021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کو گود لینے سے متعلق دو صورتوں کا حکم
75864جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی عورت نے اپنی بیٹی یا بیٹا اپنی بہن یا  بھائی کو یا کسی اور رشتہ دار کو  دے دیا شوہر کی اجازت کے بغیر اور بچے/بچی کی عمر بھی ایک سال سے کم ہو اور جس کو دیا ہے اس کو یہ بھی بتایا کہ یہ آج سے آپ کا ہوا ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کسی عورت نے اپنا بیٹا یا بیٹی شوہر کی اجازت سے کسی کو دے دیا، اس وقت بچے / بچی کی عمر ایک سال سے کم ہو اور جن کو دیا ہے اس گھر والوں نے اس بچی کو  رضاعت کی مدت میں اپنا دودھ بھی نہیں پلایا تو کیا یہ بچے/بچی رضاعت کے علاوہ اس کا بیٹا یا بیٹی بن سکتے ہیں؟

o

مذکورہ دونوں صورتوں میں بچہ اور بچی دونوں حقیقی اولاد شمار نہیں ہوں گے بلکہ لے پالک یعنی گود لئے  ہوئے بچے شمار ہوں گے  اور ان پر لے پالک بچوں کے احکام جاری  ہوں گے  جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ بچے/ بچی  کو اس کے حقیقی باپ کی طرف منسوب کیا جائے،  اپنا نام بطور سرپرست لکھا جائے۔

2۔ بچہ / بچی  حقیقی اور صلبی اولاد نہیں ہوتے، چنانچہ ان کا  وراثت میں اولاد کی حیثیت سے  کوئی حصّہ نہیں ہوتا۔

3۔ بچے گود لینے سے محرم نہیں بن جاتے، چنانچہ نا محرم ہونے کی صورت میں اگر لڑکا ہو تو بلوغت کے بعد ماں کا اس سے پردہ ہو گا اور اگر لڑکی ہو تو باپ کا اس سے پردہ ہو گا (الا یہ کہ باپ  اس کا محرم ہو)۔

4۔ اگر گود لینے والی عورت مدت رضاعت  یعنی2 سال سے کم عمر میں بچے/ بچی کو اپنا دودھ پلا دے تو وہ اس کی رضاعی ماں بن جائے گی پھر وہ  بچہ/ بچی محرم بن جائیں گے۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ والد کی اجازت کے بغیر محض یہ کہہ دینے سے کہ یہ بچہ آج سے آپ کا ہوا، اس بچے پر سے باپ کا حق ساقط نہ ہو گا اور نہ اس  طرح بچہ کسی کو گود دینا جائز ہو گا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم  [الأحزاب: 4-5]:
﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (٤) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴾
صحيح البخاري (5/ 156 ط السلطانية):
عن عاصم قال: سمعت ‌أبا عثمان قال: «سمعت سعدا، وهو أول من رمى بسهم في سبيل الله، وأبا بكرة، وكان تسور حصن الطائف في أناس فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالا: سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، وهو يعلم، فالجنة عليه حرام۔
الفتاوى الهندية (1/ 343):
‌يحرم ‌على ‌الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏7، رجب المرجب 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔