021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کا تعلیمی غرض سے صوتی ویڈیو بنانے اور اس کی کمائی کا حکم
76209جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا خواتین کے لیے گھر بیٹھے ایجو کیشنل ویڈیوز کا وائس اوور کر نا جائز ہے ، جبکہ اسے واقعی کمائی کی ضرورت بھی ہو ؟

o

واضح رہے کہ جس طرح خواتین  کا اپنے جسمانی اعضاء کو غیر محرم مردوں سے چھپانا ضروری ہے اسی طرح  اپنی آواز کو  بھی ان کے کانوں سے دور رکھنا شریعت کا حکم  ہے۔  چنانچہ  بلا ضرورت   عورت کا غیر محرم  مرد سے اس طرح بات  کرنا  کہ  جس سے   فتنہ اور فساد کا اندیشہ  ہو ممنوع ہے۔ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر واقعی کمائی کی کوئی دوسری بہتر صورت میسر نہ ہو تو ایجوکیشنل ویڈیوز  کا وائس اوور کرنے کی درج ذیل شرائط کے ساتھ  گنجائش  ہو گی۔

1. ویڈیوز کا مواد خالص ایجوکیشنل ہو ۔

2. اپنی  آواز  کو حتی الامکان بناوٹی نرمی سے دور رکھا جائے اور اس میں ایک قسم کی معمولی سی سختی پیدا کی جائے۔

3.  شرعی اور قانونی دونوں اعتبار سے جائز امور کی پابندی کی جائے۔  تعلیم کے نام پر بد عقید گی  اور غیر شرعی امور کے پھیلانے سے بچا جائے۔  

حوالہ جات

القرآن الكريم [الأحزاب: 32]: 
﴿يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾
حاشية ابن عابدين  :(1/ 406)
(قوله وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها - عليه الصلاة والسلام - من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

03/ رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔