021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیس بک اور یوٹیوب کی کمائی کا حکم
75866جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص فیسبک یا  یوٹیوب  پر کام کرتا ہے اور پیسے کماتا ہے، تو   یہ پیسے اس کے لئے حلال ہیں یا حرام؟

o

فیسبک اور یوٹیوب کی کمائی حلال ہے یا نہیں اس کا مدار اس بات پر ہے کہ یوٹیوب اور فیسبک پر کیا جانے والے کام  شرعا جائز ہے یا نہیں ۔ عموماً فیسبک اور یوٹیوب کے ذریعے کمائی اپنے فیسبک پیج یا  یوٹیوب  چینل پر ویڈیوز اپلوڈ کر کے اور ان  پر اشتہارات چلا کر کی جاتی ہے جو کہ اشتہارات چلوانے والے اور فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیوز کے مالک کے درمیان اجارہ کے عقد کی صورت میں ہو تا ہے۔ اس   میں فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیوز کا مالک اپنے پیج یا ویڈیوز  پر اشتہار چلانے  کی جگہ اشتہار چلوانے والے کو اجارہ پر دیتا ہے۔ یہ اشتہارات تین طرح  کے ہوتے ہیں : (۱)تحریری، (۲)تصویری اور(۳) ویڈیو کلپ کی صورت میں۔ ان میں سے ہر ایک  اشتہار میں جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

(1) فیسبک پیج اور یوٹیوب چینل پر جو ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، وہ صرف جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہوں۔

(2) فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیوز پر جن کاروباروں کے اشتہارات چلائے  جا رہے  ہیں ان کا  کام شرعا جائز ہو۔  مثلاً سودی بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور اسی طرح فلموں اور گانوں کے اشتہارات نہ ہوں۔ چنانچہ اگر ایسے اشتہارات آجائیں تو ان کو  سیٹنگز میں جا کر  فلٹر  کر دیا  جائے۔

(3) کسی جائز کاروبار  کے اشتہار میں اگر کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر یا میوزک  وغیرہ شامل کر دیا جائے اور اس میں فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیو کے  مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہو گا۔ لہذا اگر کیٹگریز   فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر یا میوزک ) پر مشتمل ہو  تو اس کا گناہ فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیوز کے مالک کو نہیں ہو  گا،  البتہ اس صورت  میں بھی غیر شرعی مواد کے ذریعے جو آمدنی حاصل ہوئی ہے اس کو صدقہ کرنا ضروری ہو گا۔ البتہ  اگر مالک کی رضا مندی شامل ہو تو اس صورت میں آنے والی کل  آمدنی جائز نہ ہو گی ۔   

(4) اشتہارات  چلوانے والے اور فیسبک پیج یا یوٹیوب ویڈیوز  کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔

چنانچہ درج بالا امور  کا خیال رکھنے کے بعد فیسبک اور یوٹیوب کے ذریعے کی جانے والی کمائی حلال ہو گی۔

حوالہ جات

(الدر المختار و حاشية ابن عابدين، 6/392، ط: دار الفكر):
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.
قال فی الرد المحتار : " (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية۔۔۔."
(الفتاوی الھندیۃ، 4/450، ط: دار الفکر):
"وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط."
 فقہ البیوع علی  المذاہب  الاربعة(ج1 ، ص325، مکتبۃ المعارف کراچی):
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، إن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أن غالب استعماله في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمنية في بيعه مطلقا، إلا إذا تمحض لمحظور، ولكن نظرا إلى أن معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة إلا إذا هيأ الله تعالی جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح۔

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏7، رجب المرجب 1443 ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔