021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سامان کا مالک بننے سے پہلے آگے فروخت کرنے کا حکم (قبضہ سے پہلے خردوفروخت)
75797خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اس مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ مثلاً زید نے عمر سے کوئی چیز خریدنا  چاہی  لیکن وہ فی الحال  اس کے پاس نہیں  تھی، تو عمر نے وہی چیز ابو بکر سے طلب کی اور ابو  بکر نے اسے اسی چیز کی تصویر بھیج کر قیمت 2000 روپے بتائی، البتہ ان دونوں نے ابھی  آپس میں بیع منعقد نہیں کی تھی  کہ عمر نے اسی چیز کی تصویر زید کو دکھائی اور قیمت 2200 بتائی اور بیع منعقد کرلی ا ور پھر عمر نے وہ چیز ابوبکر  سے 2000 میں لے کر زید کو 2200 میں بیچ دی تو کیا اس طرح خرید و فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

o

صورت مسئولہ میں زید کا عمر سے حتمی طور پر خرید و فروخت کا معاملہ کرنا شرعا درست نہیں ہے،  اس لئے کہ عمر معاملہ کے وقت چیز کا مالک نہیں ہے۔ شریعت میں بغیر ملکیت کے کسی چیز کا اپنے لئے  آگے فروخت کرنا ناجائز ہے۔ البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ زید عمر سے اس کی ملکیت اور قبضہ حاصل ہو جانے کے بعد خرید نے کا وعدہ کرلے یا پھر عمر پہلے ابوبکر سے سامان خرید کر قبضہ کرلے اور پھر زید سے حتمی  طور پر معاملہ کرلے۔

حوالہ جات

سنن النسائي :(7/ 289)
عن حكيم بن حزام قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، يأتيني الرجل، فيسألني البيع ليس عندي أبيعه منه، ثم أبتاعه له من السوق، قال: «‌لا ‌تبع ‌ما ‌ليس ‌عندك»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 146)
(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ولو باع المغصوب فضمنه المالك قيمته نفذ بيعه؛ لأن سبب الملك قد تقدم فتبين أنه باع ملك نفسه، وههنا تأخر سبب الملك فيكون بائعا ما ليس عنده فدخل تحت النهي، والمراد منه بيع ما ليس عنده ملكا؛ لأن قصة الحديث تدل عليه فإنه روي أن «حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها، ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري، ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال لا تبع ما ليس عندك» ، ولأن بيع ما ليس عنده بطريق الأصالة عن نفسه تمليك ما لا يملكه بطريق الأصالة، وأنه محال.
وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

5، رجب المرجب 1443ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔