير بمصر بحر
(و) الكفاءة (اعتبارها عند) ابتداء (العقد فلا يضر زوالها بعده) فلو كان وقته كفؤا ثم فجر لم يفسخ، وأما لو كان دباغا فصار تاجرا فإن بقي عارها لم يكن كفؤا وإلا لا. نهر بحثا.
 

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

5، رجب المرجب 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔